قرضوں کے بوجھ سے ٹیکسی ڈرائیورزکی ہلاکتوںمیں اضافہ

0
3

نیویارک (پاکستان نیوز)نیویارک میں رواں سال کے گرمائی موسم کے دوران کم از کم 4 ییلو ٹیکسی ڈرائیور دورانِ ملازمت گاڑیوں میں پراسرار طور پر جاں بحق ہو گئے جس نے شہر کی مسافر ترسیل کی صنعت میں کام کرنیوالے محنت کشوں کے حالاتِ زندگی کو تشویشناک بنا دیا ہے۔ جاں بحق ہونیوالے تمام افراد غیر ملکی تارکینِ وطن تھے جو اپنے گھر بار کا خرچ چلانے کے لیے شدید معاشی مشکلات کا سامنا کر رہے تھے۔ یہ افراد ٹیکسی کا لائسنس حاصل کرنے کے لیے گئے بھاری قرضوں کی ادائیگی کی خاطر روزانہ 12 سے 16 گھنٹے مسلسل محنت کرنے پر مجبور تھے۔ ٹیکسی اتحاد کے نمائندوں کے مطابق یہ کاروبار اب محنت کشوں کے لیے معاشی قید خانہ بن چکا ہے جہاں ہر دن کا آغاز مالی خسارے سے ہوتا ہے اور گاڑی کے اخراجات پورے کرنے کے لیے بیماری اور شدید ذہنی دباؤ کے باوجود کام جاری رکھنا پڑتا ہے۔ نجی سواری سروسز کی آمد اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث روایتی ڈرائیوروں کی آمدنی میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے جس سے ان کا معیارِ زندگی شدید متاثر ہوا ہے۔ شہر کی انتظامیہ اور شعبہ ترسیل کی کمیٹی اس وقت سڑکوں کی حفاظت اور بجلی سے چلنے والی سواریوں کے لیے 20 سے زائد قانونی مسودوں پر غور کر رہی ہے لیکن ڈرائیوروں کی تنظیمیں ان اقدامات کو ناافی قرار دے رہی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ڈرائیوروں کی مالی امداد اور ان کے قرضوں کی ازسرنو تنظیم کے لیے فوری اقدامات نہ کیے گئے تو اس تاریخی صنعتی شعبے کی بقا اور اس سے وابستہ ہزاروں محنت کشوں کی زندگیاں شدید خطرے میں رہیں گی۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here