نیویارک (پاکستان نیوز)سینیٹر کوری بکر نے سن دو ہزار اٹھائیس کے صدارتی انتخابات سے قبل ایک انقلابی ٹیکس بل متعارف کروانے کا اعلان کیا ہے جس کے تحت سالانہ پچھتر ہزار ڈالر تک کی آمدن کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دینے کی تجویز دی گئی ہے۔ نیو جرسی سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹک سینیٹر کوری بکر رواں ہفتے ایوان میں ایک ایسا بل پیش کرنے جا رہے ہیں جو کم اور متوسط آمدنی والے طبقے کے لیے ٹیکسوں کے بوجھ میں نمایاں کمی کرے گا۔ اس منصوبے کے مطابق شادی شدہ جوڑوں کے لیے بنیادی ٹیکس استثنیٰ کی حد کو بڑھا کر پچھتر ہزار ڈالر کر دیا جائے گا، جبکہ انفرادی طور پر ٹیکس جمع کروانے والوں کے لیے یہ حد ساڑھے سینتیس ہزار ڈالر ہوگی۔ موجودہ قانون کے مقابلے میں یہ رقم دوگنا سے بھی زیادہ ہے، جس کا مقصد عام شہریوں کی جیب میں زیادہ رقم بچانا اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کا مقابلہ کرنا ہے۔ سینیٹر بکر کا کہنا ہے کہ یہ ایک سادہ سی سوچ ہے کہ امریکی خاندانوں کو اپنی ابتدائی پچھتر ہزار ڈالر کی کمائی پر کوئی ٹیکس ادا نہیں کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق اس اقدام سے اوسط درجے کے امریکی شہری کی مجموعی آمدنی پر گہرے مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ اس بل میں گھر کے سربراہ کے لیے ٹیکس چھوٹ کی حد چھپن ہزار دو سو پچاس ڈالر مقرر کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔ یہ قانون سازی ایک ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہے جب ڈیموکریٹس مستقبل میں ٹیکس نظام کی ازسرنو تشکیل کے لیے نئے خیالات پر غور کر رہے ہیں۔ کوری بکر، جو سن دو ہزار بیس میں بھی صدارتی دوڑ کا حصہ رہ چکے ہیں، اب سن دو ہزار اٹھائیس کے انتخابات میں بھی شرکت کے امکانات کو مسترد نہیں کر رہے۔ اگرچہ ان کی فوری توجہ رواں سال سینیٹ کی نشست پر دوبارہ کامیابی حاصل کرنے پر ہے، تاہم اس بل کو ان کے مستقبل کے صدارتی ایجنڈے کے ایک اہم حصے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ سینیٹر بکر کا مؤقف ہے کہ امریکی عوام ماضی کے مقابلے میں زیادہ سخت محنت کر رہے ہیں لیکن ان کی آمدنی صحت، رہائش اور دیگر بنیادی ضروریات کے لیے ناکافی ثابت ہو رہی ہے۔ ان کے خیال میں موجودہ معاشی نظام عام آدمی کے لیے درست طریقے سے کام نہیں کر رہا، اس لیے امریکی خواب کی تعبیر کے لیے ایسے بڑے اور جرات مندانہ اقدامات کی ضرورت ہے۔









