ڈاکٹر عذرا رضا کی کہانی کراچی سے کولمبیا یونیورسٹی تک پہنچتی ہے، جہاں کینسر کے خلاف جنگ میں ایک پاکستانی بیٹی نے دنیا کو سوچنے کا نیا انداز دیا۔ کینسر کا نام سنتے ہی عموماً ہمارے ذہن میں علاج، کیموتھراپی، ریڈی ایشن اور سرجری آتے ہیں، لیکن پاکستانی نژاد معروف آنکولوجسٹ ڈاکٹر عذرا رضا نے ایک مختلف سوال اٹھایا کہ کیا ہمیں کینسر کے آخری خلیے کو ختم کرنے کا انتظار کرنا چاہیے، یا اس پہلے خلیے کو ہی تلاش کرنا چاہیے جہاں سے کینسر شروع ہوتا ہے؟
ڈاکٹر عذرا رضا کا تعلق کراچی سے ہے۔ انہوں نے ڈاؤ میڈیکل کالج سے طب کی تعلیم حاصل کی اور 1970 کی دہائی میں امریکا چلی آئیں۔1977 میں انہوں نے بفیلو کے روزویل پارک کینسر انسٹی ٹیوٹ میں کام شروع کیا، جہاں سے ان کا سفر عالمی سطح کی کینسر ریسرچ تک پہنچا۔ بعد ازاں وہ کولمبیا یونیورسٹی سے وابستہ ہوئیں اور وہاں چان سون شینگ پروفیسر آف میڈیسن کے منصب پر فائز رہیں۔ وہ مائیلو ڈیسپلاسٹک سنڈرومز سینٹر کی سربراہ و ڈائریکٹر بھی رہ چکی ہیں اور کئی دہائیوں سے کینسر کے مریضوں کے علاج اور تحقیق سے وابستہ ہیں۔ ان کی تحقیق کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ ان کی دلچسپی صرف کینسر کے علاج تک محدود نہیں، بلکہ وہ بیماری کی ابتدائی تشخیص اور اس کے بچاؤ پر زور دیتی ہیں۔ انہوں نے کینسر کے ہزاروں مریضوں سے حاصل کیے گئے خون اور بون میرو کے نمونوں کا ایک وسیع ذخیرہ قائم کیا، جس میں 60 ہزار سے زیادہ نمونے محفوظ کیے گئے ہیں۔ یہ مواد کینسر کے آغاز اور اس کی ابتدائی تبدیلیوں کو سمجھنے کے لیے تحقیق میں استعمال ہوتا رہا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ اگر کینسر کو اس وقت پکڑا جاسکے جب وہ اپنے ابتدائی مرحلے میں ہو تو مستقبل میں علاج کے طریقہ کار کو بنیادی طور پر تبدیل کیا جاسکتا ہے۔
وہ صرف ایک معالج نہیں ہیں بلکہ ادب سے بھی ان کا گہرا رشتہ ہے۔ ڈاکٹر عذرا رضا کی شخصیت کا ایک خوبصورت پہلو یہ ہے کہ وہ سائنس کے ساتھ اردو شاعری اور ادب سے بھی غیر معمولی محبت رکھتی ہیں۔ غالب، اقبال، فیض، جگر اور دوسرے بڑے شعرا کے اشعار ان کی گفتگو کا حصہ بنتے ہیں۔ وہ سمجھتی ہیں کہ بیماری صرف جسم کو متاثر نہیں کرتی، بلکہ مریض اور اس کے خاندان کو شدید جذباتی اور روحانی کرب سے بھی گزرنا پڑتا ہے۔ اسی لیے وہ طب میں انسانی ہمدردی اور مریض کی جذباتی کیفیت کو بھی بہت اہم سمجھتی ہیں۔ 2023 میں کراچی میں نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس میں ان کی ایک گفتگو کا موضوع بھی اسی پہلو سے متعلق تھا کہ ایسی شاعری جو درد کو دوا کی طرح سہارا دے سکے۔
اسی فکر کو آگے بڑھاتے ہوئے ڈاکٹر عذرا رضا کی معروف کتاب دا فرسٹ سیل اینڈ دا ہیومن کاسٹس آف پرسوئنگ کینسر ٹو دا لاسٹ 2019 میں شائع ہوئی۔ اس کتاب میں وہ اس بنیادی تصور پر گفتگو کرتی ہیں کہ کینسر کے آخری خلیے تک پہنچنے کی بجائے ہمیں بیماری کے آغاز اور پہلے خلیے کو سمجھنے، جلد شناخت کرنے اور ممکنہ طور پر روکنے پر زیادہ توجہ دینی چاہیے۔
دنیا کے ایک بڑے طبی اور تحقیقی ادارے سے وابستگی کے باوجود ان کا پاکستان سے تعلق آج بھی قائم ہے۔ وہ پاکستان میں مختلف جامعات اور طبی اداروں میں لیکچرز اور گفتگو کے لیے آتی رہی ہیں۔ 2023 میں انہوں نے کراچی میں بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا، جبکہ 2024 میں لمز میں ان کے لیکچرز ہوئے، جہاں انہوں نے کینسر ریسرچ، ابتدائی تشخیص، طب اور انسانی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو کی۔
ڈاکٹر عذرا رضا کی کہانی صرف ایک پاکستانی ڈاکٹر کے عالمی سطح تک پہنچنے کی داستان نہیں، بلکہ یہ اس بات کی مثال بھی ہے کہ ایک ڈاکٹر کے ہاتھ میں صرف اسٹیتھوسکوپ نہیں ہوتا؛ کبھی اس کے پاس تحقیق ہوتی ہے، کبھی کتاب، کبھی شاعری اور کبھی ایک ایسا سوال جو پوری دنیا کو نئی سمت میں سوچنے پر مجبور کردے۔ کراچی کی ایک طالبہ سے عالمی سطح کی آنکولوجسٹ اور کینسر ریسرچر تک کا یہ سفر واقعی قابلِ ذکر ہے، اور سلام ہے اْن پاکستانی ذہنوں کو جو دنیا میں کہیں بھی رہ کر پاکستان کا نام بلند کرتے ہیں۔








