جنگِ عظیم دوئم کے بعد جب امریکہ اپنی تنہائی پسندانہ پالیسی ترک کر تے ہوئے یورپ کی استعماری ریاستوں کے متبادل کے طور پر ایک عالمی طاقت بن کر ابھر رہا تھا تودنیا بھرکی محکوم قومیں اسے آزاد دنیا کے قائد اور جمہوریت اور انسانی حقوق کے علمبردار کے طور پر دیکھ رہی تھیں۔ 1823ء میںصدرجیمز منرو نے جو ڈاکٹرائن دیا اس کا کلیدی مقصد یورپی طاقتوں کو لاطینی امریکی ممالک کو کالونیاں بنانے سے روکنا تھا۔چنانچہ جنگ عظیم دوئم ختم ہوئی تو امریکہ نے یورپی ملکوں کو دنیا بھر میں پہلے سے موجودکالونیوں کو آزاد کئے جانے پراصرار شروع کر دیا۔ خود برصغیر پاک و ہند کی قبل از وقت آزادی کے پیچھے برطانیہ پرامریکی دبائو کارفرما رہا۔ پاکستان بننے سے پہلے ہی قائدِ اعظم امریکہ کے ساتھ قریبی تعلقات کے خواہشمند تھے ۔ چیئرمین مائو نیشنلسٹوں کے خلاف جنگ جیتنے میں کامیاب ہو ئے تو انہوں نے امریکہ کو چین سمیت نو آزاد قوموں کے لئے امید قرار دیا۔ ٹرمپ کی طرح اقتدار کی مسند پر بیٹھنے کیلئے پہلوی خاندان کے فرزند رضا شاہ پہلوی اسرائیل کے چوٹی کے ربیوں کے ساتھ سر پر مخصوص ٹوپی پہنے یہودی ربیوں کے ہمراہ دیوار گریہ پر ٹکریں مارنے کے بعد عالمی میڈیا کے ہجوم میں سامان سفر باندھے اسرائیلی جہاز کی سیڑھیوں کے قریب اڑان بھرنے کیلئے تیار نظر آنے لگے لیکن اچانک نہ جانے کیا ہوا کہ امریکہ اسرائیل اور یورپی یونین کا تیار کر دہ ٹائی ٹینک قم میں صدر خامنہ ای کے حق میں نکلنے والی تیز اور خوفناک سمندری لہروں کو نظر ہوگیا۔ قم اور ایران کے دوسرے بڑے شہروں میں امریکہ مخالف نکالی گئی ریلیوں نے اسرائیلی مہرے کے خوابوں کو لگتا ہے کہ فی الحال ڈبو دیا ہے۔ ان ریلیوں میںایران کی بہت بڑی اکثریت پاسداران انقلاب کے حق میں مرگ بر امریکہ اور اسرائیل کے فلک شگاف نعروںسے گونجنے لگی ۔ اسرائیلی مہرے فی الحال خاموش ہو کر نئی چال چلنے کی تیاریوں میں ہیں اور لگتا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل ایران کے خلاف حملوں کیلئے نئے مورچوں کی کھدائی کے انتظامات کر رہے ہیں۔ پاکستان اور اس کی گوادر بندرگاہ اور آبنائے ہرمز جسے چینیوں نے اربوں ڈالر اور اپنے سینکڑوں ورکروں کی قربانیاں دینے کے بعد تیار کیا وہ اس سے چھیننے جا رہا ہے کیونکہ امریکہ اب کسی صورت نہیں چاہ رہا کہ چین گوادر کو استعمال کرے یا آبنائے ہرمز میں اسے کوئی روکنے والا نہ ہو۔ اس لئے یاد رکھئے گا کہ پہلوی خاندان کا باجگزار چاہ بہار سمیت ایرانی سمندر صرف امریکہ کیلئے وقف کرنے کیلئے لانے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔اب یہ تو کسی سے بھی پوشیدہ نہیں رہا کہ امریکہ یورپ اور اسرائیل سمیت ان کے اتحادی ایران میں خامنہ ای حکومت کا تختہ الٹنے کیلئے متحد ہو چکے ہیں اوران کی مدد سے چلائی جانے والی یہ تحریک اس قدر پرتشدد تھی کہ ایران کے ہر شہر ، سرکاری دفاتر اہم عمارات اور حکومت سے تعلق رکھنے والوں کے گھروں کو جلادیا گیا۔ کہنے کو تو یہ مہنگائی کے نام سے شروع کرائی گئی تھی لیکن نادان دوست ٹرمپ کی بونگیوں اور ایرانی لیڈروں کو خوفناک دھمکیوں کی صورت نے سب کو بتا دیا کہ مہنگائی تحریک کے پیچھے کون ہے۔ اس میں تو شک کی گنجائش ہی نہیں کہ ایسے لگ رہا تھا کہ پورا ایران تباہی و بربادی پھیلاتا ہوا خامنہ ای اور پاسداران انقلاب کو کچلتا ہوا بے قابو ہو کر باہر نکلا توحالات کنٹرول سے باہر ہونے کے نام پر ایرانی فوج میں سے کچھ جنرل یا پاسداران انقلاب کا کوئی حصہ امریکی سی آئی اے کے اشارے پر ملک کا کنٹرول سنبھال لے گا ۔ اگلی ہرجنگ سمندر اور زمین کی ان گذر گاہوں کیلئے لڑی جائے گی جہاں خزانے موجود ہوں گے اور مئی میں بھارت اور پاکستان کے درمیان تین دنوں کی سیٹلائیٹ اور میزائلوں کی جنگ دیکھ ہی چکے ہیں۔ ایران میں اس وقت ہلکی سی خاموشی ہے جبکہ گرین لینڈ کے معاملے پر یورپی یونین جو دو حصوں میں تقسیم ہوتی دکھائی دے رہی ہے وہ روس کو یوکرین کے خلاف فیصلہ کن کاروائی کا موقع فراہم کر سکتی ہے۔ خامنہ ای کے خلاف طویل غور و خوض کے بعد تیار کی جانے امریکی تحریک فوری ناکام نہیں ہو سکتی کیونکہ امریکہ رجیم چینج کا بگل بجانے سے پہلے الفا، براوو اور چارلی جیسی ہر قسم کی تیاریاں کرتا ہے ۔کچھ تجزیہ کار اور آزاد بین الاقوامی میڈیا کا کہنا ہے کہ لگتا ہے کہ امریکی سپانسرڈ تحریک یا تو کمزور ہو گئی ہے یا اس میں کچھ وقفہ لیاگیا ہے۔ اسرائیل کیلئے ایران کی موجو دہ قیادت زندگی اور موت کا مسئلہ بن چکی ہے اس لئے وہ امریکہ کو کبھی بھی ہاتھ ہولا رکھنے کا مشورہ نہیں دے گا کیونکہ افریقہ سے لے کر ایشا تک جس ملک میں بھی سول جنگوں اور خونی فسادات برپا کر کے گھنائونی سازشوں سے کوئی تبدیلی لائی گئی اس میں براہ راست امریکہ اور اسرائیل کا ہاتھ سامنے آ رہا ہے اور یہ ثابت ہو چکا ہے کہ امریکہ اگر یورپی یونین اور برطانیہ کو سیا سی اور مالی پریشر کیلئے استعمال کرتا ہے تو اسرائیل اس کیلئے آرمرڈ کور اور انٹیلجنس کا کام دیتا ہے ۔ اس وقت بظاہردنیا کے ہر خطے میں جنگ شروع ہے لیکن اس کا انداز بدلا ہوا ہے کیونکہ اب کنونشنل یعنی براہ راست حملہ آور ہونیکی بجائے بڑے ہی ٹیکنیکل طریقے سے مقابل یا اپنے نشانے کواس کی ملکیت میںظاہر اور چھپے ہوئے خزانوں کو ہتھیانے کیلئے وار کئے جا رہے ہیں اور اس کی مثال وینز ویلا اوراب گرین لینڈ کی صورت میں سامنے ہے۔ ایران، عراق، نائیجیریا ،صومالیہ، شام، یمن اور حال ہی میں ایران پر سکیورٹی کونسل کی کسی قرارداد کے بغیر شرمناک جارحیت کی گئی۔ لاطینی امریکی ممالک میں کہ جنہیںامریکہ اپنا بیک یارڈ قرار دیتا ہے، سی آئی اے کی مدد سے حکومتوں کے تختے الٹے جانے کی روایت پرانی ہے۔ صدر کاستروپر براہِ راست قاتلانہ حملے کے علاوہ امریکہ میں مقیم کیوبن شہریوں کے ذریعے ان کی حکومت کا تختہ الٹے جانے کی احمقانہ کوشش کیوبن میزائلز کرائسس کی بنیاد بنی۔ چلی میں سیلواڈور آلنڈے نامی ایک پرکشش اور مقبول منتخب لیڈر کو فضائی حادثے میں مروا کر جنرل پنوشے نامی ظالم آمر کو عشروں کے لئے قدرتی وسائل سے مالا مال ملک پر مسلط کر دیا گیا۔ گوئٹے مالا،گریناڈا، اور پاناما میں بھی حکومتوں کے تختے مختلف ادوار میں اِسی بنا پر الٹے گئے کہ معتوب حکمران امریکی کمپنیوں کی اجارا داری قبول کرنے کو تیار نہیں تھے۔ پاناما کے نوریگا کو حال ہی میں اغوا کئے گئے وینزویلاکے صدر ماڈورو کی طرح امریکہ لا کر ان پر منشیات کی سمگلنگ کے جرم میں مقدمہ چلا یا گیا۔ وینزویلا میں حکومت گرائے جانے کی امریکی سازشیں گذشتہ بیس برسوں پر محیط ہیں۔ تاہم اس عرصے میں کچھ پردہ داری سے کام لیا جاتا رہا۔ منرو ڈاکٹرائن کی نئی تشریح اور صدر ماڈورو کے اغوا کے بعدمگر صدر ٹرمپ نے بغیر لگی لپٹی رکھتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وینزویلا کے تیل کو اب امریکہ کنٹرول کریگا۔ وینزویلا پر امریکی جارحیت کے بعد اقوامِ متحدہ کی سٹی گم ہے۔ یورپی ممالک میںسے اکثر زیرِ لب بڑبڑاتے رہے۔ تاہم اس کے فورا بعد جب صدر ٹرمپ نے دو ماہ کے اندرگرین لینڈ پر قبضے کی بات کی تو وہی یورپی ممالک اب عالمی قوانین کی بلند آہنگ دہائی دے رہے ہیں۔ دو ہزارسال پہلے رومن جنرلمیگنس نے رومن سول وار کے دوران ایک شہر کا محاصرہ کیا تو شہر والوں نے اسے رومن لا کا حوالہ دیا۔ صدر ٹرمپ تو مشرقِ وسطی میں اپنی دلچسپی کم ہو جانے کے بعد ایران کے معاملے میں بھی الجھنے کی کوئی خواہش نہیں رکھتے ہوں گے۔ تاہم صہیونی لابی ایران میں رجیم چینج کے نتیجے میں نیتن یاہو کو انتخابات جتوانے پر مصر ہے۔ صدر ٹرمپ کو مگر نیتن یاہو سے زیادہ اپنے ہاں نومبر میں مڈٹرم انتخابات کی فکر لاحق ہے۔ امریکہ میں بسنے والے وہ لاکھوںپاکستانی، لاطینی اور عرب نژاد امریکی ووٹر کہ جنہوں نے صدر ٹرمپ کو امریکی ڈیپ سٹیٹ کاحریف سمجھتے ہوئے ووٹ دیئے تھے،امکان یہی ہے کہ اب کی بار ان پر اعتماد کرنے سے پہلے سو بار سوچیں گے۔ایران میں رجیم چینج کا ارادہ کرنے سے پہلے صدر ٹرمپ بھول گئے کہ تما م ترصہیونی سازشوں، بندشوں اور معاشی مشکلات کے باوجود ایرانی عوام کی اکثریت اب بھی اپنی حکومت کے ساتھ کھڑی ہے۔پاسداران ِ انقلاب اور بسیج کے دس لاکھ افراد پر مشتمل اندرونی سیکیورٹی حصارمیںاب تک نقب نہیں لگائی جا سکی۔ ویننزویلا سمیت کئی دیگر ایسے ممالک کے برعکس کہ جہاں حالیہ برسوں میں منتخب حکومتوں کواندرونی عناصر کی مدد سے گھر بھیجا گیا، ایران کے معاملے میں امریکی صدرکے عالمی اخلاقیات سے گرے ہوئے ٹویٹس اور دھمکیاں بے اثر رہے ہیں۔ایرانی حکومت خود اپنے بوجھ سے گرے تو گرے، صدر ٹرمپ کے پاس اسے گرانے کا فوری حل اب ننگی جارحیت ہی بچا ہے۔ حالیہ تاریخ کا نچوڑ مگر یہی ہے کہ ہر رجیم چینج کے بعد متاثرہ قوموں کا سماجی ڈھانچا بکھرتا ہے تووہیں ان معاشروں میں سیاسی بے چینی ، انتہاپسندی اور امریکہ کے خلاف نفرت فروغ پاتی ہے۔دوسری طرف اخلاقیات سے عاری اِس عالمی نظام میں خود کو امریکا کا اتحادی سمجھنے والے حکمران اپنے ملکوں میں عوام پرآمریت، جبراور لا قانونیت مسلط کرنے میں خود کو آزاد سمجھنے لگتے ہیں۔
٭٭٭














