نیویارک (پاکستان نیوز)نیویارک میں بم دھماکے کی سازش سے متعلق متنازع رپورٹ پر شدید عوامی ردعمل کے بعد امریکی خبر رساں ادارے سی این این نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ حذف کرتے ہوئے معذرت کر لی ہے۔واشنگٹن سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق سی این این کو اس وقت شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا جب اس نے نیویارک سٹی میں دہشت گردی کی ایک ناکام کوشش کو انتہائی غیر سنجیدہ انداز میں پیش کیا۔ ادارے نے اپنی ایک تحریر میں کہا تھا کہ پنسلوانیا سے تعلق رکھنے والے دو نوجوان ہفتے کی صبح نیویارک پہنچے تاکہ معمول کے مطابق خوشگوار موسم کا لطف اٹھا سکیں لیکن ایک گھنٹے کے اندر ہی ان کی زندگی بدل گئی کیونکہ انہیں میئر ظہران ممدانی کے گھر کے باہر احتجاج کے دوران دیسی ساختہ بم پھینکنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔ وزارت انصاف نے اس کارروائی میں ملوث دو افراد عامر بالات اور ابراہیم قیومی پر فرد جرم عائد کی ہے۔ استغاثہ کا کہنا ہے کہ ان دونوں نے احتجاج کے دوران دو دھماکہ خیز آلات پھٹنے کی کوشش کی اور دوران حراست دہشت گرد گروہ داعش کا حوالہ بھی دیا۔ سوشل میڈیا پر خاص طور پر قدامت پسند حلقوں کی جانب سے اس رپورٹنگ پر سخت غم و غصے کا اظہار کیا گیا اور موقف اپنایا گیا کہ ادارے نے ایک سنگین جرم کو معمولی رنگ دینے کی کوشش کی۔ شدید دباؤ کے بعد نیٹ ورک نے ایک وضاحتی بیان جاری کیا جس میں تسلیم کیا گیا کہ مذکورہ تحریر واقعے کی سنگینی کو واضح کرنے میں ناکام رہی اور یہ ان کے صحافتی معیار کے خلاف تھی۔ ادارے نے اپنی ویب سائٹ پر موجود خبر میں بھی ترمیمی نوٹ شامل کر دیا ہے۔ واضح رہے کہ مذکورہ چینل کو گزشتہ کئی برسوں سے سابق صدر ٹرمپ اور ان کے حامیوں کی جانب سے جانبداری کے الزامات کا سامنا ہے۔ حال ہی میں وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ اور چینل کی معروف صحافی کے درمیان ایران میں امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی کوریج پر بھی تلخ کلامی ہوئی تھی جبکہ ٹرمپ نے ادارے کی قیادت میں تبدیلی کی خواہش کا اظہار بھی کیا ہے۔













