لانگ آئی لینڈ میں12ہزار قبروںپر مشتمل پہلا مسلم قبرستان منظور

0
77

نیویارک (پاکستان نیوز)نیویارک کی کاؤنٹی سفوک کی قانون ساز اسمبلی نے بل پورٹ کے علاقے میں مسلمانوں کے لیے ایک مخصوص قبرستان قائم کرنے کے منصوبے کی متفقہ طور پر منظوری دے دی ہے جہاں لگ بھگ 12000 میتوں کی تدفین کے لیے پلاٹ دستیاب ہوں گے۔ بیور ڈیم روڈ پر واقع ہونے والا یہ قبرستان لانگ آئی لینڈ کی تاریخ میں مسلمانوں کے لیے مخصوص کیے جانے والے اولین قبرستانوں میں سے ایک ہوگا۔ اس اہم منصوبے کو حتمی شکل دینے کے لیے اب صرف بروک ہیون ٹاؤن پلاننگ بورڈ کی رائے دہی باقی ہے جو رواں ہفتے متوقع ہے۔ قانون ساز ادارے نے اس منصوبے کو سترہ کے مقابلے میں صفر ووٹوں سے منظور کیا۔ مقامی قانون ساز ڈومینک تھورن نے ایک گفتگو میں بتایا کہ ابتدا میں درخواست میں کچھ تکنیکی خامیوں کی وجہ سے اس رائے دہی کو ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا تاہم بروک ہیون ٹاؤن کی انتظامیہ کی جانب سے فوری فیصلے کی ضرورت اور معاملے کی حساسیت کے پیش نظر التوا کو ختم کر کے منگل کے روز ہی ووٹنگ کروا دی گئی۔ ہل سائیڈ اسلامک سینٹر کی جانب سے پیش کردہ اس منصوبے کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ مرکز نے تمام تر لازمی معیار پورے کیے ہیں اس لیے قانون کے مطابق اسے روکنے کا کوئی جواز نہیں تھا۔ اس منصوبے کے مخالفین نے ایک عوامی سماعت کے دوران یہ خدشہ ظاہر کیا تھا کہ قبرستان کی وجہ سے زمین دوز پینے کے پانی کے کنویں آلودہ ہو سکتے ہیں تاہم ہل سائیڈ اسلامک سینٹر کے حکام اور مقامی انتظامیہ نے ان خدشات کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ اسلامی طریقہ کار کے مطابق میتوں کو کیمیائی مائع جات کے بغیر صرف سادہ لباس یعنی کفن میں ملبوس کر کے سپرد خاک کیا جاتا ہے اس لیے پانی کی آلودگی کا کوئی خطرہ موجود نہیں ہے۔ کاؤنٹی اور ریاست کے محکمہ صحت اور تحفظ ماحول نے بھی اس جگہ کو پہلے ہی کلیئرنس سرٹیفکیٹ جاری کر دیا ہے۔ قبرستان کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ تمام مذاہب کے لوگوں کو اپنے عقیدے کے مطابق مردوں کو دفنانے کا حق حاصل ہونا چاہیے اور ایک پرامن قبرستان یہاں پہلے سے موجود سیمنٹ اور لکڑی کے صنعتی کارخانوں سے کہیں بہتر ہے۔ اس قبرستان میں سو افراد کی گنجائش کا ایک دعائیہ ہال، ایک گودام اور بیالیس گاڑیوں کے لیے پارکنگ بھی بنائی جائے گی جس سے لانگ آئی لینڈ کے مسلمانوں کی تدفین کی دیرینہ مشکل حل ہو جائے گی۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here