فیضان محدّث اعظم پاکستان رضی اللہ عنہ

0
8

فیضان محدّث اعظم پاکستان رضی اللہ عنہ

محترم قارئین! جگر گوشہ محدّث اعظم پاکستان، جانشین محدّث اعظم پاکستان، نائب محدّث اعظم پاکستان شمس المشائخ صاحبزادہ پیر قاضی محمد فضل رسول حیدر قادری رضوی رضی اللہ عنہ کے عرس پاک کا تقاریب کی تیاریاں خوب عروج پر ہیں۔ اہل سنت وجماعت کا بچہ بچہ آپ کا احسان مند ہے آپ کی خدمات دینیہ کو جس قدر بھی خراج تحسین پیش کیا جائے کم ہے۔ کیونہ آپ رضی اللہ عنہ نے فکر رضا وفکر محدّث اعظم پاکستان رضی اللہ عنھما کی ترویج واشاعت میں اپنی ساری زندگی صرف فرمائی۔ آپ بیک وقت محدّث ، مفکر، خطیب، سجادہ نشین اور عاشق رسول ۖ تھے۔ اپنی ساری زندگی تحفظ ختم نبوت، تحفظ ناموس رسالت، سالمیت پاکستان، تحفظ ناموس صحابہ واہل بیت اور تحفظ احترام اولیاء کرام میں گزار دی۔ درس و تدریس قرآن پاک واحادیث مبارکہ وفنون منطق وفلسفہ وبلاغت کا اتنا شوق تھا کہ جب بھی کوئی عالم دین مدرّس فنون درس نظامی ملتا تو انتہائی خوش ہوجاتے اور درپردہ خدمت بھی فرماتے اور خوب سراہتے بلکہ کتابوں کا نام پوچھتے کہ کون کون سی کتابیں پڑھا رہے ہیں۔
سیاسی، ملی اور سماجی میدانوں میں بھی اہل سنت وجماعت کی خوب تربیت فرماتے۔ یہ سب چیزیں تو آپ کو حضور محدّث اعظم پاکستان رضی لالہ عنہ سے ورثہ میں ملی تھیں۔ کیونکہ خیر خواہی کا جذبہ بہت بڑا جذبہ ہے۔ اور اسلام خیر خواہی کا دین ہے۔ یہ جذبہ آپ میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ علماء کو نصیحت فرماتے اور ہمیشہ یہی کہ درس وتدریس فرمائیں اور دنیاوی لالچ وطمع سے دور رہیں۔ حق بات کہنے میں کبھی مصلحت کا شکار نہ ہوئے۔ ہمیشہ برموقع حق بات کی۔ یہی وجہ تھی کہ بڑے بڑے اکابر علماء ومشائخ آپ رضی اللہ عنہ کی قدر کرتے اور آپ سے رہنمائی لیتے اور آپ کی رائے کا احترام کرتے۔ آپ کی عمر مبارکہ ابھی سترہ اٹھارہ سال تھی جب حضرت محدّث اعظم پاکستان رضی اللہ عنہ کا وصال باکمال ہوگیا۔ حضور محدّث اعظم پاکستان رضی اللہ عنہ اپنے وصال مبارکہ سے ایک سال قبل عرس قادری رضوی کے موقع پر١٣٨١ بمطابق 1961 میں ہزاروں علما ومشائخ اور عوام اہل سنت کی موجودگی میں آپ رضی اللہ عنہ کو جمیع سلاسل کی خلافت عطا فرمائی اور اپنا جانشین مقرر فرما دیا۔ نیز حملہ علوم وفنون کی روایت کی سند بھی عطا فرمائی اور دستار سجادگی وفضلیت سے مشرف فرمایا۔ حضرت محدّث اعظم پاکستان رضی اللہ عنہ کے وصال باکمال کے فوراً بعد آپ کو بہت زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ یہ کیفیت تھی۔ ایک طرف حاسدین ایک طرف اعداء دین بندہ تنہا ہے شہا تم پہ کروڑوں درود بہرحال بڑے باپ کے بڑے بیٹے نے نہ صرف ان کا مقابلہ و دفاع کیا بلکہ بڑی تیزی کے ساتھ تمام معاملات کو قابو کیا اور ترقی و عروج کی منازل بھی طے کیں۔ ورنہ یہ مشکلات ایسی تھیں کہ معمولی اعصاب والا آدمی برداشت نہیں کرسکتا تھا۔ مسلکی مشکلات، جامعہ رضویہ کی تعمیرو ترقی کی مشکلات، آستانہ عالیہ کا انتظار انصرام اور پھر نجی بہت ساری پیچیدہ مشکلات۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کی مدد، رسول اللہۖ کی رحمت اور غوث اعظم، داتا علی ہجویری اور خواجہ معین الدین چشی اجمیری رضی اللہ عنھم کی نسبت کی برکتوں سے اعدادء دین کو پریشان اور حاسدین کو حیران کردیا۔
آستانے کو عروج ملا، جامعہ رضویہ کو ترقی ملی اور اعداء دین وحاسدین کے بچھائے ہوئے جال خود بخود کٹتے چلے گئے۔ کہ ختم نبوت کی تحریک 1974 میں قائدین کی قیادت فرمائی۔ قائدین کو قیادت کے اصول سکھائے لیکن خود پشت پناہی ہی کرتے رہے۔ قومی اسمبلی پر اس وقت جو اصل دبائو اور رعب تھا وہ آپ کی قیادت اور جرات کا تھی اور اسی دبائو کے نتیجہ میں مرزائیوں کو واضح طور پر غیر مسلم اور اقلیت سے بھی نیچہ درجہ دیا گیا۔ 1977 ء میں تحریک نظام مصطفیٰۖ کے جلسوں کی قیادت بھی آپ نے فرمائی۔ آپ کو نشانہ بنایا گیا آپ کے سر پر چوٹیں آئیں۔ تقریباً اڑتالیس کے لگ بھگ ٹانکے لگے۔ اس کے باوجود آپ اپنے مئوقف سے دست بردار نہ ہوئے عوامی دبائو اور آپ کی مساعی جمیلہ سے حکومت کو برطرف کردیا گیا۔ بہرحال آپ رضی اللہ عنہ نے ہوش سنبھالا تو حضرت محدّث اعظم پاکستان رضی اللہ عنہ کی تربیت ملی۔ مسلک کا درد ملا۔ دین کی لگن ملی ایمان کا جذبہ ملا۔ تقریباً اسی سال کی عمر تک دین اسلام ومسلک اہل سنت فکر امام احمد رضا وفکر محدّث اعظم رضی اللہ عنھما پر ڈٹے رہے۔ آپ نے پوری دنیا میں اس مشن پر کام کیا۔ مدارس ومساجد قائم کئے۔ تنظیمات کی تشکیل فرمائی۔ اپنی ظاہری زندگی مبارکہ میں ہی قائد ملت اسلامیہ، بڑے لخت جگر، پیر طریقت، رہبر شریعت صاحبزادہ قاضی محمد فیض رسول حیدر قادری رضوی دامت برکاتھم العالیہ کو خلافت اور دستار سجادگی عرس امام اعظم و محدّث اعظم وجلسہ دستار فضیلت میں ہزاروں علماء ومشائخ کی موجودگی میں عطا فرما کر اپنا جانشین مقرر فرمایا اور جمیع سلاسل کی اجازت بھی عطا فرمائی۔ آپ نے اہل سنت وجماعت کو فقید المثال، عظیم الشان دینی اور عصری تعلیم کا حسین امتزاج جامعہ محدّث اعظم( اسلامک یونیورسٹی) بھی عطا فرمائی اللہ تعالیٰ آپ رضی اللہ عنہ کے فیوض وبرکات سے ہم سب کو وافر حصہ عطا فرمائے(آمین)۔ آپ کا سالانہ عرس پاکث٢٨ ربیع الثانی کو ام المراکز مرکز اہل سنت فیصل آباد پاکستان میں ہمیشہ منعقد ہوتا ہے۔
٭٭٭٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here