نیویارک (پاکستان نیوز)نیویارک کی مقامی انتظامیہ نے حال ہی میں وفاقی حکومت کی جانب سے ملنے والی اہم امداد کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے کیونکہ اس گرانٹ میں صنف کے تصور اور صنفی نظریات کے فروغ کی ممانعت سے متعلق سخت شرائط شامل تھیں۔ نیویارک کے میئر کی انتظامیہ کا موقف ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے احکامات پر مبنی ان شرائط کو ماننے سے بے گھر فوجیوں کیلئے قائم پناہ گاہوں میں جنس کی بنیاد پر تفریق پیدا ہونے کا خدشہ تھا۔ خاص طور پر کوئینز کے علاقے میں واقع بوارڈن ایونیو ویٹرنز ریذیڈنس کے لیے دہائیوں سے جاری اس امدادی پروگرام کا خاتمہ انتظامیہ کے لیے ایک بڑا فیصلہ ثابت ہوا ہے۔ وفاقی ادارے محکمہ برائے ویٹرنز افیئرز کے ترجمان نے نیویارک کے اس فیصلے پر جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ تمام گرانٹ حاصل کرنے والوں کو صنف کے روایتی تصورات اور حیاتیاتی حقائق کی بحالی سے متعلق صدارتی حکم کی پابندی کرنا لازمی ہوگی۔ ترجمان کے مطابق نیویارک نے گرانٹ کی شرائط و ضوابط معلوم ہونے کے بعد خود ہی اس عمل سے پیچھے ہٹنے کا انتخاب کیا ہے۔ دوسری جانب سٹی کونسل کے منتخب نمائندوں نے اس مالی امداد کو ترک کرنے کے انتظامی فیصلے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مکمل احتساب کا مطالبہ کیا ہے کیونکہ اس اقدام سے نیویارک شہر کو ملنے والی مالی وسائل کی خطیر رقم متاثر ہوئی ہے۔ حکومت کے اس اقدام نے مقامی اور وفاقی سطح پر ایک نئے قانونی اور سماجی تنازع کو جنم دے دیا ہے جس پر بحث جاری ہے۔











