اژدہا اور ماں …آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا!! !

0
14
کامل احمر

فزکس میں جب جیفری ہنٹن نے 2024 کا نوبل پرائز جیتا تو سائنس سے متعلق لوگوں کو حیرانی نہیں ہوئی بلکہ خوشی کا اظہار ہوا کہ کینیڈا کے کمپیوٹر سائنسدان نے جان ہوپ فیلڈ کے ساتھ، جو پرنسٹن یونیورسٹی کے ہیں، یہ ایوارڈ جیتا تھا۔ تبھی سے مصنوعی ذہانت کا راگ شروع ہوا اور اب اس کا شور بڑھ رہا ہے۔ ان میں چند سیاستدان اور صدر ٹرمپ ایک طرف یا درمیان میں ہیں، جبکہ ورمونٹ کے سینیٹر برنی سینڈرز مصنوعی ذہانت کے زبردست مخالفوں میں سے ہیں۔ برنی سینڈرز ہی واحد سیاستدان رہ گئے ہیں جو بہت سوچ و بچار کے بعد لب کشائی کرتے ہیں اور اس پر ڈٹے رہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کا وجود اور اس کا پھیلاؤ معاشرے، قوم اور ملکوں کے لیے نہایت نقصان دہ ہے اور نتیجے میں ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں ملازمتیں ختم ہو چکی ہیں۔ ادھر صدر ٹرمپ درمیان میں ہیں؛ وہ اس میں اپنا اور اپنے بچوں کا فائدہ دیکھ رہے ہیں کہ مصنوعی ذہانت سے کیسے ڈالرز بنائے جا سکتے ہیں۔ ان کی معلومات کم ہیں کہ مصنوعی ذہانت کیا کر چکی ہے اور کیا کرنے جا رہی ہے۔
مختصر طور پر بتاتے چلیں کہ آئی فون کی طرح مصنوعی ذہانت کے فائدے 1% ان لوگوں کو ہوں گے جن کا اس پر کنٹرول ہو گا۔ آپ سب نے مشہور ڈائریکٹر اسٹیون اسپلبرگ کی فلم جراسیک پارک تو دیکھی ہو گی کہ کس طرح ایک شخص جزیرے میں رہ کر کلوننگ کے ذرائع استعمال کر کے کئی قسم کے ڈائناسور پیدا کر لیتا ہے، لیکن ان میں سے کئی خونی اور گوشت خور ہوتے ہیں جو بنانے والوں پر ہی چڑھ دوڑتے ہیں اور بنانے والے ہیلی کاپٹر میں بیٹھ کر اس جزیرے کو چھوڑ دیتے ہیں۔
تو کیا مصنوعی ذہانت ڈائناسور ثابت ہو گی؟ تمام ذرائع کو مدنظر رکھتے ہوئے میں کہہ سکتا ہوں کہ یہ اس سے بھی زیادہ خطرناک ہو سکتی ہے جو شہروں، آبادیوں، خاندانوں اور انسانوں کو ایک دوسرے سے دور کر دے گی، اور ایسا شروع ہو چکا ہے۔ اس سے پہلے، زیادہ عرصہ نہیں ہوا، انٹرنیٹ اور آئی فون نے معاشرے میں جو کچھ کیا ہے اور کر رہے ہیں وہ سب کے سامنے ہے۔ ایک چھوٹی سی مثال یہ ہے کہ ہم ایک دوست سے ملنے گئے اور ان کے بیٹے کے متعلق دریافت کیا، تو ان کی بیگم فون پر تھیں اور میاں سے بولیں کہ میں بیٹے کو کھانا دے کر آتی ہوں، وہ صبح سے نیچے بیٹھا آفس کا مسئلہ حل کر رہا ہے۔ پھر وہ کچھ دیر میں برتن سجا کر نیچے چلی گئیں، یعنی کھانا لے کر کہ بچہ بھوکا بیٹھا ہے۔ اب غور کیجیے کہ بچے والدین کو چھوڑ کر بھاگ رہے ہیں، ان کا ساتھی آئی فون ہے اور ماں باپ فخر سے کہہ رہے ہیں کہ وہ کیلیفورنیا گیا ہوا ہے یا گھر نہ آئے تو والدین خوش ہیں کہ بچہ ترقی کر رہا ہے اور کمپنی کے لیے کچھ ایجاد کر رہا ہے۔ جی ہاں، آپ بھی ایسا دیکھ رہے ہیں اور دیکھتے رہیے، بس یہی کہہ سکتے ہیں کہ آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا! اور اب اس کا باپ یعنی مصنوعی ذہانت ایک لحیم شحیم ڈائناسور کی طرح کھڑا ہے اور تیاری کر رہا ہے کہ کہاں ہاتھ مارے۔ ہم ایسا نہیں کہیں گے کہ جیفری ہنٹن نے کچھ غلط کیا ہے؛ ہر دور میں ہر کسی نے سائنس کے علاوہ دوسرے شعبوں میں ترقی کی ہے اور آگے بڑھے ہیں۔ سوچیں اگر پنسلین ایجاد نہ ہوتی، یا کہنا چاہیے کہ دریافت نہ ہوتی، تو کروڑوں لوگ زخموں کی تاب نہ لا کر مر چکے ہوتے۔ پروفیسر ہنٹن نے فزکس کے شعبے میں بنیادی طور پر انکشافات کو بڑھانے کے ساتھ بہت کچھ ایجاد کیا ہے اور مصنوعی ذہانت کی ابتداء وہیں سے ہوئی ہے۔
