واشنگٹن (پاکستان نیوز)صدر ٹرمپ کے مشیر بو ہائنز کے خاندانی کاروباری ادارے کی جانب سے دنیا کی سب سے بڑی اسٹیبل کوائن جاری کرنے والی کمپنی ٹیتھر سے لاکھوں ڈالر وصول کرنے کا سنسنی خیز انکشاف سامنے آیا ہے جس کے بعد امریکی سیاسی اور مالیاتی حلقوں میں شدید تنقید کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق بو ہائنز نے جینیئس ایکٹ نامی اہم کرپٹو قانون سازی کے دوران اپنی مشاورتی فرم ‘نکسم’ میں ایک تہائی حصص برقرار رکھے اور اسی دوران ٹیتھر نے اس فرم کو 63 لاکھ ڈالر سے زائد رقم فراہم کی۔
رپورٹ کے مطابق پہلی ادائیگی اس وقت کی گئی جب ہائنز وائٹ ہاؤس میں اس بل کو حتمی شکل دینے میں مصروف تھے۔ بعد میں نیا قانون منظور ہوتے ہی ٹیتھر نے ہائنز کو اپنے نئے امریکی شعبے کا سربراہ مقرر کر دیا۔ موصول ہونے والے پیغامات سے معلوم ہوا ہے کہ ہائنز وائٹ ہاؤس میں رہتے ہوئے بھی اپنے کاروباری شراکت داروں کے ساتھ رابطے میں رہے اور قانون سازی سے متعلق تمام پیش رفت سے انہیں آگاہ کرتے رہے۔
مزید برآں ہائنز نے قانون پر عمل درآمد کے لیے درکار مہلت کو تین سال تک بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا جس سے براہ راست ٹیتھر کو فائدہ پہنچا۔ اگرچہ ہائنز کے نمائندے کا کہنا ہے کہ وہ ان معاملا ت سے بے خبر تھے اور ان کی سرمایہ کاری غیر فعال تھی، تاہم اخلاقیات کے امریکی ماہرین کے مطابق سرکاری عہدے داروں کا ایسے معاملات پر کام کرنا سنگین قانونی اور اخلاقی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔














