شاہ پُتر شاہ کیلئے پر تول رہے ہیں!!!

0
1
حیدر علی
حیدر علی

مضحکہ خیز امر یہ ہے کہ ابھی چکن بریانی چولہے پر چڑھی ہوئی ہے ، نہ ہی اِس کی بوٹی ملائم ہوئی ہے اور نہ ہی پانی خشک ہوا ہے ، اور نہ ہی مولانا نے فاتحہ پڑھا ہے ، لیکن اِس سے قبل معزز لوگوں نے اپنی اپنی پلیٹیں لے کر چولہے کے گرد جمع ہوگئے ہیں اور ہر کوئی یہ کہہ رہا ہے کہ پہلے ہم، پہلے ہم اِسی گتھم گھتا میں ایک شخص ڈنڈے لیے ہوئے سب پر برس پڑتا ہے اور چیخ چیخ کر سب کو مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے کہ چکن میں خرید کر لایا ہوں، چکن اور چاول میں گھی ڈال کر میں نے چولہے پر چڑھایا ہے ، لہٰذا میرا حق سب سے زیادہ ہے ، میں ہی سب سے پہلے چُن چُن کر بوٹی نکالونگا، اور سیر ہوکر کھاؤنگا،کچھ یہی صورتحال ایران میں مظاہرین کی جدوجہد کی ہوگئی ہے، قربانیاں جنہوں نے دیں تھیں اُنکا خون بھی نہیں خشک ہوا ہے ابھی ،یہ بھی پتا نہیں چلا ہے کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا ؟ لیکن مختلف گوشوں سے یہ سرگوشیاں سنائی دینے لگی ہیں کہ اقتدار اعلیٰ کا حقدار وہ ہیں،اِسی نقار خانے میں اُبھر رہا ہے چہرا رضا پہلوی کا جن کے آباؤاجداد 47 سال قبل ایران میں بادشاہت کے علمبردار تھے۔ایک طویل عرصے سے رضا پہلوی اپنے آپ کو ایران میں پیشواؤں جو وہاں بر سر اقتدار ہیں اُن کے مخالف کے طور پر پیش کیا ہے لیکن ایرانیوں کے مابین یہ ایک انتہائی متنازع مسئلہ ہے، خصوصی طور پر جب اُن کے والدشاہ محمد رضا پہلوی کے ظالمانہ دور کی یاد تازہ ہو تی ہے، گزشتہ دو ہفتوں سے ایرانی عوام کا جم غفیر جوق در جوق مظاہرے میں شرکت کر رہا ہے واضح طور پر ایران سے اسلامی جمہوریہ کے خاتمے کا نعرہ لگا رہا ہے، انسانی حقوق کی تنظیمیں جو اعداد و شمار پیش کر رہی ہیں اُس کے تحت پانچ ہزارسے زائد جمہوریت کے دلدادہ شہید اور لاکھوں گرفتار کر لئے گئے ہیں، مظاہرین جن کی فلمیں بنائی گئی ہیں اُنہیں اُن جھنڈوں کو جو شاہ رضا پہلوی کے دور میں لہرایا جاتا تھا اُسے لئے ہوے دیکھا جاسکتا تھا، بعض مظاہرین رضا پہلوی زندہ باد کا نعرہ لگا رہے ہیں ، لیکن بعض کسی قسم کی بھی مطلق العنایت کو مسترد کررہے ہیں اور اُن کا نعرہ ظالم کی موت ہو ، چاہے وہ شاہ ہو یا سپریم لیڈر ہوتاہم یہ ایک حقیقت ہے کہ گزشتہ جمعرات کے دِن مسٹر رضا پہلوی اور ایران کے حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے متعدد گروپوں نے کثیر الوسیع مظاہروں کی اپیل کی تھی، جسے نہ صرف شہر کے لوگ بلکہ گاؤں ، دیہات اور دور دراز کے لوگوں نے بھی لبیک کہا تھا۔