امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ بورڈ آف پیس کے قیام اور اس کے ارکان کے اعلان کے بعد غزہ میں جنگ بندی اور ممکنہ امن عمل ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ بظاہر یہ پیش رفت اس تاثر کو مضبوط کرتی ہے کہ واشنگٹن اب محض جنگ بندی تک محدود نہیں رہنا چاہتا بلکہ غزہ کے عبوری نظم و نسق، تعمیرِ نو اور طویل المدت سیاسی حل کی طرف بڑھنا چاہتا ہے۔ تاہم اس بورڈ کی تشکیل، اس کے کردار اور اس میں شامل شخصیات کے پس منظر پر نظر ڈالی جائے تو کئی بنیادی سوالات جنم لیتے ہیں جو اس منصوبے کی ساکھ اور افادیت پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔ صدر ٹرمپ کا خود کو غزہ بورڈ آف پیس کا چیئرمین مقرر کرنا اس حقیقت کی علامت ہے کہ یہ منصوبہ امریکی صدارت کے براہِ راست سیاسی سایے میں آگے بڑھے گا۔ اس کے ساتھ سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلئر، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف جیسی شخصیات کی شمولیت اس امر کو واضح کرتی ہے کہ فیصلہ سازی کا محور مکمل طور پر مغربی اور بالخصوص امریکہ نواز نقطہ نظر کے گرد گھومے گا۔ عالمی بینک کے صدر اجے بانگا اور سرمایہ کاری ماہر مارک روون کی موجودگی یہ پیغام دیتی ہے کہ غزہ کے مستقبل کو بڑی حد تک اقتصادی بحالی، سرمایہ کاری اور مالیاتی نظم کے زاویے سے دیکھا جا رہا ہے، جبکہ سکیورٹی امور کے لیے امریکی قومی سلامتی کے ڈھانچے سے وابستہ رابرٹ گبریل کی شمولیت طاقت کے استعمال اور کنٹرول کے پہلو کو نمایاں کرتی ہے۔یہ تمام عناصر مل کر ایک ایسا بورڈ تشکیل دیتے ہیں جو انتظامی، مالی اور سکیورٹی معاملات میں مضبوط نظر آتا ہے، مگر سیاسی اور اخلاقی توازن کے حوالے سے کمزور دکھائی دیتا ہے۔ سب سے بڑا اعتراض یہی ہے کہ اس پورے ڈھانچے میں فلسطینی عوام کی حقیقی اور موثر نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہے۔ ڈاکٹر علی شعث جیسے ٹیکنوکریٹ کی تقرری اگرچہ روزمرہ انتظامات کے لیے اہم ہو سکتی ہے، مگر یہ فلسطینی سیاسی قیادت، عوامی رائے اور مزاحمتی بیانیے کا متبادل نہیں بن سکتی۔ امن محض نظم و نسق یا سرمایہ کاری سے نہیں آتا، بلکہ انصاف، شمولیت اور خود اختیاری کے احساس سے جنم لیتا ہے۔ اس بورڈ پر جانبداری کے الزامات بھی نظر انداز نہیں کیے جا سکتے۔ مارکو روبیو، ٹونی بلئر اور جیرڈ کشنر ماضی میں اسرائیل نواز موقف کے حوالے سے جانے جاتے رہے ہیں۔ ایسے میں فلسطینی حلقوں میں یہ خدشہ فطری ہے کہ غزہ بورڈ آف پیس کہیں اسرائیلی سکیورٹی کو مرکزیت نہ دے ، جبکہ فلسطینی جانوں، حقوق اور سیاسی مطالبات کو ثانوی حیثیت حاصل رہے۔ اکتوبر سے جاری جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی کارروائیوں میں چار سو چالیس سے زائد فلسطینیوں کی شہادت، جن میں ایک سو سے زیادہ بچے شامل ہیں، اس بات کا ثبوت ہے کہ زمینی حقائق اور سفارتی دعووں میں واضح خلیج موجود ہے۔ صدر ٹرمپ اب تک اسرائیل کو جنگ بندی کی مکمل پابندی پر آمادہ نہیں کر سکے، جو اس بورڈ کی اخلاقی قوت کو چیلنج کرتا ہے۔ دوسرے مرحلے میں درپیش چیلنجز غیر معمولی طور پر پیچیدہ ہیں۔ حماس کو غیر مسلح کرنا، اسرائیلی فوج کی واپسی اور بین الاقوامی امن فوج کی تعیناتی ایسے معاملات ہیں جن پر نہ صرف فریقین کے درمیان شدید اختلافات ہیں بلکہ علاقائی اور عالمی طاقتیں بھی مختلف زاویوں سے اثرانداز ہو رہی ہیں۔ اگر ان فیصلوں میں طاقت کا توازن یکطرفہ رہا تو امن کے بجائے ایک نیا اضطراب جنم لے سکتا ہے، جس میں غزہ ایک بار پھر تجربہ گاہ بن جائے گا۔اس تناظر میں سوال یہ ہے کہ یہ بورڈ واقعی امن کیسے قائم کرے گا؟ اگر امن کا مطلب محض خاموشی، کنٹرول اور محدود خود مختاری ہے تو شاید یہ ماڈل کچھ عرصہ چل سکے، اگر مقصد پائیدار امن، باوقار زندگی اور سیاسی حل ہے تو اس کے لیے بنیادی اصلاحات ناگزیر ہیں۔ سب سے پہلے بورڈ کی ساخت میں واضح تبدیلی کی ضرورت ہے، جس میں فلسطینیوں کی نمائندگی محض انتظامی نہیں بلکہ فیصلہ کن سطح پر ہو۔ منتخب فلسطینی قیادت، سول سوسائٹی اور غزہ کے سماجی دھڑوں کو اس عمل میں شامل کیے بغیر کوئی منصوبہ دیرپا نہیں ہو سکتا۔ دوسری اہم تجویز یہ ہے کہ جنگ بندی کی خلاف ورزیوں پر غیر جانبدار اور موثر نگرانی کا نظام قائم کیا جائے، جس میں اسرائیل اور حماس دونوں کو یکساں طور پر جوابدہ بنایا جائے۔ جب تک طاقت کے استعمال پر واضح حدود اور نتائج طے نہیں ہوں گے، امن کا بیانیہ کھوکھلا رہے گا۔ تیسرا پہلو یہ ہے کہ اقتصادی بحالی کو سیاسی حقوق سے الگ نہ کیا جائے۔ سرمایہ کاری اور تعمیرِ نو اسی وقت ثمر آور ہو سکتی ہے جب فلسطینیوں کو یہ یقین ہو کہ یہ سب ان کی اپنی زمین، ان کے مستقبل اور ان کی مرضی کے مطابق ہو رہا ہے۔ غزہ بورڈ آف پیس اس وقت ایک ایسے چوراہے پر کھڑا ہے جہاں سے دو راستے نکلتے ہیں۔ ایک راستہ طاقت، کنٹرول اور محدود استحکام کا ہے، جو وقتی سکون تو دے سکتا ہے مگر دیرپا امن نہیں۔ دوسرا راستہ شمولیت، انصاف اور توازن کا ہے، جو مشکل ضرور ہے مگر خطے کو ایک حقیقی حل کی طرف لے جا سکتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ بورڈ میں کتنے طاقتور نام شامل ہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا اس میں اتنی اخلاقی جرات اور سیاسی وسعت موجود ہے کہ وہ غزہ کے عوام کو محض ایک مسئلہ نہیں بلکہ ایک فریق تسلیم کر سکے۔ اگر یہ توازن قائم نہ ہو سکا تو غزہ بورڈ آف پیس امن کا استعارہ بننے کے بجائے ایک اور ناکام تجربہ ثابت ہو سکتا ہے۔
٭٭٭















