شاعرِ ہفت زبان!!!

0
3

حصہ دوئم
ہر انسان اپنے معاشرے میں ایک مقام رکھتا ہے اور اس معاشرے کی اصلاح اور بہتری میں اپنا کردارادا کر سکتا ہے۔معاشرے کے اندر لوگوں کی تربیت اور ایک دوسرے کے ساتھ اخلاقی بلندی، مذہبی رواداری اور سماجی معاملات کی درستگی کے لیے مخلوق میں بلاتفریق محبت کے پھول نچھاور کرنا مقصود جعفری کا اصل پیغام ہے۔مقصود جعفری انسانیت کی بنیاد پر سب کو ہمدردی اور بھائی چارے کا درس دیتے ہیں۔مقصود جعفری کی حق گوئی، سچائی اور انسانیت کے درس نے تمام مفاد پرست حلقوں کو جو مذہب کو صرف اپنے ذاتی مفاد کے لیے استعمال کرکے لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں، کو مخالف بنا دیا ہے لیکن پھر بھی مقصود جعفری نے ان کی پرواہ نہیں کی اور لوگوں میں محبت کی خوشبو پھیلانے کا فریضہ سرانجام دیتے رہتے اور ان میں رواداری، مذہبی ہم آہنگی، بردباری اور برداشت کے موتی بکھیرتے رہتے ہیں۔
یہ حقیقتوں کی زمیں نہیں یہ طلسم گاہِ خیال ہے
میں سفیرِ خطہ امن ہوں میرا اس پہ جینا محال ہے
نہ دلوں میں زخمِ وفا رہا نہ لبوں پہ حرفِ دعا رہا
جو رہا تو مکر و دغا رہا میرا عہد عہدِ زوال ہے
مقصود جعفری کی شاعری میں انسانیت ا کا پیغام بھی ہے اور محنت کشوں کے حقوق کا ذکر بھی، غربت اور غریب کی بے بسی کا ماتم بھی ہے اور غلامی کے خلاف جہاد کا درس بھی۔آپ کی شاعری ایک انقلابی شاعری ہے جو فطرت کی صحیح معنوں میں عکاسی کرتی ہے۔ملک کی ترقی ، اصلاحِ معاشرہ اور انقلابی قوتوں کی آبیاری مقصود جعفری کا دل پسند مشغلہ ہے لیکن ان کے لیے وہ وطن کے نوجوانوں پر ہی انحصار کرتے ہیں کیونکہ قوم کے نوجوان ہی اس میں بنیادی کردار ادا کرسکتے ہیں۔آپ کی سب سے بڑی خواہش یہ ہے کہ سیاسی غلامی ، سماجی ناانصافی ، اقتصادی پسماندگی، تمدنی گراوٹ اور باہمی دشمنی دور ہو اور ان کی جگہ مساوات، آزادی، محبت اور وحدت لے لیں۔آپ ایک نئے منصفانہ سماج کی تعمیر چاہتے ہیں جس میں انسان صحیح معنوں میں انسان بن جائے:کہتے ہیں!
مجھ سے کرو نہ واعظ دیر وحرم کی باتیں
میں کر رہا ہوں تم سے انساں کے غم کی باتیں
مقصود جعفری انسانوں کو انسانیت سکھاتے ہیں اور ان کو گمراہی سے بچانا چاہتے ہیں۔پسماندہ لوگ ایسے شاعر کو پسند کرتے ہیں جو ان کی پسماندگی کی تعریف کرے لیکن مقصود جعفری اس بات کو ناپسند کرتے ہیں۔انہیں بار بار ایسی باتیں کہنا پڑیں جو عوام کے جذبات، خیالات اور عقائد سے ٹکراتی ہیں لیکن وہ ایسا کرنے سے نہ ڈرتے ہیں اور نہ جھجکتے وہ اپنی باتوں کو میٹھی زبان میں ادا کرتے ہیں پھر جو ایک مرتبہ ان کے بلند خیالات سمجھ جائے تو ان کی شاعری پر فریفتہ ہوجاتا ہے۔درحقیقت کوئی بھی ذی شعور انسان مقصود جعفری کی نظموں اور غزلوں کو کسی طرح نظر انداز نہیں کرسکتا۔مقصود جعفری کو یقینِ کامل ہے کہ وہ دن بھی جلد آئے گا جب ان کا پیغام رنگ لائے گا اور وطن میں آزادی، مساوات، اخوت، ترقی وخوشحالی اور اتحاد و یگانگت کا دور دورہ ہوگا۔ کہتے ہیں!
