ٹرمپ کے بیانات جھوٹ پر مبنی ہوتے ہیں، نفسیاتی ماہرین

0
7

ٹورنٹو (پاکستان نیوز)ٹورنٹو کے معتبر صحافتی ادارے نے اپنی حالیہ اشاعت میںامریکہ کے صدر کی ذہنی استعداد اور ان کی بدلتی ہوئی عوامی ترجیحات پر ایک مفصل تجزیاتی رپورٹ پیش کی ہے جس نے عالمی سطح پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق گزشتہ چند ماہ کے دوران صدر کے برتاؤ میں نمایاں تبدیلیاں مشاہدہ کی گئی ہیں جن میں گفتگو کے دوران اصل موضوع سے بھٹک جانا اور غیر متعلقہ واقعات کا تذکرہ کرنا شامل ہے۔ کینیڈا کے دانشوروں اور ماہرینِ نفسیات نے اس صورتحال کو ذہنی ارتکاز میں کمی سے تعبیر کیا ہے اور یہ دعویٰ کیا ہے کہ عوامی اجتماعات میں ان کی تقاریر کا بڑا حصہ اب غیر مربوط خیالات پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں یہ نکتہ بھی اٹھایا گیا ہے کہ ابلاغ عامہ کے بعض ادارے صدر کی گفتگو کے صرف بامقصد حصوں کو نشر کر کے ان کی اصل ذہنی کیفیت کو چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ حقیقت میں ان کے لب و لہجے میں جھلاہٹ اور یادداشت کے مسائل واضح طور پر نمایاں ہو رہے ہیں۔ رپورٹ میں صدر کے روزمرہ کے سرکاری معمولات پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کے کام کرنے کے اوقات میں غیر معمولی کمی واقع ہو چکی ہے۔ دستاویزی شواہد بتاتے ہیں کہ صدر کی عوامی تقریبات اور سرکاری ملاقاتوں کی تعداد میں ان کے گزشتہ دورِ اقتدار کے مقابلے میں لگ بھگ چالیس فیصد تک کمی آئی ہے اور اب وہ دن کا بیشتر حصہ عوامی نظروں سے اوجھل رہ کر گزارتے ہیں۔ ان کی زیادہ تر مصروفیات اب دوپہر سے شروع ہو کر شام ڈھلنے سے پہلے ہی ختم ہو جاتی ہیں جو کہ ایک عالمی طاقت کے سربراہ کے لیے انتہائی غیر معمولی بات تصور کی جاتی ہے۔ ان تمام تحفظات کے برعکس قصرِ ابیض کے طبی ماہرین نے ایک جامع بیان جاری کیا ہے جس میں صدر کو مکمل طور پر تندرست اور ذہنی طور پر توانا قرار دیا گیا ہے۔ حکومتی ترجمان کا کہنا ہے کہ صدر نے تمام طبی آزمائشوں میں بہترین کامیابی حاصل کی ہے اور ان کے خلاف پھیلائی جانے والی خبریں محض سیاسی مخالفت پر مبنی ہیں۔ اس تضاد نے جہاں عوامی حلقوں میں بے چینی پیدا کر دی ہے وہیں بین الاقوامی سیاست پر نظر رکھنے والے ماہرین اسے مستقبل ے سیاسی منظرنامے کے لیے ایک اہم موڑ قرار دے رہے ہیں۔ ٹورنٹو کے جریدے میں شائع ہونے والی خبروں کے جواب میں وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک پریس کانفرنس کے دوران ان تمام دعوؤں کو یکسر مسترد کر دیا ہے جن میں صدر کی ذہنی حالت پر سوالات اٹھائے گئے تھے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ صدر کی یادداشت اور فیصلہ سازی کی قوت پہلے سے زیادہ مضبوط ہے اور وہ روزانہ کی بنیاد پر پیچیدہ قومی و بین الاقوامی معاملات پر تفصیلی مشاورت کرتے ہیں۔ ترجمان نے کینیڈا کے ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کو سیاسی طور پر جانبدارانہ اور حقائق کے منافی قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ صدر کے کام کرنے کا انداز ان کی اپنی ترجیحات کے مطابق ہے اور ان کے اوقاتِ کار میں تبدیلی کا مقصد ان کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانا ہے نہ کہ کسی کمزوری کو چھپانا۔ اسی سلسلے میں صدارتی معالج کی جانب سے ایک تفصیلی طبی یادداشت بھی جاری کی گئی ہے جس میں صدر کے حالیہ معائنے کے نتائج فراہم کیے گئے ہیں۔ اس رپورٹ کے مطابق صدر نے دماغی صلاحیتوں کو جانچنے کے لیے کیے جانے والے ایک مخصوص امتحان میں سو فیصد کامیابی حاصل کی ہے جو ان کے اعصابی نظام کی درستگی کا ثبوت ہے۔ معالج کا کہنا ہے کہ صدر کے قلب اور خون کی گردش کا نظام ان کی عمر کے لحاظ سے بہترین حالت میں ہے اور ان کے تمام اعضاء مکمل طور پر فعال ہیں۔ رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ صدر ایک متحرک طرزِ زندگی گزار رہے ہیں اور ان کی قوتِ مدافعت میں کسی قسم کی کمی کے آثار نہیں پائے گئے۔ اس سرکاری موقف کے بعد حکومتی حلقوں میں اطمینان کا اظہار کیا جا رہا ہے جبکہ ناقدین اب بھی صدر کی عوامی تقریبات کی کم ہوتی ہوئی تعداد پر اپنے خدشات کا اظہار کر رہے ہیں۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here