مسٹر رضا پہلوی کی عمر 65 سال کی ہے اور اُن کی پیدائش تہران کی ہے،اُن کے والد شاہ محمد رضا پہلوی نے تین شادی کی تھی، اُن کی پہلی بیوی ایک مصری شہزادی تھی جس سے ایک لڑکی رضا پہلوی کی بہن شہناز کی پیدائش ہوئی تھی، رضاپہلوی تیسری بیوی فرح دیبا کی اولاد ہیں ،وہ پانچ بہن بھائی کے مابین سب سے زیادہ عمر دراز ہیں ، اِسلئے وہ شہنشاہ کے خاندان کے ولی عہد نامزد ہوئے تھے، اُن کے خاندان کا نظام حکومت روز اول سے سیکولر زم رہا تھا، اور وہ لوگ امریکا کو ہمیشہ اپنا سرپرست سمجھتے تھے لیکن اُس مطلق العنانیت کے دور میں ایران کی سیکیورٹی کے اہلکار پابندی سے مخالفین کو گرفتار اور تشدد کا نشانہ بنایا کرتی تھی، اور جس کی رضا پہلوی نے نہ کبھی مذمت کی ہے اور نہ ہی اُس سے چھٹکارا حاصل کرنے کا کوئی نسخہ کیمیا پیش کیا ہے،وہ شادی شدہ اور تین بیٹیوں کے باپ ہیں، اُنہوں نے کیلیفورنیا کی ایک یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی ہے لیکن قطع نظر اِن روشن پہلوؤں کے جلاوطنی کا سایہ اُن کے سر پہ ہمیشہ منڈلاتا رہتا ہے، افسوسناک امر یہ ہے کہ رضا پہلوی نے تاہنوز ایران کے اسلامی جمہوریہ کے مخالفین یا گروپوں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کرنے میں ناکامیاب رہے ہیں، مبصرین کی رائے میں ایران کی نئی اور پرانی نسل کے مابین شدید اختلافات ہیں، پرانی نسل اُن ہی پرانی روایات کی پروردہ ہے اور نئی نسل ہر شعبہ حیات میں تبدیلی کی خواہاں ہے، وہ کسی بھی نئی حکومت کو خوش آمدید کہہ سکتی ہے جو موجودہ حکومت کا تختہ اُلٹ کر مسند اقتدار پر متمکن ہوجائے،تازہ ترین صورتحال یہ ہے کہ امریکا اور ایران کے مابین جنگ شروع ہونے سے قبل ہی بند ہوگئی ہے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہر گھنٹے یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ اُنہوں نے 800 ایرانی نوجوانوں کو تختہ دار پر لٹکنے سے بچالیا، اور اصلی نوبل پرائز کے مستحق ہیںتاہم ایرانی حکومت نے انٹرنیٹ کی سروس کو منقطع کردیا ہے ، اِسلئے اِس امر کا اندازہ لگانا دشورار ہے کہ ایران میں احتجاج کس پیمانے پر جاری ہے اور تاہنوز کتنی جانیں ضائع ہورہی ہیںلیکن موجودہ صورتحال میں امریکا کا ایران پر کوئی حملہ آف دی ٹیبل ہے لیکن قطر جو خلیج فارس کا ایک چھوٹاسا ملک ہے وہاں سے امریکاکی بنیادی ضروریات کیلئے کام کرنے والے افراد کا انخلاء جاری ہے،اِسے دونوں ملکوں کے مابین کشیدہ صورتحال سے تعبیر کیا جاسکتا ہے، واضح رہے کہ قظر ، عمان اور سعودی عرب نے امریکا اور ایران کے مابین جنگ کو رکوانے میں اہم کردار ادا کیا تھااگر صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران پر حملے کا حکم دیتے ہیں تو اِس کے باوجود اُن کے اختیارات محدود ہونگے،امریکا نے اپنا بحری بیڑا جیرالڈ فورڈ کو مشرق وسطیٰ سے کیریبین منتقل کردیا ہے لیکن نیوی کے پاس میزائل پھینکنے والے تین ڈیسٹرائیورز تاہنوز ہیں،امریکی انٹیلی جنس نے یہ تخمینہ لگایا ہوا ہے کہ اگر امریکا ایران پر حملہ آور ہوتا ہے تو ایران مشرق وسطیٰ میں متعین امریکی اڈوں پر حملہ کردے گا،اِس طرح جنگ کی آگ سارے مشرق وسطیٰ میں پھیل جائیگی۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here