تجھ کو خبر ہے اے مرے پروردگار کچھ
کیا کیا ستم ہوئے ہیں یہاں آدمی کے ساتھ
کہتے ہیں لوگ شاعرِ انسانیت مجھے
دو چار روز تم بھی رہو جعفری کے ساتھ
مقصود جعفری کی شاعری محبت، رواداری، خلوص، انسان دوستی اور انسانیت کے دکھ درد کا مداوا بن کر سامنے آتی ہے اور ہر درد مند و غمزدہ کے دکھ اور پریشانی کو محسوس کرکے ان کی مظلومیت اور محرومی کی آواز بن جاتی ہے:
مسلک کا میرے نام ہے انسان دوستی
انساں ہوں مجھ کو جعفری انساں سے پیار ہے
مقصود جعفری کا ایک قطعہ ملاحظہ فرمائیں جو آپ کے حقیقی ” شاعرِ انسانیت ” ہونے کی واضح دلیل ہے
میں تو میانِ خلق ہی رہتا ہوں روز وشب
مانوس کیسے کرتی یہ رہبانیت مجھے
انساں کا درد رکھتا ہوں مقصود جعفری
کہتے ہیں لوگ شاعرِ انسانیت مجھے
ڈاکٹر مقصود جعفری کی شاعری پڑھ کر اور سمجھ کر یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ آپ انسانیت کے درمیان زبان، نسل، علاقے اور مذہبی جماعتوں کے قائل نہیں ہیں بلکہ انسانیت کے آفاقی نظریے کے تحت معاشرے کی تشکیل اور فلاح چاہتے ہیں۔آپ کی شاعری مخلوق خدا سے انس ومحبت، ایک دوسرے کے دکھ درد کو سمجھنے، رنگ، نسل، زبان اور مذہب سے بالاتر ہوکر صرف انسانیت کے رشتے کی بات کرتی ہے۔
مقصود جعفری ایک سدا بہار شاعر اور مفکر ہیں جس کی اہمیت، افادیت اور ضرورت کبھی کم نہیں ہوگی۔آپ کی شاعری نے دلوں میں انسانیت کی تخم ریزی کی۔یہی وجہ ہے کہ ایک دوسرے کے لیے آسانیاں پیدا کرنے اور محبتوں کے رنگ بکھیرنے کے لیے آج مقصود جعفری کے کلام سے استفادہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔جناب مقصود جعفری کی حالاتِ حاضرہ کی مناسبت سے ایک خوبصورت احساسات بھری تازہ غزل کے چند اشعار ملاحظہ فرمائیے:
اب قافلہ نہ قافلہ سالار دیکھنا
اپنی صفوں میں کون ہے غدار دیکھنا
سورج نکل چکا تھا، مگر روشنی نہ تھی
اک حادثہ ہے دن میں شبِ تار دیکھنا
لب بستہ لوگ بیٹھے ہیں پیشِ یزیدِ وقت
میرے لبوں پہ جراتِ اظہار دیکھنا
آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میں”
وجداں پہ میرے بارشِ انوار دیکھنا
دیکھا ہے تو نے خنجرِ ابروئے مہ رخاں
اب تو گلوئے عشق پہ تلوار دیکھنا
یہ پھول ہی تو زینتِ گلشن نہیں فقط
خارِ چمن میں رونقِ گلزار دیکھنا
مانا کہ رشکِ غنچ نو رستہ ہیں وہ لب
اس کے لبوں پہ شوخء گفتار دیکھنا
باتیں تو لوگ دین کی کرتے ہیں روز و شب
ہے کون اِن میں صاحبِ کردار دیکھنا
دامن دریدہ لوگ جو زنداں میں قید ہیں
قدموں میں اِن کے طر طرار دیکھنا
کیا پھر کسی نے عیسی کو مصلوب کر دیا ؟
دزدیدہ سی نظر سے سرِ دار دیکھنا
غارت گرِ چمن ہی شریکِ چمن رہے
لوٹی ہے کس نے پھولوں کی مہکار دیکھنا
نوکِ سناں پہ دیکھنا رقصِ سرِ قتیل
یہ معجزہ بھی بر سرِ بازار دیکھنا
کب تک لہو غریب کا پیتے رہو گے تم؟
مقتل میں اب کے لاش زردار دیکھنا
منصف جہاں پہ بِکتے ہوں مقصود جعفری
مشکل وہاں ہے حرمتِ دستار دیکھن
٭٭٭

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here