نیویارک (پاکستان نیوز)ایران جنگ سے پیدا ہونیوالے سیاسی بحران اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت میں مسلسل کمی کے باعث ریپبلکن پارٹی میں وسط المدتی انتخابات کے حوالے سے شدید مایوسی پھیل گئی ہے۔ ایک سینئر ریپبلکن آپریٹو نے صورتحال کی سنگینی کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ انتخابی نتائج بدلنے کا واحد حل یہ ہے کہ ماضی میں جا کر ایران کے ساتھ جنگ کا آغاز ہی نہ کیا جائے۔ رپورٹس کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت کی شرح ریکارڈ سطح تک گر چکی ہے اور ریپبلکن امیدوار خود کو وائٹ ہاؤس سے دور رکھنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ ٹرمپ کے مشیروں نے نجی طور پر اعتراف کیا ہے کہ 2024 میں کامیابی دلانے والے آزاد اور سوئنگ ووٹرز کو دوبارہ متوجہ کرنے کی امیدیں دم توڑ چکی ہیں۔ پارٹی کو ایوان نمائندگان میں شکست کا سب سے زیادہ خوف ہے، جبکہ ایوان بالا یعنی سینیٹ میں بھی اکثریت برقرار رکھنے پر خدشات بڑھ رہے ہیں۔ صورتحال سے نمٹنے کے لیے ریپبلکن گروپس اور ٹرمپ کا سپر پیک فنڈز کا بے دریغ استعمال کر رہے ہیں۔ ٹیکساس میں سینیٹ کے امیدوار کین پاکسٹن کی مہم کے لیے 100 ملین ڈالر مختص کیے گئے ہیں۔ کئی امیدوار اپنی ویب سائٹس سے ٹرمپ کے نام کے اشارے ہٹا رہے ہیں جبکہ مشی گن کے سینیٹ امیدوار مائیک روجرز نے بھی ایران جنگ کو فوری ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ سیاسی رہنماؤں کو خدشہ ہے کہ سڑکوں پر ٹرمپ کا الیکشن مہم میں نام سامنے آنا ڈیموکریٹک ووٹرز کو متحد کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔ تاہم، وائٹ ہاؤس کے ترجمان ڈیوس اینگل کا کہنا ہے کہ ٹرمپ ہی پارٹی کے سب سے بڑے رہنما ہیں اور وہ کانگریس میں اکثریت برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہیں۔











