نیویارک (پاکستان نیوز) آج صبح عالمی منڈی میں خام تیل کے اعداد و شمار دیکھ کر عالمی معیشت اور توانائی کے ماہرین شدید ششدر رہ گئے۔ صرف 24گھنٹوں کے قلیل عرصے میں برینٹ کروڈ کی قیمت میں 4فیصد سے زائد کا خوفناک اضافہ ریکارڈ کیا گیا، اور سیشن کے دوران قیمت 107ڈالر فی بیرل کی سطح سے تجاوز کر گئی۔ یہ سطح رواں سال کے سب سے بلند ترین ہندسے 109.97ڈالر کے انتہائی قریب پہنچ چکی ہے۔سابق امریکی صدر بش سینئر کے دور حکومت سے لے کر ڈونلڈ ٹرمپ کے موجودہ دور اقتدار تک، امریکی حکام کی جانب سے مشرق وسطیٰ کی ریاستوں میں عدم استحکام پیدا کرنے کی جو دیرینہ پالیسی چلی آ رہی ہے، یہ تمام صورتحال اسی چار دہائیوں پر محیط پالیسی کا تسلسل ہے۔ امریکی انتظامیہ کی اس جارحانہ حکمت عملی نے خطے کو مسلسل جنگ کے شعلوں میں دھکیلے رکھا، جس کا نتیجہ آج عالمی توانائی کے بھیانک بحران کی صورت میں دنیا کے سامنے آ رہا ہے۔
اس کی تازہ ترین وجہ لال سمندر اور آبنائے باب المندب میں رونما ہونے والے وہ ڈرامائی عسکری واقعات ہیں جنہوں نے طاقت کا توازن یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ یمن کی حوثی ملیشیا نے تزویراتی لحاظ سے انتہائی اہم دو جزائر—کبیر حنیش اور صغیر حنیش—پر مکمل طور پر قبضہ حاصل کر لیا ہے۔ بظاہر غیر اہم دکھائی دینے والے یہ جزائر درحقیقت سعودی عرب اور خلیجی ممالک کے تیل کی برآمدات کی شاہ رگ پر واقع ہیں۔ پہلے ہی امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان ہونے والی شدید جنگ کے باعث خلیج فارس کی آبنائے ہرمز تقریباً بند ہو چکی تھی، جس کی وجہ سے سعودی عرب اپنی برآمدات کے لیے لال سمندر کے متبادل راستے پر منحصر تھا، لیکن اب حوثیوں نے اس واحد پناہ گاہ کو بھی اپنے نشانہ پر لے لیا ہے۔
ریاض کی تشویش کے بعد شاہ خالد ایئر بیس سے سعودی شاہی فضائیہ کے جنگی طیاروں نے یمن میں حوثی مواضع پر مسلسل 54کارپٹ بمباریاں کی ہیں۔ تعز، میرب اور الجوف کے اطراف کے علاقوں کو بارود سے نہلا دیا گیا اور جنگی طیاروں کے نیچے اترنے کے پہیے مسلسل پروازوں کی وجہ سے گرم ہو گئے۔ تاہم، اس تمام تر فضائی طاقت کا عملی نتیجہ کچھ نہ نکل سکا اور شدید بمباری کے باوجود جنگ کا پاسہ نہ پلٹ سکا۔ حوثیوں نے نہ صرف تعز، میرب اور الجوف جیسے شہروں میں زمینی جوابی حملوں کو کامیا بی سے ناکام بنایا بلکہ سمندر میں ایک کارروائی انجام دی۔ جب متحدہ عرب امارات نے سعودی عرب سے شدید سیاسی اختلافات اور کشیدگی کی بنا پر حنیش جزائر سے اپنے دفاعی سسٹمز اور فوجیں واپس بلائیں، تو حوثیوں نے پیش قدمی کرتے ہوئے دونوں جزائر پر اپنا پرچم لہرا دیا۔ حوثی فورسز نے جنوبی سعودی عرب کے سرحدی شہروں خمیس مشیط، ابہا اور طائف پر متعدد بیلسٹک میزائلوں اور انتحاری ڈرونز کا انتہائی شدید استعمال کیا ہے۔ ان حملوں کے نتیجے میں سعودی عرب کی 1200کلومیٹر طویل مشرقی مغربی تیل کی پائپ لائن شدید متاثر ہوئی اور اس کی سروسز معطل کرنا پڑیں۔ اس ابتر صورتحال کے بعد 2022ء میں طے پانے والا تاریخی سیز فائر معاہدہ اب بالکل معطل ہو چکا ہے۔
