لاس اینجلس (پاکستان نیوز)کیلیفورنیا کے شہر سان ہوزے کی وفاقی عدالت سے ایک اہم اور تاریخی فیصلہ سامنے آیا ہے جس کے تحت امریکی انتظامیہ کو غیر ملکی طلبہ کو صرف اسرائیل پر تنقید کرنے کی بنیاد پر ملک بدر کرنے سے روک دیا گیا ہے۔ امریکی ڈسٹرکٹ جج نوئل وائز نے اپنے تفصیلی حکم نامے میں یہ واضح کیا ہے کہ امریکی حکومت ایسے غیر ملکی طلبہ یا صحافیوں کا ویزا منسوخ کر کے انہیں بیدخل نہیں کر سکتی جو اسرائیل کی پالیسیوں یا غازہ میں جاری جنگ پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں۔ عدالت نے امیگریشن اینڈ نیشنلٹی ایکٹ کی اس شق کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے شدید نکتہ چینی کی جس کا سہارا لے کر حکومت کسی بھی شخص کی موجودگی کو ملک کی خارجہ پالیسی کے خلاف قرار دے کر اسے نکال دیتی تھی۔ جج نے اپنے اہم ریمارکس میں کہا کہ اگر لوگوں کو صرف وہی بولنے کی اجازت دی جائے جو حکومت سننا چاہتی ہے تو آزادی اظہار رائے کا تصور ایک بھیانک اور بے معنی خواب بن کر رہ جائے گا۔ یہ کیس اسٹینفورڈ ڈیلی نامی طلبہ کے اخبار نے امریکی حکام کے خلاف دائر کیا تھا جس میں مؤقف اپنایا گیا تھا کہ ملک بدری اور ویزا کی منسوخی کے خوف کے باعث بین الاقوامی طالب علم صحافی اسرائیل اور فلسطین تنازع پر کھل کر لکھنے اور کوریج کرنے سے کتراتے ہیں۔ عدالت کے اس فیصلے کو دنیا بھر کے طلبہ اور انسانی حقوق کے اداروں کی طرف سے آزادی? اظہار کی بہت بڑی فتح قرار دیا جا رہا ہے۔









