واشنگٹن (پاکستان نیوز) وزارت دفاع یعنی پینٹاگون کی راہداریوں میں اس وقت شدید پالیسی اور دفاعی بحران جنم لے چکا ہے کیونکہ امریکی عسکری قیادت اور وزیر دفاع پیٹ ہیگ سیتھ کے درمیان مشرق وسطیٰ اور بالخصوص ایران سے متعلق کارروائیوں پر اختلافات انتہائی نازک موڑ پر پہنچ گئے ہیں۔ امریکی فوج کے سرکردہ کمانڈروں نے طویل عرصے سے ایران کے گرد فوجی طاقت کی زبردست مرکزیت پر سخت تنقید کرتے ہوئے یہ واضح پیغام دیا ہے کہ یہ حکمت عملی امریکی قومی سلامتی اور اس کے عالمی مفادات کے لیے ناقابل تلافی نقصان کا سبب بن رہی ہے۔ تمام عالمی بحرانوں سے قطع نظر امریکی وسائل کو صرف ایک ہی میدان جنگ میں جھونک دینے سے امریکہ کے دنیا بھر میں قائم دیگر اہم ترین علاقائی دفاعی محاذ بری طرح متاثر ہو رہے ہیں اور امریکی فوج کی تیاری کی عمومی صلاحیتیں تاریخی زوال کی طرف گامزن ہیں۔ حالیہ عرصے میں سامنے آنے والی دستاویزات اور عسکری مشاورت سے یہ حقیقت کھلم کھلا ثابت ہوئی ہے کہ پینٹاگون کے سرکردہ رہنما وزیر دفاع کی پالیسیوں کے بوجھ کو اب مزید سہنے کے لیے تیار نہیں۔ امریکی یورپی کمانڈ، ہند بحرالکاہل کمانڈ اور جنوبی کمانڈ کے سربراہان نے نیوی ایڈمرل ڈیرل کاڈل کے ساتھ مل کر وزیر دفاع کے فیصلوں کیخلاف ایک رسمی اور قانونی اختلافی یادداشت جمع کرائی ہے۔ اگرچہ عسکری نظم و ضبط کے تحت جاری کردہ احکامات کی تعمیل تو کی جا رہی ہے، لیکن اعلیٰ ترین کمانڈروں نے تحریری طور پر یہ انتباہ درج کرایا ہے کہ اپنے بنیادی دفاعی خطوں یعنی یورپ، ایشیا اور لاطینی امریکہ سے جنگی وسائل، تباہ کن بحری جہاز، دفاعی نظام اور طیارے نکال کر مشرق وسطیٰ بھیجنا دراصل اپنے ہی گھر کو غیر محفوظ بنانے کے مترادف ہے۔ نیوی ایڈمرل ڈیرل کاڈل نے اپنے تفصیلی جائزہ میں وزیر دفاع پیٹ ہیگ سیتھ کو تشویشناک صورت حال سے آگاہ کرتے ہوئے نشاندہی کی ہے کہ بحری بیڑے کی حالت اب اس قدر زبوں حالی کا شکار ہے کہ امریکہ کے کل تباہ کن جنگی جہازوں میں سے صرف ایک چوتھائی سے کچھ زیادہ ہی اس وقت مکمل طور پر آپریشنل حالت میں موجود ہیں۔ فضائی فوج اور زمینی فوج کے سربراہان نے بھی اس حقیقت کی تائید کی ہے کہ متواتر جاری فضائی اور زمینی آپریشنز نے امریکی افواج کی مستقبل میں کسی نئے بحران سے نپٹنے کی صلاحیت کو خطرناک حد تک محدود کر دیا ہے۔ خاص طور پر ڈرون طیاروں کی مسلسل گشت اور طویل مدتی تعیناتی نے نہ صرف ڈرون اثاثوں کو بھاری نقصان پہنچایا ہے بلکہ گولہ بارود کے متوازن استعمال کو بھی درہم برہم کر کے رکھ دیا ہے۔ اس پوری کشمکش نے اس وقت اور بھی سنگین رخ اختیار کر لیا جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کمپ ڈیوڈ میں منعقدہ ایک اہم اور خصوصی اجلاس کے دوران وزیر دفاع پیٹ ہیگ سیتھ سے کڑے سوالات کیے۔ صدر نے وزیر دفاع سے اس امر کا جواب طلب کیا کہ امریکہ کی دفاعی اینٹی میزائل صلاحیتیں، ٹوما ہاک میزائل اور دیگر اہم جنگی ذخائر اس قدر تیزی سے کم کیوں ہو رہے ہیں۔ عسکری قیادت کا موقف بالکل واضح ہے کہ جنگ کی کوئی واضح سمت اور حتمی حد مقرر کیے بغیر اتنی بڑی تعداد میں فوج، طیارے اور بحری بیڑے غیر معینہ مدت کے لیے مشرق وسطیٰ میں رکھنا انتہائی غیر ذمہ دارانہ قدم ہے۔ کمانڈروں کے نزدیک پیٹ ہیگ سیتھ کی طرف سے نافذ کردہ آپریشنل تعطل نے طویل عرصے سے فوج کی کارکردگی اور دفاعی پائیداری کو شدید متاثر کیا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ پینٹاگون کا اعلیٰ عسکری طبقہ اب وزیر دفاع پیٹ ہیگ سیتھ کی قیادت میں نافذ العمل پالیسی کو امریکی قومی مفادات کے خلاف قرار دے رہا ہے۔ امریکی کمانڈروں کے نزدیک اگر فوری طور پر مشرق وسطیٰ سے وسائل کے انخلا اور متوازن تقسیم کا فیصلہ نہ کیا گیا، تو نہ صرف امریکہ اپنے جغرافیائی اور عالمی تحفظ کے فرائض سے محروم ہو جائے گا بلکہ کسی ناگہانی آفت کی صورت میں اسے کسی دوسرے اہم خطے میں شدید ہزیمت کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔ وزیر دفاع کے فیصلوں اور دفاعی ترجیحات کے حوالے سے پیدا ہونے والے اس عسکری و سیاسی تنازع نے پینٹاگون کے انتظامی اور پالیسی سازی کے پورے ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔









