نیویارک (پاکستان نیوز)نیویارک میں مقامی پولس اور وفاقی امیگریشن اداروں کے درمیان ہونیوالے متنازع 287 جی معاہدوں پر ریاستی سطح پر مکمل پابندی کا قانون باقاعدہ طور پر نافذ العمل ہو گیا ہے۔ مقامی پولیس اور مقامی جرائم کے قانون کے تحت اب ریاستی و مقامی پولیس اور قانون نافذ کرنے والے دیگر ادارے مدنی امیگریشن قوانین کے نفاذ کے لیے وفاقی اداروں کی معاونت نہیں کر سکیں گے۔ اس فیصلے کا بنیادی مقصد نیویارک کے مالیاتی و انتظامی وسائل کو وفاقی حکومت کی وسیع پیمانے پر تارکین وطن کی بے دخلی کی مہم کے بجائے مقامی سطح پر امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے استعمال کرنا ہے۔ گورنر کیتھی ہوچل نے اس نئے مرحلے کا باقاعدہ اعلان کرتے ہوئے واضح کیا کہ نیویارک کی مقامی پولیس کا کام شہروں اور محلو ں کو محفوظ بنانا ہے، نہ کہ وفاقی امیگریشن ایجنٹوں کی حیثیت سے فرائض انجام دینا۔ انہوں نے کہا کہ نئے قانون کے ذریعے وفاقی اداروں کو مقامی وسائل کے استعمال سے روک دیا گیا ہے تاکہ عوامی ٹیکسوں سے چلنے والے ادارے مقامی شہریوں اور تارکین وطن کی حفاظت یقینی بنا سکیں۔ ریاستی حکام کے مطابق اس اقدام سے قانونی کارروائی کے خوف کے بغیر تارکین وطن بھی جرائم کی اطلاع پولیس کو دے سکیں گے، جس سے معاشرتی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔ ریاستی اٹارنی جنرل لیٹیشیا جیمز نے اس سے قبل ان 12 مقامی اداروں کو نوٹسز جاری کیے تھے جن کے وفاقی امیگریشن حکام کے ساتھ معاہدے قائم تھے، اور انہیں 25 اگست 2026 تک تمام تر شراکت داری ختم کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ عدالتی سطح پر وفاقی وزارت انصاف کی جانب سے اس قانون پر روک لگانے کی کوشش بھی ناکام ہو چکی ہے۔ اس جامع قانون سازی کے ذریعے نیویارک نے اپنے خودمختار دائرہ اختیار کا تحفظ کرتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ عوامی تحفظ کے قومی اور مقامی ترجیحات کو ہر صورت مقدم رکھا جائے گا۔














