حضور مجاہد ملک ایک تعارف !!!

0
8

انجام کار ہوا بھی ایسا ہی کہ آپ نے نہ صرف یہ کہ ہندوستان کی باطل قوتوں کو چاروں شانے چت کیا بلکہ ملک عرب میں جاکر سعودی نجدی ظالموں کے سینے پر پاؤں رکھ کر حقانیت کا علم نصب کرکے فاتح عرب وعجم کے لقب سے ملقب ہوگئے۔ بھلا کیوں نہ ہو جب سرکار اعلیٰ حضرت، عظیم المرتبت حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمتہ والرضوان نے وصال کے 30دن کے بعد ہی اپنے شہزادہ اکبر حضور حجتہ الاسلام حضرت شاہ حامد رضا خان علیہ الرحمتہ والرضوان کو آپ کے مبارک حلیے کا مشاہدہ کروا کر فرمایا تھا کہ حامد رضا فکر وتردد میں پڑنے کی ضرورت نہیں، سامنے کھڑے نوجوان کو خوب پہچان لو، یہ اڑیسہ کا باشندہ، زمیندار گھرانے سے تعلق رکھنے والا حبیب الرحمن ہے۔ اس کے تبحر علمی اور حق گوئی سے پورے عرب وعجم میں باطلوں کی سرکوبی ہوگی اور سنیت کا چراغ فروزاں ہوگا۔
نورِ خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن
پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا
حضور مجاہد ملت ابھی چار سال کے تھے کہ آپ کے والد گرامی حضرت عبدالمنان علیہ الرحمہ رحلت فرما گئے۔ آپ کے والد گرامی انتہائی تقویٰ شعار اور دیندار بزرگ تھے۔ آپ کی خواہش تھی کہ میرا بیٹا حبیب الرحمن علم دین سے سرشار ہو اور ملتِ بیضاء کی خدمت کرے۔ مگر یہ خواہش آپ کی حیات میں پایہ تکمیل تک نہ پہنچ سکی اور وقت اجل آنے پر آپ دنیا سے رخصت ہوگئے۔ والد گرامی کے وصال کے بعد حضور مجاہد ملت کی کفالت کی ذمے داری آپ کے چچا جان حضرت عبدالدیان مرحوم نے سنبھالی۔ آپ کے چچا نے آپ کی ذہانت و فطانت سے متاثر ہو کر یہ چاہا کہ حبیب الرحمن کو انگریزی کی اعلیٰ تعلیم دلا کر ایک بڑا آفیسر بنایا جائے۔ اسی خواہش کے پیش نظر آپ کو راونشا کالجیٹ اسکول کٹک میں داخل کروا دیا گیا۔ نہ چاہتے ہوئے بھی حضور مجاہد ملت اسکول جانے لگے اور باضابطہ سلسلہ تعلیم کا آغاز ہوگیا۔ آپ کی ذہانت وصلاحیت کا یہ عالم تھا کہ بہت جلد ہی آپ نے تمام طلبہ میں ایک ممتاز مقام حاصل کر لیا۔ مگر مشیتِ خداوندی کچھ اور تھی، چنانچہ جب آپ آٹھویں جماعت میں پہنچے تو اسی سال رمضان المبارک کے مہینے میں آپ پر شدید بخار کا حملہ ہوا اور نقاہت اس قدر بڑھ گئی کہ ڈاکٹروں نے روزے رکھنے پر پابندی عائد کردی۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here