اسلام آباد (پاکستان نیوز) پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی نجکاری کے باوجوداس کے پرانے قرضوں اور بعض اثاثوں کوسنبھالنے کیلیے قائم کی گئی پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی کو مالی سال 2025-26 کی پہلی ششماہی کے دوران 21.6 ارب روپے کے خسارے کاسامنا کرناپڑا، جس کے بعدکمپنی کے مجموعی نقصانات بڑھ کر 740.6 ارب روپے ہوگئے ہیں۔وزارت خزانہ کے سنٹرل مانیٹرنگ یونٹ (سی ایم یو) کی سرکاری اداروں سے متعلق جولائی تا دسمبر 2025 کی ششماہی رپورٹ کے مطابق پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی ملک کے سب سے زیادہ خسارہ کرنے والے سرکاری اداروں میں چھٹے نمبر پر رہی۔رپورٹ کے مطابق حکومت نے پی آئی اے کے پرانے قرضوں کی ادائیگی اور سروسنگ کیلیے رواں مالی سال کے بجٹ میں کم از کم 30 ارب روپے مختص کیے ہیں۔ موجودہ مالی سال میں صرف سودکی لاگت حکومت کو پی آئی اے کی 75 فیصدحصص کی فروخت سے موصول ہونیوالی 10 ارب کی نقد رقم سے تقریباً تین گنا ہے۔پی آئی اے کے 75 فیصدحصص کیلیے کامیاب بولی 135 ارب روپے کی تھی، تاہم حکومت کواس میں سے صرف 10 ارب روپے نقدموصول ہوئے، جبکہ باقی رقم کامیاب خریدارکی جانب سے ایٔرلائن میں سرمایہ کاری کی جانی تھی۔ باقی 25 فیصدحصص بھی اسی خریدارکو 45 ارب روپے نقدکے عوض منتقل کیے جانے ہیں۔رپورٹ میں بتایاگیاہے کہ سرکاری اداروں کے مجموعی نقصانات میں بھی خاطرخواہ کمی نہیں آئی اور جولائی تادسمبر 2025 کے دوران یہ نقصانات 343 ارب روپے رہے، جن میں پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی کا 21.6 ارب روپے کاخسارہ بھی شامل ہے۔دوسری جانب سرکاری اداروں سے قومی خزانے کوحاصل ہونیوالا خالص مالی فائدہ 91 فیصدکم ہوکر محض 35 ارب روپے رہ گیا،جوگزشتہ سال کی اسی مدت میں 427 ارب روپے تھا۔ اس کمی کی بڑی وجوہات میں حکومتی نقدمعاونت میں اضافہ اور سرکاری اداروں کی جانب سے مالیاتی شراکت میں کمی شامل ہیں۔سی ایم یوکی رپورٹ کے مطابق نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) 124.6 ارب روپے کے ششماہی خسارے کے ساتھ سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والا ادارہ رہا۔ اس کے مجموعی نقصانات بڑھ کر 2.17 کھرب روپے ہوگئے ہیں، جوکسی بھی سول سرکاری ادارے کے سب سے زیادہ مجموعی نقصانات ہیں۔رپورٹ کے مطابق بجلی کے شعبے کی مالی صورتحال مزیدخراب ہوئی ہے اور تقسیم کار کمپنیاں بدستورقومی خزانے پر بھاری بوجھ بن رہی ہیں۔













