یرغمال جہاز پر3 پاکستانی جاں بحق

0
7

موغادیشو(پاکستان نیوز) صومالیہ میں یرغمال بحری جہاز کی بازیابی کیلئے آپریشن کیا گیا۔ صومالیہ اور پنٹ لینڈ کی میری ٹائم پولیس فورس کے آپریشن کے دوران قزاقوں کی فائرنگ سے 3 پاکستانیوں سمیت 5 جاں بحق اور 3 پاکستانیوں سمیت عملے کے چار ارکان زخمی ہوگئے۔ مرنے والوں میں ایک بھارتی اور ایک میانماری انڈونیشن شہری شامل ہے۔ 9 قزاقوں کو گرفتار کر لیا گیا۔ جہاز ”آنر 25پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا گیا۔ قزاقوں نے سٹیرنگ سسٹم کو بھی نقصان پہنچا کر جہاز ناکارہ کردیا، جہاز کو دوسرے جہاز کے ذریعے ساحل پر لایا جارہا ۔ اسے ساحل پر لانے میں دو دن لگنے کا امکان ہے۔ صومالیہ میں موغادیشو کے لیے 18,500 بیرل ایندھن لے جانے والے پلاؤ کے جھنڈے والے جہاز ” آنر 25” کو قزاقوں نے 21 اپریل 2026 کو قزاقوں نے ہائی جیک کر لیا تھا۔ آپریشن انٹیلی جنس کی مدد سے کیا گیا۔ ہتھار ڈالنے سے انکار پر 9 قزاقوں کو گرفتارکیا گیا۔ اس حملے میں محفوظ رہنے والے پاکستانی ملاحوں حسین یوسف اور عمران علی نے جہاز کے کیپٹن کے موبائل فون کا استعمال کرتے ہوئے کراچی میں انصار برنی ویلفیئر ٹرسٹ کے دفتر سے رابطہ کیا اور واقعے کی تفصیلات فراہم کیں۔ انہوں نے بتایا کہ منگل کے روز صومالیہ کی حکومت اور شمالی مشرقی صومالیہ میں واقع نیم خودمختار علاقے پنٹ لینڈ کی حکومت نے قزاقوں سے ” آنر 25 ” کو آزاد کرانے کے لیے ایک مشترکہ آپریشن شروع کیا تھا۔ فائرنگ کے تبادلے میں جب قزاق دباؤ میں آئے اور پیچھے ہٹنے لگے تو انہوں نے بحری جہاز سے فرار ہونے سے پہلے اغوا شدہ عملے کے ارکان پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ ” دی ایکسپریس ٹریبیون ” سے بات کرتے ہوئے انصار برنی ٹرسٹ کی ڈائریکٹر ایڈووکیٹ قرة العین نے بتایا کہ جس مقام پر عملے کے ارکان کو ہلاک اور زخمی کیا گیا وہ ساحل سے کافی فاصلے پر تھا۔ انہوں نے بتایا قزاقوں نے فرار ہوتے وقت ” آنر 25 ” کے سٹیئرنگ سسٹم کو بھی نقصان پہنچایا جس سے جہاز ناکارہ ہو گیا۔ جہاز کو اب صومالی بحریہ کے ایک جہاز کے ذریعے ساحل کی طرف کھینچ کر لے جایا جا رہا ہے۔ اس عمل میں کم از کم دو دن لگنے کا امکان ہے۔ قرة العین کے مطابق آنر 25 کو کھینچنے والا بحری جہاز وہی ہے جس کا استعمال قزاقوں کے خلاف حملہ کرنے کے لیے کیا گیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومتِ پاکستان اور وزارتِ انسانی حقوق کو اس پورے واقعے سے آگاہ کر دیا گیا تھا۔ قرة العین نے حملے میں ہلاک ہونے والے پاکستانی عملے کے ارکان کی شناخت سیکنڈ آفیسر کاشف عمر، تھرڈ انجینئر محمود انصاری اور بوائلر رفیع اللہ کے نام سے کی ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں ایک ہندوستانی عملے کا رکن تنویر اور میانمار سے تعلق رکھنے والے چیف انجینئر بھی شامل تھے۔ زخمی ہونے والے عملے کے ارکان کی شناخت عثمان، عقیل، امین اور انڈونیشیا سے تعلق رکھنے والے وکی کے نام سے ہوئی۔ یاسر خان، حسین یوسف، عمران علی اور یاسین محفوظ رہے۔ ہلاک یا زخمی ہونے والے تمام پاکستانی عملے کے ارکان کا تعلق کراچی کے مختلف علاقوں سے ہے۔ ان کے خاندان اپنے پیاروں کی باحفاظت رہائی کے لیے مہینوں سے کوششیں کر رہے تھے۔ پرامن احتجاج کر رہے تھے اور بار بار حکومتی حکام سے رابطہ کر رہے تھے۔ صومالی قزاقوں کے ہاتھوں اغوا ہونے کے بعد 10 پاکستانیوں سمیت عملے کے 17 ارکان نے تقریباً ساڑھے چار ماہ قید میں گزارے ہیں۔ قید کے دوران قزاقوں نے شروع میں ان کی رہائی کے لیے 3 ملین ڈالر تاوان کا مطالبہ کیا تھا۔ بعد میں اس مطالبے کو کم کر کے 1.9 ملین ڈالر اور بعد ازاں 1 ملین ڈالر کر دیا گیا تھا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here