نیویارک (پاکستان نیوز) امریکی سیاسی منظر نامے میں وسط مدتی انتخابات کی آمد کے ساتھ ہی سیاسی سرگرمیاں عروج پر پہنچ چکی ہیں اور تمام حلقوں میں یہ سوال شدت سے زیرِ بحث ہے کہ آیا آنیوالے دنوں میں کوئی بہت بڑی سیاسی لہر جنم لے گی یا نہیں۔ ڈیموکریٹک پارٹی کے حامیوں اور رہنماؤں میں ایک نئی توانائی دوڑ گئی ہے اور وہ نومبر کے انتخابات میں شاندار کامیابی کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ حالیہ سروے رپورٹس اور میڈیا تجزیوں کے مطابق ڈیموکریٹک پارٹی کو روایتی طور پر ریپبلکنز کے مضبوط گڑھ سمجھے جانیوالے علاقوں میں بھی برتری حاصل ہوتی نظر آ رہی ہے، جو چند ماہ قبل تک ناممکن معلوم ہوتا تھا۔ اس صورتحال نے ڈیموکریٹک حامیوں کی توقعات کو اس قدر بلند کر دیا ہے کہ اگر وہ کانگریس کے دونوں ایوانوں پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے میں ناکام رہے تو انہیں شدید مایوسی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ سیاسی تجزیہ کار ڈیوڈ ایکسلراڈ نے ایک نشریاتی پروگرام کے دوران گفتگو کرتے ہوئے اس بات کا اظہار کیا کہ ڈیموکریٹک پارٹی کے پاس اتنی ریاستوں میں کامیابی کے امکانات موجود ہیں کہ وہ ایک شاندار دن دیکھ سکیں، تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس کے باوجود سینٹ پر قبضہ کرنے میں ناکامی کوئی حیرت کی بات نہیں ہوگی۔ دوسری طرف تاریخی روایات کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ عام طور پر صدر کی اپنی جماعت کو وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان میں نشستوں کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ گزشتہ ایک صدی کے دوران صرف دو ایسے مواقع آئے جب صدر کی جماعت نے ایوان میں نشستیں نہیں گنوائیں، جن میں2002ء کا سال شامل ہے جب جارج ڈبلیو بش صدر تھے اور نائن الیون کے بعد عراقی جنگ کے حالات تھے، اور 1998ء کا سال جب ڈاٹ کام عروج پر تھا اور بل کلنٹن کے مواخذے کے خلاف عوامی ردعمل سامنے آیا تھا۔
تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو بڑے پیمانے پر سیاسی الٹ پھیر بھی دیکھنے میں آئے ہیں۔ 1994ء میں بل کلنٹن کے پہلے وسط مدتی دور میں ڈیموکریٹس کو 34نشستوں کا نقصان اٹھانا پڑا تھا اور اسی طرح 2010ء میں باراک اوباما کے دور میں بھی ڈیموکریٹک پارٹی کو بھاری شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔۔ اس کے برعکس جب 2022میں سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کے بعد ڈیموکریٹس نے محض نو نشستیں گنوائیں اور ایوان کی اکثریت سے محروم ہوئے تو صدر جو بائیدن نے اسے جمہوریت کیلئے ایک اچھا دن قرار دیا تھا کیونکہ روایتی طور پر بڑی شکست کی جو پیشگوئی کی جا رہی تھی وہ حقیقت کا روپ نہیں دھار سکی تھی۔ اس بار ڈیموکریٹس کو پولنگ کے جائزوں میں خاطر خواہ برتری حاصل ہے اور وہ الاسکا، آئیووا، کینساس اور ٹیکساس جیسی روایتی طور پر سرخ کہلانے والی ریاستوں میں بھی کانٹے دار مقابلے پیش کر رہے ہیں۔
اس انتخاب میں دونوں بڑی جماعتوں کے مابین سخت رسہ کشی جاری ہے اور ایوانِ نمائندگان اور سینٹ کے معرکوں کی نوعیت بالکل مختلف ہے۔ سینٹ کے حالیہ انتخاب میں ڈیموکریٹس کو اپنی اکثریت بحال کرنے کے لیے مخصوص نشستوں پر کامیابی درکار ہے جبکہ دوسری طرف ریاستوں میں موجود امیدواروں کی ذاتی مقبولیت یا غیرمقبولیت بھی نتائج پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ شمالی کیرولائنا میں ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے سابق گورنر رائے کوپر میدان میں ہیں جبکہ جارجیا میں جان اوسوف اپنی نشست کا دفاع کر رہے ہیں۔ اس کے برعکس ٹیکساس میں ریپبلکن پارٹی کے رہنما اور ریاست کے اٹارنی جنرل کین پیکسٹن کو مختلف سکینڈلز کی وجہ سے مشکلات کا سامنا ہے۔ کینساس میں بھی ایک اعتدال پسند پادری کی بطور ڈیموکریٹک امیدوار موجودگی نے سیاسی حلقوں کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔
موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت کا گراف اور ان کی پالیسیاں بھی ان انتخابات پر اثر انداز ہو رہی ہیں اور تاریخی طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ وسط مدتی انتخابات میں حکمراں جماعت کو ہمیشہ دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگر ڈیموکریٹک پارٹی ایوانِ نمائندگان یا سینٹ میں سے کسی ایک یا دونوں پر کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو اس سے انتظامیہ کی پالیسیوں پر کڑی نگرانی اور تحقیقات کا نیا سلسلہ شروع ہو جائے گا، جو بجٹ کی تخصیص اور حکومتی اخراجات پر اثر انداز ہوگا۔ اس تمام صورت حال میں یہ دیکھنا انتہائی دلچسپ ہوگا کہ آیا یہ متوقع سیاسی لہر واقعی روایتی قلعوں کو فتح کرنے میں کامیاب ہوتی ہے یا ریپبلکن پارٹی اپنی پوزیشن بچانے میں کامیاب رہتی ہے۔










