جینے کیلئے جئیں!!!

0
9
عامر بیگ

اس دفعہ میری بلڈ رپورٹس نے مجھے واقعی چونکا دیا۔ ایچ بی اے ون سی سات سے اوپر تھی اور کولیسٹرول بھی قدرے بلند تھا۔ میرے لیے یہ اعداد محض لیبارٹری رپورٹ کے ہندسے نہیں تھے بلکہ ایک خطرے کی گھنٹی تھے، خصوصاً اس لیے کہ مجھے پہلے ایک ٹی آئی اے ٹرانزینٹ اسکیمک اٹیک بھی ہو چکا تھا۔ مجھے احساس ہوا کہ اب مزید غفلت کی گنجائش نہیں ہے، اس لیے میں نے فیصلہ کیا کہ اپنی خوراک، نیند اور روزمرہ کے معمولات کو بدلنا ہوگا۔ سب سے پہلے راتوں کو جاگنے کی عادت کی طرف توجہ دی اور گھر کے قریب مسجد میں پانچوں وقت نماز با جماعت کے لیے پیدل جانا شروع کیا۔ عبادت کی نیت سے اٹھایا گیا ہر قدم ایک نیکی ہے اور صحت کے لیے بھی ضروری ہے۔ جب صبح جلدی اٹھنا معمول کا حصہ بن گیا اور دن بھر جسم و دماغ مصروف رہنے لگے تو رات کو نیند خود بخود آنے لگی۔ عشا کی نماز کے بعد سونے کے لیے تقریباً ٠١ بجے بستر پر ہوتا اور صبح ٤ بجے اٹھ کر نماز کے لیے مسجد پہنچنے لگا۔ جب پہلی صف میں نماز ملنے لگی تو اس معمول نے روحانی سکون بھی دیا اور زندگی میں نظم و ضبط بھی قائم کیا۔ فجر کی نماز کے بعد وائی ایم سی اے جا کر ورزش کرتا اور وہی سے نہا دھو کر کام پر نکل جاتا، یوں صبح کا وقت ضائع ہونے کے بجائے میری صحت اور دن کی تیاری پر صرف ہونے لگا۔ ناشتے کی بجائے دوپہر میں آدھی روٹی، پروٹین والا سالن اور ابلا ہوا انڈہ استعمال کرتا۔ یاد رکھیں کہ نشاستہ مثلاً روٹی یا چاول وغیرہ سے مکمل پرہیز بھی مناسب نہیں ہے کیونکہ اس سے جڑے ہارمونز کے کم یا ختم ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔ یہ ٦١ گھنٹے کی واٹر فاسٹنگ ہے، کیونکہ شام کا کھانا ٧ بجے سے پہلے کھایا جاتا ہے جس میں سلاد اور گھر میں جو بھی بنا ہو اس کا صرف ایک کٹورا شامل ہوتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ٨ گھنٹے میں دو میل اور وہ بھی ٨ گھنٹے کے وقفے سے، جبکہ باقی کے21گھنٹے واٹر فاسٹنگ یعنی کھانے کے بجائے جتنا پانی پی سکتے ہیں پیا جائے۔ جب پیٹ پانی سے بھرے گا تو معدے میں لگے بھوک کے سینسرز دماغ کو پیٹ بھرا ہونے کے سگنلز دیں گے اور بھوک محسوس نہیں ہوگی۔ اس سے وزن کم ہونے کے ساتھ ساتھ مجموعی توانائی میں بہتری محسوس ہوگی، دماغ پر چھائی ہوئی فوگ کم ہوگی، سینے کی جلن کی دوا کی ضرورت نہیں رہے گی، خون میں شکر کی مقدار کم ہوگی اور فشارِ خون بھی بہتر ہوگا۔ میرے ساتھ بھی یہی ہوا، میں چینی کے ساتھ ساتھ نمک بھی تقریباً چھوڑ چکا تھا جس سے آہستہ آہستہ کھانے کے ذائقے دوبارہ محسوس ہونے لگے۔ ورزش اور بہتر طرزِ زندگی کی بدولت ٹیسٹوسٹیرون کے بڑھنے سے جسمانی توانائی اور ازدواجی زندگی میں بھی بہتری آئی۔ یہ احساس میرے لیے ایک اور یاد دہانی تھا کہ صحت صرف بیماری نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ جسمانی، ذہنی، روحانی اور ازدواجی صحت ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ جسم ایک امانت کے طور پر دیا ہے اور اس امانت کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے۔ جب ہم مسلسل بے ترتیبی، کم نیند، غیر متوازن خوراک، جسمانی غیرفعالیت اور اپنی صحت سے بے اعتنائی کو معمول بنا لیتے ہیں تو اس کے اثرات رفتہ رفتہ جسم پر ظاہر ہونے لگتے ہیں۔ یہاں ایک بات بہت اہم ہے کہ صحت کا خیال رکھنا صرف زیادہ عرصہ زندہ رہنے کی خواہش نہیں بلکہ ایک اچھی اور باوقار زندگی گزارنے کی کوشش ہے۔ کس کی کتنی زندگی لکھی ہے اس کا فیصلہ اللہ کے ہاتھ میں ہے، لیکن اپنی صحت کو جان بوجھ کر تباہ کرنا عقلمندی نہیں۔ اسلام بھی ہمیں اپنی جان کی حفاظت کی تعلیم دیتا ہے، لہٰذا اپنی جان اور جسم کی حفاظت نہ کرکے صحت سے غفلت برتنا خودکشی کے مترادف ہے اور خودکشی حرام ہے۔ اس لیے زندگی سے فرار نہیں بلکہ زندگی کی قدر ضروری ہے۔
میری اس تبدیلی کا مقصد کسی کو یہ مشورہ دینا نہیں کہ وہ اپنی دوائیں بند کر دے یا ہر شخص میرے معمول کو من و عن اپنا لے، بلکہ خوراک، روزہ، ورزش اور ادویات کے بارے میں اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کریں، خصوصاً اگر ذیابیطس، بلڈ پریشر، کولیسٹرول یا دل و دماغ سے متعلق کوئی بیماری ہو۔ میرا مدعا صرف اتنا ہے کہ کبھی کبھی ایک بلڈ رپورٹ انسان کو اپنے آپ پر نظرثانی کرنے کا موقع دے دیتی ہے۔ خطرے کی گھنٹی بج جائے تو اسے خاموش کرنے کے بجائے اس کا مطلب سمجھنا چاہیے۔ جینے کے لیے جیئیں اور بہتر انداز سے جیئیں۔ اپنے جسم کا خیال رکھیں، اپنی نیند کو اہمیت دیں، حرکت کو زندگی کا حصہ بنائیں، متوازن خوراک کھائیں اور اپنے رب کی دی ہوئی اس بہترین امانت یعنی اپنے جسم و جان کی حفاظت کریں۔
واللہ اعلم بالصواب!

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here