غربت و محرومی ایک تلخ حقیقت !!!

0
7

غربت صرف خالی جیب کا نام نہیں بلکہ اس ماں کی بے بسی بھی ہے جو بچوں کو بھوکا دیکھتی ہے، اس باپ کی خاموشی بھی جو گھر کا کرایہ نہیں دے پاتا، اور اس بچے کا ادھورا خواب بھی جس کی ذہانت وسائل کی محتاج رہ جاتی ہے۔ یہ محرومی انسان سے آسائشیں ہی نہیں بلکہ اس کا اعتماد، اختیار اور امید بھی چھین لیتی ہے، اس لیے غربت کا خاتمہ محض خیرات نہیں بلکہ انسانی وقار اور انصاف کا بنیادی سوال ہے۔ ہر سال 17 اکتوبر کو غربت کے خاتمے کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ 2026ء کا خصوصی موضوع سب کے لیے محفوظ گھر ہے جو 2026ء تا 2028ء کی وسیع تر تھیم امن اور انسانی حقوق کے لیے متحد کا حصہ ہے۔ یہ موضوع ہمیں یاد دلاتا ہے کہ محفوظ رہائش صرف چھت کی فراہمی نہیں بلکہ باوقار زندگی، معاشرتی تحفظ اور پائیدار امن کی بنیادی شرط ہے، لیکن ترقیاتی منصوبوں، عالمی امداد اور بلند بانگ دعووں کے باوجود محفوظ گھر آج بھی کروڑوں انسانوں کی دسترس سے باہر کیوں ہے؟ کیا اصل مسئلہ وسائل کی کمی ہے یا ان کی غیر منصفانہ تقسیم؟ جب رہائش بنیادی انسانی ضرورت کے بجائے صرف منافع کمانے کا ذریعہ بن جائے تو کم آمدنی والے خاندان کہاں جائیں؟ ایسی معاشی ترقی کی معنویت کیا ہے جس میں عمارتیں تو بلند ہوں مگر انسان کی زندگی غیر محفوظ رہے؟ محفوظ گھر محض چار دیواری نہیں بلکہ ایک ایسی جگہ ہے جہاں بچے اطمینان سے پڑھ سکیں، خواتین کامل تحفظ محسوس کریں اور خاندان بے دخلی کے خوف کے بغیر رہ سکیں۔ بڑھتے ہوئے کرائے، غیر صحت بخش بستیاں اور بنیادی سہولتوں کی عدم دستیابی اس انسانی تحفظ کو کھوکھلا کر دیتی ہیں، جبکہ غربت کو صرف آمدنی کے پیمانے سے دیکھنا ان تمام جڑی ہوئی محرومیوں کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے۔ اس سال کے موضوع سے متعلق تصوری دستاویز کے مطابق 2.8 ارب سے زیادہ افراد کسی نہ کسی صورت میں نامناسب رہائش کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہ مسئلہ صرف سڑکوں پر سونے والوں تک محدود نہیں بلکہ وہ تمام خاندان بھی اس محرومی کا شکار ہیں جو کرایہ ادا کرنے کے بعد خوراک، علاج اور تعلیم کے بنیادی اخراجات پورے نہیں کر پاتے۔
پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں بھی غربت کی بحث کو محض راشن کی تقسیم اور امدادی اعلانات سے آگے بڑھانا ہو گا۔ یہ جاننے کی شدید ضرورت ہے کہ قومی ترقیاتی بجٹ حقیقت میں کس طبقے تک پہنچتا ہے، رہائشی منصوبے کن طبقات کی ترجیحات کو سامنے رکھ کر بنائے جاتے ہیں اور معاشی فیصلوں کا اصل بوجھ کون اٹھاتا ہے؟ محض ملازمت فراہم کر دینا کافی نہیں بلکہ اجرت اتنی ہونی چاہیے کہ محنت کش اپنے خاندان کی تمام بنیادی ضروریات عزت کے ساتھ پوری کر سکے۔ صدقہ اور خیرات فوری سہارا تو دیتے ہیں مگر یہ مستقل محتاجی کا حل نہیں ہیں، اسی لیے راشن کے ساتھ ساتھ باعزت روزگار، امدادی علاج کے ساتھ قابلِ رسائی صحت اور رہائش کے ساتھ خاندانوں کی مالی استطاعت کو ترجیح دینا وقت کی اہم ضرورت ہے، جبکہ شفاف بجٹ، آزادانہ نگرانی اور سخت جواب دہی کے بغیر یہ تمام منصوبے صرف کاغذی کامیابیاں ہی رہیں گے۔ پالیسی سازی اور فیصلوں میں محروم طبقات کی آواز شامل کرنا بھی لازمی عمل ہے۔ غربت کے خاتمے کے حوالے سے صرف سالانہ تقریبات نہیں بلکہ حکومتی ترجیحات کا شفاف احتساب بھی ہونا چاہیے۔ سب کے لیے محفوظ گھر کے منصوبے کی کامیابی کا اندازہ اشتہارات یا افتتاحی تختیوں سے نہیں بلکہ اس واقعی تبدیلی سے ناپا جائے کہ کسی بھی خاندان کو کرائے اور خوراک میں سے کسی ایک کا انتخاب نہ کرنا پڑے، کسی بچے کی تعلیم وسائل کی کمی سے نہ رکے اور ہر محنت کش زندگی کی بنیادی ضرورتوں کی فراہمی کے ساتھ ایک باوقار زندگی گزار سکے، ورنہ غربت کے خاتمے کے یہ تمام دعوے عوام کی محرومیوں کی تلخ حقیقت کے سامنے محض بے اثر نعرے ہی رہیں گے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here