ان چند جزائر پر قبضے سے عالمی مارکیٹ میں پیٹرول کے بے قابو ہونے کی وجہ بالکل واضح ہے: دنیا کی کل تیل کی تجارت کا تقریباً 20فیصد حصہ خلیج فارس کی آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے۔ لیکن رواں سال میں امریکہ، اسرائیل اور ایران کی خوفناک عسکری کشمکش کے باعث یہ راستہ مسدود ہو چکا ہے۔ اس کے بعد سعودی عرب نے پائپ لائن کے ذریعے روزانہ 70لاکھ بیرل خام تیل لال سمندر کے ساحلی شہرنبع پہنچا کر یورپ اور ایشیا بھیجنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ لیکن حوثیوں نے جن حنیش جزائر پر قبضہ کیا ہے، وہ باب المندب کے بالکل شمال میں مرکزی بحری راستے پر واقع ہیں۔ مزید برآں، پائپ لائن کی بندش کے بعد نبع بندرگاہ کے پاس موجود ذخائر صرف چند دن کا ساتھ دے سکتے ہیں۔ اگر مرمت میں تاخیر ہوئی تو سعودی عرب کے پاس برآمدات کے لیے تیل ختم ہو جائے گا، جس سے عالمی سپلائی منقطع ہو کر قیمتوں میں مزید آتشفشاں پیدا ہوگا۔
یہ معرکہ ایک کلاسیکی تزویراتی چال ہے جسے مغربی معیشتوں پر دباؤ بڑھانے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔ خلیج فارس میں امریکی اور اسرائیلی گھیراؤ کے جواب میں، ایران کے اتحادیوں نے لال سمندر کی شاہ رگ کاٹ کر اور تیل کی قیمتیں بڑھا کر واضح پیغام دیا ہے کہ خلیج میں تناؤ کا خمیازہ عالمی افراط زر کی صورت میں پورے مغرب کو بھگتنا پڑے گا۔ دوسری طرف سعودی ولی عہد نے امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل مائیکل کریلا سے ہنگامی ملاقات کر کے حوثیوں پر مستقیم امریکی بمباری کی درخواست کی، لیکن واشنگٹن کی طرف سے محض معلومات فراہم کرنے کی حد تک ہی جواب ملا اور براہ راست عسکری مداخلت سے انکار کر دیا گیا۔ امریکہ خود ایرانی ڈرونز اور میزائلوں کے اثرات سے پناہ ڈھونڈ رہا ہے، لہذا وہ ریاض کی مکمل حفاظت کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔
اس ابتر معاشی و عسکری صورتحال کا سب سے عجیب اور حیران کن پہلو یہ ہے کہ مشرق وسطیٰ کے وہ ممالک جو خود دنیا میں ایندھن کے سب سے بڑے پیداوار کنندگان سمجھے جاتے ہیں، اب اپنی ضروریات اور معاہدوں کو پورا کرنے کے لیے امریکہ سے ایندھن خریدنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ قطر کے قومی ادارے قطر انرجی نے بین الاقوامی خریداروں کے ساتھ اپنے معاہدوں کو قائم رکھنے اور راس لفان کی تنصیبات کی معطلی کے بعد پیدا ہونے والے خلا کو پر کرنے کے لیے امریکہ سے تقریباً ایک ارب ڈالر کی مائع قدرتی گیس اور مائع پیٹرولیم گیس خریدی ہے، جبکہ ٹیکساس میں موجود گولڈن پاس برآمدی مرکز سے بھی ایندھن حاصل کیا جا رہا ہے۔
اسی طرح کویت نے اپنے پاور ہاؤسز کو بجلی کی فراہمی جاری رکھنے کے لیے امریکہ سے ایندھن خریدا ہے، جبکہ متحدہ عرب امارات کی ریفائنریاں اور کیمیائی کارخانے بھی امریکہ سے خام تیل اور گیس کی مصنوعات حاصل کر رہے ہیں۔ عراق بھی ایرانی ایندھن کی بندش کے بعد امریکی معاونت والے ایندھن پر انحصار بڑھا رہا ہے۔ حوثیوں نے یمن کی پوری مغربی ساحلی پٹی، حنیش جزائر اور جزیرہ پرائم پر قبضہ کر کے باب المندب کی چابی اپنے ہاتھ میں لے لی ہے۔ ان جزائر پر بحری میزائل سسٹمز اور ڈرون سائٹس کی تنصیب کے بعد لال سمندر کا پورا بحری راستہ تہران اور صنعائ کے اثر و رسوخ کے تابع ہو جائے گا۔ ان حالات میں امریکہ کی چار دہائیوں پر محیط مداخلت نے پورے مشرق وسطیٰ اور عالمی معیشت کو ایک انتہائی خطرناک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔












