ٹورنٹو (پاکستان نیوز)ٹرمپ کی جانب سے کینیڈا کی تقریباً ایک ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات کی درآمدات پر عائد کی جانے والی پابندیوں کا منگل کے روز باضابطہ نفاذ ہو گیا ہے جس سے دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان طویل عرصے سے جاری تجارتی تناؤ میں شدید اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، اور اس امریکی قدم کے جواب میں اوٹاوا حکومت کی جانب سے بھی برابر کے تلافی اقدامات اور عالمی شراکت داروں کے ساتھ نئے اقتصادی اتحاد قائم کرنے کی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔ امریکی انتظامیہ کے اس فیصلے میں کینیڈا کی دودھ کی مصنوعات، گاڑیوں اور مختلف اقسام کے مشروبات پر مکمل بندش شامل کی گئی ہے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق یہ پیشرفت امریکی تجارتی مفادات اور مصنوعات کے خلاف کینیڈین پالیسیوں کے مبینہ امتیازی سلوک کے ردعمل کے طور پر سامنے آئی ہے۔ تجارتی پالیسی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ برس کے اعداد و شمار کی روشنی میں ان نئی پابندیوں کی زد میں آنے والے سامان کا مجموعی حجم نو سو سڑسٹھ ملین ڈالر بنتا ہے۔ یہ نیا حکم نامہ ایک ایسے وقت میں نافذ ہوا ہے جب چند ہفتے قبل ہی صدر ٹرمپ نے کینیڈا کی ساڑھے ستائیس ارب ڈالر سے زائد کی مصنوعات پر پچاس فیصد کے اضافی محصول عائد کیے تھے۔ کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی کی قیادت میں حکومت نے بھی امریکی اقدام کے جواب میں مساوی محصولات نافذ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ صدر ٹرمپ نے ان تجارتی پابندیوں کے لیے تاریخی تجارتی ایکٹ کی اس شق کا سہارا لیا ہے جو صدر کو غیر ملکی امتیازی پالیسیوں کے خلاف کسی ملک کی مصنوعات پر مکمل پابندی لگانے کا اختیار فراہم کرتی ہے۔ دوسری جانب تجارتی جنگ کے اس پھیلتے ہوئے دائرے کے پیش نظر کینیڈا نے یورپی یونین کے ساتھ اپنے اقتصادی تعلقات مضبوط کرنے کے لیے کوششیں تیز کر دی ہیں۔














