نیویارک(پاکستان نیوز)ظہران ممدانی کے میئر نیویارک منتخب ہونے کے بعد مسلم کمیونٹی میں نئی جان آ گئی ہے ،کہاوت ہے کہ امریکہ میں اصل طاقت کھانے کی میز سے پروان چڑھتی ہے، نئی حکومت کے بعد شہر کی چکا وچوند راتوں میں مسلم کمیونٹی کی گہما گہمی دن بہ دن بڑھ رہی ہے ، ریسٹورنٹس پر ڈنر کی بات ہو یا پھر معمول کی خریداری ہر جگہ مسلم کثیر تعداد میں دکھائی دے رہے ہیں ۔” نیویارک ٹائمز ” کے مطابق ممدانی حکومت کی آمد کے بعد مسلم کمیونٹی پہلے سے زیادہ فعال اور متحرک ہوئی ہے ، مسلمانوں کا شہر پر اثرورسوخ پہلے کی نسبت بڑھا ہے جس کے باعث سفید فام افراد کی بڑی تعداد نیویارک سے دیگر شہروں کی طرف نقل مکانی کر رہی ہے جس کو روکنا نیویارک حکومت کے لیے بڑا چیلنج بن گیا ہے ، نیویارک کی سفید فام آبادی کے انخلا کی ایک وجہ مہنگائی ودیگر مسائل بھی بتائے جا رہے ہیں ، ”گارڈین” کی رپورٹ کے مطابق نیویارک تیزی سے جدت کے مراحل سے گزر رہا ہے جبکہ مسلم کمیونٹی پہلی کی نسبت مضبوط ہوئی ہے ، مسلم کمیونٹی کو متحرک کرنے میں دینا ہیگج ، ولید شاہد، رمزی کسیم، گاہد حدید ، مریم آدمو، حالا ایلان ، عروج آفتاب نے کلیدی کردار ادا کیا ہے، یہ شخصیات سوشل میڈیا پلیٹ فارم سے بھی آواز بلند کر رہی ہیں ، موسیقی اور کلچرکے میدان میں بھی سامنے آ رہے ہیں ، گریمی ایوارڈ ونر گلوکارہ عروج آفتاب اور گلوکار علی سیٹھی ثقافتی میدان میں کافی متحرک ہیں ۔حالیہ سروے کے مطابق ایک سال کے دوران 4لاکھ 80ہزار سے زائد لوگ نیویارک چھوڑ چکے ہیں ، مجموعی طور پر نصف ملین سے زائد لوگوں نے نیویارک کو الوداع کہا ہے، اٹارنی جنرل جیمز نیو یارکرز پر بھی زور دے رہے ہیں کہ وہ اپنے محفوظ آن لائن پورٹل کے ذریعے وفاقی امیگریشن نافذ کرنے والے اقدامات کی ویڈیوز یا دیگر دستاویزات براہ راست OAG کو جمع کرائیں۔ نیویارک سے تیزی سے سفید فام آبادی کا انخلا نیویارک حکومت کے لیے ایک چیلنج بن گیا ہے ، دیکھنا ہے کہ ظہران ممدانی کس طرح اپنی مساوی پالیسی اپناتے ہوئے لوگوں کے اعتماد کو بحال کرتے ہیں ، خاص طور پر سفید فام آبادی جوکہ ظہران ممدانی کی پرفارمنس سے ابھی تک مطمئن نہیں ہے۔ مبصرین کے مطابق لوگوں کا بڑی تعداد میں شہر چھوڑنا ظہران ممدانی کی حکومت کو معاشی طور پر کمزور کرنے کے لیے بھی ایک قدم ہو سکتا ہے جس کا مختلف پہلوئوں سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے کیونکہ جب ظہران ممدانی انتخابی مہم میں شریک تھے تو صدر ٹرمپ سمیت نیویارک کے بہت سے مالدار اور کاروباری افراد نے بھی ان کی متوقع کامیابی پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے شہر چھوڑنے کی دھمکی دی تھی، نیویارک کی ایلیٹ کلاس یا مالدار طبقہ ٹیکسز اور امدادی رقوم کی صورت میں حکومت کو چلانے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے ۔












