پائیدار معاشی اور سٹریٹیجک شراکت داری کی طرف بڑھتے ہوئے پاک امریکہ تعلقات!!!

0
16

پائیدار معاشی اور سٹریٹیجک شراکت داری کی طرف بڑھتے ہوئے پاک امریکہ تعلقات!!!

پاکستان اور امریکہ کے مابین تعلقات کی تاریخ کئی دہائیوں پر محیط ہے جو زیادہ تر جغرافیائی و سیاسی ضرورتوں اور وقتی مفادات کے گرد گھومتی رہی ہے۔ ماضی کے تجربات یہ ثابت کرتے ہیں کہ جب بھی عالمی یا علاقائی سطح پر سیکیورٹی کے بحران پیدا ہوئے دونوں ممالک کے روابط میں گرم جوشی دیکھی گئی تاہم بحران ختم ہوتے ہی یہ تعلقات سرد مہری اور عدم اعتماد کا شکار ہو گئے۔ اس عارضی اور لین دین پر مبنی رویے نے دونوں ممالک کو ایک طویل المدتی اور مضبوط دوستی قائم کرنے سے محروم رکھا۔ موجودہ دور میں اس نقطہ نظر کو یکسر تبدیل کرنے کی شدید ضرورت محسوس کی جا رہی ہے تاکہ تعلقات کو صرف دفاعی تعاون تک محدود رکھنے کے بجائے پائیدار معاشی، تجارتی اور سماجی بنیادوں پر استوار کیا جا سکے۔
ایک طویل عرصے تک دونوں ممالک کا بنیادی محور سیکیورٹی، دہشت گردی کا خاتمہ اور خطے میں عسکری توازن برقرار رکھنا رہا ہے۔ اگرچہ یہ شعبے کسی بھی دور میں اہمیت سے خالی نہیں رہے لیکن ان پر حد سے زیادہ انحصار نے باہمی تعاون کے دیگر اہم میدانوں کو پس منظر میں دھکیل دیا۔ سیکیورٹی پر مبنی تعلقات کی سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ یہ ضرورت ختم ہوتے ہی کمزور پڑ جاتے ہیں۔ اس کے برعکس جب دو اقوام کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعلقات کی جڑیں مضبوط ہوتی ہیں تو وہ تعلقات وقتی سیاسی تبدیلیوں سے متاثر نہیں ہوتے۔ لہذا دور حاضر کا سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ ان تعلقات کو کسی ایک شعبے کا محتاج بنانے کے بجائے کثیر جہتی بنایا جائے۔
تعلقات کو پائیدار بنانے کا سب سے مؤثر طریقہ باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے۔ پاکستان کو محض مالی امداد یا قرضوں کا طلب گار بننے کی جگہ امریکی منڈیوں تک رسائی کی درخواست کرنی چاہیے تاکہ ملکی مصنوعات کی برآمدات میں اضافہ ہو سکے۔ امریکی سرمایہ کاروں کو پاکستان کے مختلف شعبوں بالخصوص زراعت، صنعتی پیداوار اور توانائی کی منتقلی میں ڈائریکٹ انویسٹمنٹ کی ترغیب دی جا سکتی ہے۔ معاشی شراکت داری نہ صرف پاکستان میں روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے گی بلکہ اس سے امریکی کاروباری اداروں کے لیے بھی ایشیا کے اس اہم خطے میں نئے امکانات کے دروازے کھلیں گے۔ معاشی و تجارتی اشتراک باہمی تعلقات کو استوار رکھنے کا سب سے پائیدار ستون ثابت ہو سکتا ہے۔
اس کے علاوہ دور جدید کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے معلومات جاتی ٹیکنالوجی اور سائنسی تحقیق کا شعبہ تعاون کا ایک اہم میدان بن سکتا ہے۔ پاکستان کی نوجوان آبادی ٹیکنالوجی کی دنیا میں تیزی سے اگے بڑھ رہی ہے جبکہ امریکہ اس شعبے میں عالمی پیشوا کی حیثیت رکھتا ہے۔ امریکہ کی طرف سے پاکستان کے معلوماتی ٹیکنالوجی کے ڈھانچے کو جدید بنانے اور نوجوانوں کی فنی تربیت میں تعاون دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے سبز توانائی کے منصوبوں پر مشترکہ کام وقت کی اہم ضرورت ہے۔ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے شدید متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے جبکہ امریکہ کے پاس اس حوالے سے جدید ترین وسائل اور تحقیق موجود ہے لہذا اس شعبے میں اشتراک ایک خوشگوار تبدیلی لا سکتا ہے۔
سفارتی اور معاشی تعلقات سے ہٹ کر عوام کے باہمی روابط کو فروغ دینا بھی بے حد ضروری ہے۔ امریکی یونیورسٹیوں اور تعلیمی اداروں میں پاکستانی طلبہ کی شمولیت اور تعلیمی تبادلوں کے پروگرام دونوں معاشروں کو ایک دوسرے کے قریب لانے کا بہترین ذریعہ ہیں۔ امریکہ میں مقیم پاکستانی تارکین وطن بھی اس سلسلے میں ایک مضبوط پل کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان کے ہنر، سرمایہ کاری اور اثر و رسوخ سے کام لے کر دونوں ممالک کے مابین حائل غلط فہمیوں کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔ جب تک عوام کی سطح پر اعتماد اور ہم آہنگی پیدا نہیں ہوگی تب تک حکومتوں کی سطح پر ہونے والے معاہدے دیرپا نتائج فراہم کرنے میں ناکام رہیں گے۔
علاقائی استحکام اور امن کا قیام بھی اس شراکت داری کا ایک غیر معمولی جزو ہے لیکن اس کی نوعیت اب ماضی سے مختلف ہونی چاہیے۔ افغانستان اور دیگر ہمسایہ علاقوں کی صورتحال کے تناظر میں سیکیورٹی کا تعاون اپنی جگہ اہم ہے مگر اسے معاشی ترقی اور خوشحالی کے اہداف کے ساتھ جوڑنا ہوگا۔ محض عسکری قوت کے ذریعے پائیدار امن ممکن نہیں جب تک کہ علاقائی تجارت اور معاشی بحالی کے اقدامات نہ کیے جائیں۔ پاکستان کی جغرافیائی اہمیت امریکہ کے لیے اب بھی انتہائی اہم ہے کیونکہ یہ وسطی ایشیا اور جنوب ایشیا کے درمیان ایک رابطہ سڑک کا کام دے سکتا ہے۔
حاصل کلام یہ ہے کہ پاکستان اور امریکہ کو ماضی کی تلخیوں اور ناکامیوں سے سبق سیکھتے ہوئے ایک نئی شروعات کرنی ہوگی۔ دونوں ممالک کے رہنماؤں اور پالیسی سازوں کو اب روایتی سوچ سے ہٹ کر پائیدار، شفاف اور دوطرفہ احترام پر مبنی تعلقات کی بنیاد رکھنی ہوگی۔ سیکیورٹی پر نصرت اور امداد پر منحصر تعلقات کی جگہ اقتصادی شراکت داری، سائنسی تعاون اور عوامی رابطوں کو ترجیح دینا ہی واحد راستہ ہے۔ یہی وہ واحد راستہ ہے جس پر چل کر دونوں اقوام اپنے باہمی مفادات کی حفاظت بھی کر سکتی ہیں اور ایک جدید، پرامن اور ترقی یافتہ مستقبل کی تعمیر بھی ممکن بنا سکتی ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here