جوہری تعمیرات نہ روکیں تو ایران قیامت برپا کردیگا، ٹرمپ، یاہو ملاقات

0
7

واشنگٹن (پاکستان نیوز) ٹرمپ نے ایک بار پھر دھمکی دی کہ اگر جوہری تعمیرات جاری رکھی گئیں تو ایران پر قیامت برپا کردیں گے ۔ حماس نے غیر مسلح ہونے سے انکار کیا تو اسے قیمت چکانا ہوگی، غزہ سے اسرائیلی انخلا الگ معاملہ ہے، اس پر ہم بات کریں گے،پیوٹن کی رہائش گاہ پر یوکرینی حملے کا سن کر بہت برا لگا۔ ان خیالات کااظہار صدر ٹرمپ نے فلوریڈا میں اسرائیلی و زیر اعظم نیتن یاہو سے ملاقات سے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے کہا ہم نہیں چاہتے کہ بی ٹو بمبار بھیج کر اپنا ایندھن ضائع کریں، ایران کو معاہدہ کرلینا چاہیے۔ صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسرائیل کا ساتھ آخر تک جاری رکھنے کا اعلان کردیا۔ انہوں نے کہا اسرائیل ایک اہم عنصرہے،اسرائیل کی سپورٹ جاری رکھیں گے۔ صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو کو ساتھ کھڑا کرکے کہا کہ وہ جنگی حالات میں قیادت کرنے والے وزیر اعظم ہیں اور ایک ہیرو کے طور پر دیکھے جاتے ہیں، اس لئے معافی نہ دینے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔ ٹرمپ کے مطابق انہوں نے اسرائیلی صدر سے بات کی اور انہیں بتایا گیا کہ معافی کا عمل آگے بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا مغربی کنارے کے معاملے پر اسرائیل اور ترکیے میں تصادم کا خطرہ ہے۔ غزہ منصوبے کا دوسرا مرحلہ جلد شروع ہونے کی امید ہے۔ روسی صدر پیوٹن سے اچھی بات چیت ہوئی ہے تاہم یوکرین میں امن کیلئے ابھی کچھ پیچیدہ مسائل ہیں۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات پسِ پردہ خاصے بہتر ہوچکے ہیں اور وہ جلد ابراہیمی معاہدوں میں شامل ہو جائے گا۔ سعودی عرب نے وہ سب کچھ کیا ہے جس کی ہم توقع کرسکتے ہیں۔ ٹرمپ نے کہا امریکہ نے گزشتہ ہفتے وینزویلا میں “ڈاک ایریا” پر حملہ کیا جہاں مشتبہ منشیات سمگلرز کشتیوں میں منشیات لوڈ کرتے ہیں۔ دریں اثنا امریکی ویب سائٹ ” ایکسیوس ” نے بتایا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے وفود کی ملاقات کے دوران صدر ٹرمپ اور سینئرمشیروں نے نیتن یاہو سے مغربی کنارے میں اپنی پالیسی تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا ۔ مزید برآں امریکی وزارتِ دفاع پینٹاگون نے اعلان کیا ہے کہ امریکی طیارہ ساز کمپنی بوئنگ کو اسرائیل کے لیے جدید ایف ۔ 15لڑاکا طیاروں کی فراہمی کا 8.6 ارب ڈالر کا بڑا معاہدہ دے دیا گیا ہے۔ معاہدے کے تحت اسرائیلی فضائیہ کے لیے 25 نئے ایف-15 آئی اے جنگی طیارے تیار کیے جائیں گے۔ مزید 25 طیاروں کا آپشن بھی شامل ہے۔ منصوبے کی تکمیل 31 دسمبر 2035 تک متوقع ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here