چالیس کی دہائی کے اولین سالوں کا ذکر ہے جب برِ صغیر (جنوبی ایشیا) کے شیر دریا کے کچے کے علاقے میں آباد اترائی قبیلہ کا ایک چشم و چراغ، ملک خان زمان اپنے عزیز و اقارب کا ایک قافلہ لے کر سنتِ نبوی پر عمل کرتے ہوئے، شمی والا (میانوالی) سے سینکڑوں میل دور ہجرت کرکے، سندھ کے ایک ایسے غیر آباد علاقے میں جا پہنچا، جہاں دور دور تک ریت کے ٹیلوں کے سوا کچھ نہیں تھا۔ محنت و مشقت کر کے رزقِ حلال کا حصول، یقیناً ان کا مطمع نظر تھا لیکن ساتھ ساتھ وہ جن قائدانہ صلاحیتوں کے مالک تھے، انکی بدولت ان کی یہ ہجرت صرف اپنے رزق کے حصول کیلئے نہیں تھی بلکہ بار بار دریا برد ہونے والے قبیلے کو بھی ایک بہتر اور محفوظ جگہ پہنچانا مقصود تھا۔ علامہ اقبال نے بالِ جبریل میں یونہی تو نہیں کہہ دیا تھا کہ!
کریں گے اہل نظر تازہ بستیاں آباد
مری نگاہ نہیں سوئے کوفہ و بغداد
اقبال کے یہ اہلِ نظر ملک خان زمان، میرے لئے انتہائی باعثِ فخر میرے بیحد پیارے دادا جان تھے۔ گوٹھ ملک خان زمان کی بنیاد رکھنے والے، علاقے بھر میں بہترین شہرت کے مالک، صاف و شفاف کردار کے حامل، انتہائی منصف مزاج، شیروں سے زیادہ بہادر، مردانہ وجاہت میں لاثانی، دوستوں کے دوست، کمزوروں کیلئے خلیق اور اپنے بچوں کیلئے انتہائی شفیق، میرے وہ دادا جان مرحوم تھے، جن کا انتقال 5،ستمبر 1963ء کے دن ہوا۔ میں صرف تین سال کا تھا لیکن حیرت کی بات ہے کہ مجھے آج تک نہ صرف ان کی تدفین والا دن یاد ہے بلکہ ان کا شفیق چہرہ، چارپائی پر ان کے بیٹھنے کا شاہانہ انداز، ان کی خاص انداز سے باندھی ہوئی پگڑی اور ان کا اندازِ گفتگو بھی ابھی تک نہیں بھولا۔ دادا جان کا انتقالِ پرملال ان کے اپنے خاندان کیلئے تو بڑا صدمہ تھا ہی، ان کے ساتھ ہجرت کرکے سندھ آنیوالے قافلے کیلئے بھی ایک دردناک سانحے سے کم نہ تھا۔ کچھ ہوش سنبھالا تو مجھے اپنے قابلِ فخر دادا جان کی علاقے میں اعلیٰ شہرت اور حیثیت کا زیادہ اندازہ ہونا شروع ہوا۔
کسی تقریب میں یا دورانِ سفر، کسی اجنبی کو جب یہ معلوم ہوتا کہ میں ملک خان زمان کا پوتا ہوں تو وہ انکے ساتھ اپنے گزرے ہوئے وقت کی یادوں کا ذکر کر کے میرے سامنے ان کی تعریفیں شروع کر دیتا اور میرے ساتھ اس کا رویہ ضرورت سے زیادہ ہی مؤدبانہ ہو جاتا۔ دادا جان کی جب بھی یاد آتی ہے تو نہ جانے کیوں، علامہ اقبال کے یہ اشعار بھی سامنے آجاتے ہیں۔
وہی جواں ہے قبیلے کی آنکھ کا تارا
شباب جس کا ہے بے داغ ، ضرب ہے کاری
نگاہ کم سے نہ دیکھ اس کی بے کلاہی کو
یہ بے کلاہ ہے سرمایہ کلہ داری
دادا جان کی ملکیت والی جائیداد، ان کا بسایا ہوا گاؤں، وہ راستے جن پر وہ چلا کرتے تھے، ان کی رہائش والی حویلی، آج تک سب کچھ موجود ہے۔ ان کی قبر پر اب بھی انکی اولاد گاہے بگاہے پہنچ جاتی ہے۔ ہر سال پانچ ستمبر کا دن بھی مختلف انداز سے ان کی یاد تازہ کرنے کا باعث بنتا ہے۔ ان کیلئے دعائیں تو جاری رہتی ہی ہیں لیکن اس دنیا میں، ان سے بالمشافہ ملاقات تو اب ممکن نہیں۔ اگلے جہان میں اللہ کی رحمت سے یہی امید ہے کہ جنت الفردوس کے کسی باغ میں آلِ خان زمان جمع ہو کر اپنے رب کا شکر ادا کریں گے۔ مجھے اپنے دادا جان سے انتہائی کم عمری میں بچھڑنے کا غم، ہمیشہ اداس کر دیتا ہے مگر پھر عزم شاکری کا یہ شعر، صبر و شکر کا سبق دے جاتا ہے۔
زخم جو تم نے دیا وہ اس لیے رکھا ہرا
زندگی میں کیا بچے گا زخم بھر جانے کے بعد
دادا جان مرحوم و مغفور کے انتقال کے بعد جس طرح گوٹھ خان زمان اور اس کے ارد گرد کے علاقے کے حالات پہلے جیسے نہیں رہے بالکل اسی طرح پاکستان کی تاریخ میں ایک اور ایسا سانحہ بھی وقوع پذیر ہوا جس کے بعد مملکتِ خداداد پاکستان کے حالات بھی بگاڑ اور تنزلی کا شکار ہونا شروع ہوگئے۔ یہ سانحہ پاکستان کے پانچویں وزیرِ اعظم، حسین شہید سہروردی کا ٥ دسمبر 1963ء کو بیروت کے ایک ہوٹل میں ہونے والا پراسرار انتقال تھا۔ پاکستان پر قابض ڈکٹیٹر نے تو اسے ایک قدرتی موت قرار دے دیا تھا لیکن سارے قرائن ایک بھیانک جرم کی نشاندہی ہی کر رہے تھے۔ ہر سال کی طرح یہ ماہ ستمبر اور دیگر ایام ختم تو ہو جاتے ہیں لیکن تاریخ کے یہ دونوں زخم ہمیشہ تازہ رہیں گے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ جملہ مرحومین کے درجات بلند کرے اور انکی مغفرت فرمائے۔ آمین۔ اللہ تعالیٰ ہی کا سارا مال ہے جو لے لیا وہ اسی کا تھا اور جو اس نے دیا وہ بھی اسی کا تھا اور ہر چیز اس کی بارگاہ سے وقت مقررہ پر ہی واقع ہوتی ہے۔ اس لیے صبر کرو اور اللہ تعالیٰ سے ثواب کی امید رکھو۔ بخاری حدیث نمبر:1284