اس وقت دس مصنوعی ذہانت کی کارپوریشنز اپنے فائدے کے لیے کام کر رہی ہیں۔ یہ بتاتے چلیں کہ طلباء اور اس سے جڑے تحقیق کرنیوالے لوگ 10 فیصد ہی فائدہ اٹھائیں گے جس سے معاشرے اور کاروبار میں فائدہ ہو، لیکن ساتھ ہی وہ روزگار کو ختم بھی کریں گے۔ اس کی ایک تازہ مثال، جس کے بارے میں دنیا بھر کو معلوم ہوئے دس دن ہی ہوئے ہیں، ایک پاکستانی نوجوان کی ہے۔ اس کام میں جس شخص نے پہل کی ہے وہ لیّہ پنجاب کا نوجوان زاہد اقبال ہے، جس نے پہلے بچوں کے لیے اینیمیٹڈ بلیوں کی چھوٹی چھوٹی فلمیں بنائی تھیں اور اب اس نے اپنی ذہانت سے دو ڈھائی ہزار ڈالر لگا کر 28 منٹ کی ایک شاندار فلم بنائی ہے جس میں کافی افراد اور ایک لحیم شحیم ہیولا شامل ہے جسے آپ اژدہا کہہ سکتے ہیں جو منہ سے آگ اگلتا ہے۔ ایک ہی ہفتے میں اربوں لوگ اس کے شیدائی ہو گئے، ہم سمیت، اور یہ فلم یوٹیوب پر دیکھی جا سکتی ہے۔
کہانی بہت صاف ستھری ہے کہ ایک گاؤں میں، جہاں شدید برفباری ہو رہی ہے، ایک لڑکی ایک بچے کو جنم دیتی ہے لیکن وہ ایک چھوٹا سا اڑدہا ہوتا ہے۔ پہلے تو وہ اسے چھوڑ کر بھاگ جاتی ہے، لیکن اس کی آواز سن کر غار میں واپس آ جاتی ہے اور اس اڑدہے کو پیار کرتی ہے۔ جب اسے بھوک لگتی ہے تو وہ اپنے زیور بیچ کر اس کے لیے گوشت لاتی ہے۔ گاؤں کے لوگ اس پر نظر رکھتے ہیں اور جب اڑدہا اپنا سر مار کر چھت کو پھاڑ کر باہر دیکھتا ہے تو گاؤں والوں کو پتہ چل جاتا ہے اور دو عورتیں اس لڑکی کی شکایت پادری سے کر دیتی ہیں۔ وہ پکڑی جاتی ہے لیکن اژدہے سے کہتی ہے کہ وہ اڑ جائے۔ اژدہے کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کی ماں کو گاؤں والوں نے مار دیا ہے، تو وہ اس کی تلاش میں گاؤں آتا ہے اور گاؤں والوں پر آگ سے تباہی مچاتا ہے۔
کہانی اتنی سادہ اور آسان ہے کہ آپ کوئی بھی زبان بولتے ہوں، وہ سمجھ میں آ جاتی ہے، اور اب سب کو اژدہے سے پیار ہو جاتا ہے۔ زاہد اقبال کی ذہانت کی داد دینی پڑے گی کہ اس نے یہ تجربہ کیا تھا اور بغیر جاندار کرداروں کے مصنوعی ذہانت کی مدد سے یہ فلم بنائی، آواز ڈالی، آگ نکالی اور چار پانچ چہروں اور گاؤں کے لوگوں کو جمع کیا۔ اس کی مقبولیت کا یہ ریکارڈ ہے کہ پچھلے ماہ جب فرانس کے ایک سینما ہال میں نمائش کے لیے یہ پیش ہوئی تو گاؤں سے لوگ شہر آئے اور ایک ہجوم کی شکل میں فلم دیکھنے کا انتظار کرنے لگے۔
ہمارے ملک میں باصلاحیت لوگوں کی کمی نہیں، جبکہ تعلیم کے لیے اسکول بھی میسر نہیں۔ اس فلم کی دیکھا دیکھی دوسرے بھی کوشش کریں گے کہ وہ ٹی وی ڈراموں کے چہرے لے کر فلم بنا ڈالیں۔ یہ تو رہی مصنوعی ذہانت کی اچھی بات، لیکن ساتھ ہی کچھ لوگ خرافات کا بھی استعمال کریں گے اور اسے روکنا مشکل ہو گا؛ یہی سینیٹر برنی سینڈرز کا بھی کہنا ہے، جیسا کہ آپ سوشل میڈیا اور فیس بک پر خرافات دیکھتے ہیں۔ اس معاملے میں پاکستان اور انڈیا بہت آگے ہیں اور ہم یہی کہیں گے کہ آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا! ساتھ ہی مدرز مونسٹر کے خالق زاہد اقبال کو دلی مبارکباد بھی دیں گے جنہوں نے نوجوانوں کے لیے ایک نیا راستہ بنایا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here