دنیا کی قدیم تہذیبوں کا حامل، صدیوں پرانی بادشاہتوں کی سلطنت، سکندراعظم متوحہ ریاست پہلونوں اور پہلوانوں کا اکھاڑہ یہودیوں کی غلامی کی نجات دہندہ عدل وانصاف کی مثال قیصروں کے مدمقابل کسر کی طاقت ملک ایران دنیا کی قدیم اور تاریخی مقامات کہلاتا ہے جس پر گزشتہ سات دہائیوں سے بادشاہوں اور انقلابیوں جنگ جاری ہے کہ جب 1951 میں نیشنل فرنٹ کے رہنما ڈاکٹر مصدق نے بادشاہت کا خاتمہ کرکے ملک میں منتخب سویلین حکومت قائم کی تو ان کی پوری مغربی دنیا میں مخالفت بڑھ گئی جن کو امریکی سی آئی اے اور برطانوی احساس اداروں نے مقامی سازشی ٹولوں کی مدد سے ایرانی سویلین حکومت ختم کرکے ملک میں دوبارہ پہلوی بادشاہت قائم کردی جس میں موجودہ فلاں اور پہلوان پیش پیش تھے۔ ڈاکٹر مصدق کا جرم پر یہ تھا کہ انہوں نے عراق کی طرح تمام نجی اور غیر ملکی تیل کی کمپنیوں کو نیشنلائز کر دیا تھا جو امریکہ، برطانیہ اور دوسرے لوٹ کھسوٹ کے وزیر ممالک پر گراں گزار تھا۔ چنانچہ ڈاکٹر مصدق کی حکومت پر بادشاہت کے قبضے کے بعد ملک میں نیشنل فرنٹ اور تو وہ پارٹی کے کارکنوں نے ایک طویل جدوجہد کا آغاز کیا جس نے آخر کار 1979 میں بادشاہ رضا شاہ پہلوی کو ایران سے بھاگنے پر مجبور کردیا۔ جن کی بھگوڑت میں جلاوطن امام خمینی کا بھی کردار تھا۔ جو ساٹھ کی دہائی میں ایران سے جلاوطن کر دیئے گئے تھے جنہوں نے پہلے ترکی پھر عراق میں پناہ لے رکھی تھی جب ایران کے بادشاہ نے عراق کو مجبور دیا کہ وہ امام خمینی کو ملک بدر کردیں تو پھر امام خمینی فرانس چلے گئے یہاں آخری دن تک جلاوطنی میں گزارے جن کی حفاظت پی ایل او کے مجاہدین نے کی تھی ورنہ ایرانی ساوک احساس ادارہ انہیں جان سے مار دیتا۔ جس کی وجہ سے موجودہ ایرانی ملاں حکومت فلسطینی عوام پر مسلط ظلم وستم، قتل وغارت گری کی مخالفت کر رہی ہے تاہم ایرانی آخری بادشاہ رضا شاہ پہلوں کے ملک بھاگنے کے بعد نیشنل فرنٹ اور تودہ کمیونسٹ پارٹی کی بجائے ملک پر پہلے فوج نے قبضہ کرلیا۔ پھر قم کے ملائوں نے فوج کو مار بھگا کر پورا قبضہ کرلیا۔ جن کی بنا پر دنیا کا واحد انقلابی شخص امام خمینی جو نسلاً بھارتی تھے وہ بزور طاقت ایران میں داخل ہوا جنہوں نے اس تبدیلی کو ایرانی انقلاب کا نام دیا۔ امریکی سفارت خانے کے اہلکاروں اور عہدیداروں کو گرفتار کرلیا جنہوں نے بادشاہ رضا شاہ پہلوں کی ہر طرح کی حمایت کی تھی۔ جب اقوام متحد کے سیکرٹری جنرل کورٹ ورلڈ ہائم امریکی سفارت کاروں کی رہائی اور یرغمالی کے سلسلے میں ایران پہنچے تو انہیں ایک طویل قطار میں ان لوگوں کو دیکھایا گیا جن کے بادشاہ کے دور بربریت میں ہاتھ پائوں کاٹے ہوئے تھے جس کو دیکھ کر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بہت افسردہ ہو کر واپس چلے آئے چونکہ ایرانی ملائوں کی حکومت امریکہ سے اپنے ملک کے جمع شدہ اثاثوں کی واپسی کا مطالبہ کر رہے تھے اس لیے یرغمالی کا سلسلہ طوالت پکڑ گیا جو آخر کار صدر ریگن کے وقت طے پایا تھا جس میں ملاں حکومت نے خمینی کارٹر کی صدارت کو نقصان پہنچایا تھا۔ بہرکیف ایران پر مغربی دنیا نے ہر طرح کی پابندیاں لگا دی جس کی تیل وگیس کی دولت ناکارہ ہو کر رہ گئی پابندیاں اس لیے کامیاب ہوئیں کہ نوے کی دہائی میں سابقہ سوویت یونین تحلیل ہوگیا۔ جس میں تبدیلی آگئی جس سے پوری دنیا کا نظام سامراجی طاقتوں کے قبضے میں آگیا دنیا میں نیو ورلڈ کے تحت عراق لیبیا، افغانستان اور شام تباہ برباد ہوگئے سامراجی طاقتوں کا سرمایہ داری نظام مضبوط سے مضبوط ہوتا گیا جو آج پوری دنیا پر غالب ہے جس کی اجارہ داری پوری دنیا میں چھائی ہوئی ہے جو اب آپس میں گھتم گھتا نظر آرہا ہے کہ آج مغربی اور امریکی طاقتیں بھی ایک دوسرے کی دشمن بن چکی ہیں۔ بہرحال ایران اور افغانستان عراق لیبیا اور شام میں حقیقی انقلابیوں کی بجائے ملائیت کا قبضہ ہوچکا ہے۔ جو مذہب کی آڑ میں انسانی آزادی کے دشمن بن چکے ہیںجو عقل سے پیدل طبقہ ہے جنہوں نے اپنے اپنے ملکوں کو تباہ وبرباد کر ڈالا ہے کہ ایک طرف ایران پر ملاںّ دوسری طرف افغانستان پر مجاہدین اور طالبان قابض چلے آرہے ہیں جبکہ شام پر بھی سابقہ داعش کا لیڈر قابض ہوچکا ہے جس میں ایران شدید مسائل میں پھنسا ہوا ہے جن پر کسی بھی وقت دوبارہ جنگ مسلط ہو سکتی ہے جس کے لئے ایران کو اپنے عوام کو اپنی مرضیڑ سے زندگی گزارنے کا موقع دینا لازم ہوچکا ہے۔
٭٭٭٭٭

![2021-04-23 18_32_09-InPage - [EDITORIAL-1-16] رمضان رانا](https://weeklynewspakistan.com/wp-content/uploads/2021/04/2021-04-23-18_32_09-InPage-EDITORIAL-1-16.png)












