پاکستان کے روشنیوں، صنعتوں، کاروباریوں، ملازمتوں، نوکریوں، امن پسندوں، آبادکاروں کا شہر کراچی تباہ وبرباد کردیا گیا۔ جو ایشیا کا ترقی یافتہ مقام بن چکا تھا۔ یہاں ملک بھر کے مزدور محنت کش طبقہ کام کرتا تھا۔ جس کی آبادی مقامی سندھیوں بھارتی مہاجروں، پٹھانوں، پنجابیوں، بلوچوں، گجراتیوں، کشمیریوں، بنگالیوں، پرمیوں، ایرانیوں اور مقامی لوگوں پر مشتمل ہے جس کو اقوام متحدہ کہا جائے تو مبالغہ نہ ہوگا جو ماضی میں مزدوروں، اور طالب علموں کی تحریکوں کا گڑھ کہلاتا تھا۔ جن کی صرف ایک رابطے کی زبان اردو ہے جس کو اسٹیبلشمنٹ نے مقصد اور منصوبہ بندی کے تحت تباہ وبرباد کیا کہ جب شہر کے محنت کشوں اور مزدوروں کے درمیان لسانی اور نسلی گروہ پیدا کیئے گئے جس سے شہر میں ایک خانہ جنگی پیدا کی گئی جو امن کی بجائے جلائو گھیرائو کی آماہ جگاہ بن گئی۔ اہل شہر ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہوگئے جو ایک دوسرے کو قتل کرنے لگے جس سے اہلیان کراچی ایک دوسرے سے اجنبی بن گئے جس سے کراچی لاوارثوں کا شہر بن گیا۔ جو اب اپنی تین کروڑ کی آبادی کے باوجود اپاہجوں کا شہر کہلاتا ہے وہ شہر جو ملک اور صوبہ سندھ کو 75 فیصد آمدن فراہم کرتا ہے جس کے بغیر ملک کا کوئی ادارہ چل نہیں سکتا ہے اس کے باسی دن رات تڑپ تڑپ کر گزار رہے ہیں جس کی سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں گندھے نالے بند ہیں پینے کو پانی دستیاب نہیں ہے اہلیان شہر غربت اور افلاس کا شکار ہوچکا ہے جو پورے ملک کو روٹی فراہم کرتا ہے مگر خود بھوکا سوتا ہے ایسے میں آج کراچی کو دنیا کے تجارتی دارلخلافہ نیویارک شہر کی طرح ایک زوہران ممدانی چاہئے جو شہر کے غریبوں مسکینوں، بے بسوں، بے کسوں اور لاچاروں کی آواز بن کر اُبھرے جو نیویارک شہر کی طرح مختلف زبانوں، کلچروں لسانوں پر مشتمل عوام کی بلاتفریق نمائندگی کر پائے۔ تاہم کراچی کو منصوبہ بندی کے تحت تباہ وبرباد کیا جارہا ہے جس کا ایک ایسا شخص میسر بنایا گیا جو کسی جگہ سے کونسلر تک منتخب نہیں ہوسکتا ہے جبکہ شہر کو پھر ایک افغانی اور نعمت اللہ یا پھر نیویارک شہر جیسے میسر کے امیدوار زوہران ممدانی کی سخت ضرورت ہے۔ جو شہر کراچی کو نیویارک کی طرح دنیا کا ترقی یافتہ شہر بنا دے جس میں تفریق نامی کوئی نشان نہ باقی نہ بچے۔ بہرکیف شہر کراچی اپنا پھیلا دیا گیا کہ جس کی اردگرد کی تمام زراعت کو نسیت ونابود کر دیا گیا ہے جو کراچی کو سبزیاں، فروٹ اور میوا جات فراہم کیا کرتی تھی۔ وہ تمام زرعی علاقے آج بحریہ ٹائون رہائشی سوسائٹیوں اور مکانوں میں بدل دیئے گئے ہیں یہ جانتے ہوئے کہ شہر کے اردگرد زراعت کو بچانے کے لئے رہائشی کنالوں اور ایکڑوں میں پھیلی ہوئی سوسائٹیوں کی بجائے اونچی اونچی عمارتوں کی ضرورت تھی جس طرح نیویارک یا آج کا بمبئی شہر میں پائی جاتی ہیں جو اب خوراک کے کسی قحط کی نشانی ہے کہ اگر ملک میں فصلوں کو کچھ ہوا تو ب سے پہلے کراچی مٹ جائے گا لہٰذا بہتر یہی ہے کہ اہلیان کراچی کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ اسی طرح نفرتوں، حقارتوں اور ذلالتوں پر تقسیم ہو کر زندگی میسر کریں گے۔ یا پھر متحد ہو کر شہر کراچی کو دوبارہ آباد کریں گے جس کے لئے ایک غیر جانبدار اور انسان دوست ممدانی چاہئے۔
٭٭٭

![2021-04-23 18_32_09-InPage - [EDITORIAL-1-16] رمضان رانا](https://weeklynewspakistan.com/wp-content/uploads/2021/04/2021-04-23-18_32_09-InPage-EDITORIAL-1-16.png)














