مشی گن الیکشن ؛عبدالسید کو انتہا پسند قرار دینے کی سازش

0
3

ڈیٹرائٹ(پاکستان نیوز)مشی گن میں ایوان بالا کی شدید ترین مقابلے والی نشست پر انتخابی مہم حتمی مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جہاں ریپبلکن پارٹی کی جانب سے ڈیموکریٹس کو انتہا پسند اور سخت گیر بائیں بازو کے نظریات کا حامل قرار دینے کی مہم جاری ہے۔ اس مقصد کے لیے کارکنان اور رضاکار گھر گھر جا کر ووٹروں سے براہ راست رابطہ کر رہے ہیں اور اپنے امیدوار مائیک روجرز کی حمایت جبکہ مخالف ڈیموکریٹ امیدوار عبدالسید کی مخالفت میں مواد تقسیم کر رہے ہیں۔ اس مہم جوئی کا بنیادی مقصد ان ووٹرز کو متحرک کرنا ہے جو عام طور پر انتخابات میں حصہ لینے میں سستی دکھاتے ہیں۔ گھروں کی دہلیز پر کی جانے والی اس تبلیغی مہم کا اثر ملا جلا دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ایک طرف جہاں معاشی مسائل، ایندھن کی بلند قیمتوں اور بڑھتے ہوئے اخراجات سے پریشان ووٹرز ریپبلکن بیانیے سے اتفاق کرتے دکھائی دیتے ہیں، وہاں دوسری طرف غیر جانبدار اور آزاد خیال ووٹرز کی بڑی تعداد اس سیاسی بیانیے کو مکمل طور پر قبول کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہے۔ متعدد شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ کسی ایک پارٹی سے پابند نہیں ہیں اور حتمی فیصلہ امیدواروں کی پالیسیوں اور معاشی منصوبوں کو دیکھ کر ہی کریں گے۔ ریپبلکن حکمت عملی کا بڑا حصہ ڈیموکریٹ پارٹی کو عوامی فلاح کے نام پر حکومت کا حجم بڑھانے اور سوشلسٹ رجحانات کا حامل ظاہر کرنے پر مبنی ہے۔ تاہم، مہم کے دوران کئی مقامات پر کارکنان کو ووٹروں کی جانب سے سرد مہری اور عدم دلچسپی کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے۔ کچھ ووٹرز نے واضح کیا کہ وہ مائیک روجرز کو ووٹ دینے کا ارادہ نہیں رکھتے جبکہ کچھ اب بھی اپنے فیصلے پر غور کر رہے ہیں۔ اس سیاسی تناظر میں مشی گن کی یہ انتخابی جنگ نہ صرف دونوں جماعتوں کے لیے انتہائی اہم بن چکی ہے بلکہ اس کا اثر ملک کے مجموعی سیاسی توازن پر بھی پڑ سکتا ہے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here