ہم گزشتہ دنوں میں وطن عزیز میں ہونیوالے حکومتی و پی ٹی آئی مذاکرات کے آمدہ نتائج اور بعد کے ناگفتہ بہ حالات سے بحیثیت ایک پاکستانی نا امیدی و مایوسی کے ان اندھیروں کو دیکھ رہے ہیں جن کے بعد روشنی کی کوئی کرن نظر نہیں آرہی ہے۔ تین برسوں سے زائد سیاسی عدم استحکام کی صورتحال اور عوام دشمن اقدامات و جبر، غیر جمہوری، غیر آئینی مفاداتی جھگڑوں کے تناظر میں ہم مسلسل اس بات پر ہی زور دیتے رہے ہیں کہ حالات میں بہتری کا واحد راستہ باہم مذاکرات اور ایک دوسرے کو تسلیم کرنے میں ہی ہے۔ اپنے گزشتہ کالم ”وطن کی حفاظت باہم اتحاد” میں یہی معروضات پیش کی تھیں کہ تمام فریقین قومی استحکام و بہتری کیلئے باہم مذاکرات کیلئے مجتمع ہوں اور وطن کے مفاد میں اپنا مثبت کردار ادا کریں لیکن حسرت ان غنچوں پہ ہے جو بن کھلے مرجھا گئے۔
گزشتہ ہفتے مذاکرات کا آغاز تو ہوا ن لیگ، پی ٹی آئی اور پیپلزپارٹی کے قائدین باہم بیٹھے، طویل مذاکرات ہوئے مگر نتیجہ یوں آیا کہ حالات مزید ابتری کی طرف پہنچ چکے ہیں۔ جس وقت ہم یہ سطور تحریر کر رہے ہیں ایک جانب سہیل آفریدی کی قیادت میں احتجاج اور لانگ مارچ کا سلسلہ جاری ہے اور یوں لگتا ہے گویا سارا پختونخواہ سڑکوں پر اُمڈ آیا ہے تو دوسری طرف محسن نقوی گورنر راج اور ایمر جنسی اپنے سرپرستوں کے ایماء پر لگانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ شنید تو یہ بھی ہے کہ عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ ایمل ولی خان نے بھی کے پی میں ایمر جنسی یا گورنر راج لگانے کی مخالفت کرتے ہوئے اس ایشو پر پی ٹی آئی کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے، البتہ یہ بھی خبر ہے کہ پی پی پی نے حالات کومزید کشیدہ ہونے سے بچانے کیلئے حکومت اور مقتدروں کو مذاکرات کی بحالی کیلئے مشورہ دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب طویل مذاکرات بخوبی چل رہے تھے اور پانچ نکات پر اتفاق ہو چکا تھا تو کیا صرف نیشنل ایکشن پلان پر محض سہیل آفریدی کے عدم اتفاق پر تعطل آیا، یا پھر ان پردہ نشینوں کا کوئی کردار بھی تھا جو کے پی میں سہیل آفریدی کی وزارت اعلیٰ نہیں چاہتے یا پھر وہ کردار جو یہ جانتے ہیں کہ عمران کی رہائی یا بحالی ان کی اہمیت و قدر کو صفر کر دیگی۔ سوال یہ بھی کہ پی ٹی آئی کی مذاکراتی ٹیم میں سہیل آفریدی کو جوصوبے کا وزیر اعلیٰ ہونے کیساتھ خان کی رسائی و رہائی کیلئے قائدانہ جدوجہد کر رہا ہے شامل کیوں نہیں کیا گیا۔
حالات کا تجزیہ کرتے ہوئے ہم اس نتیجے کا ادراک کر سکتے ہیں کہ معاملات کو مزید بگاڑنے میں اور مذاکرات کے تعطل میں ہر دو جانب کے اسپائیلرز نے بڑا کھیل کھیلا ہے جو اپنے مفاد کیلئے نہ عمران کیلئے کسی قسم کا ریلیف چاہتے ہیں اور نہ حالیہ شورش کا کسی بھی صورت خاتمہ چاہتے ہیں۔ حکومتی ٹولے کو خوف اپنا اقتدار جانے کا ہے تو حکومتی شرکاء اور ایک یا چند نشستوں پر فائز پارلیمان میں قیادت و سیاست کے ٹھیکیداروں کو اپنی چوہدراہٹ چھِن جانے کا ہے۔ محمود اچکزئی نے جسے خان نے قائد حزب اختلاف نامزد کیا آخر مذاکرات سے اس مؤقف پر انکار کر دیا کہ اسپیکر و حکومتی اراکین اسے قبول نہیں کیا کہ وہ جعلی ہیں، مذاکرات میں بیٹھنے سے انکاری ہونے کے باوجود خان سے ملاقات میں روڑے ہی اٹکائے۔ دوسری طرف وزرائے دفاع، اطلاعات و مشیران ونمائندگان زہر اُگلنے میں مصروف رہے اور سب سے بڑھ کر مال بنانے کے چکر میں سوشل میڈیا نے چھوٹی چنگاریوں کو شعلے بنا دیا ہے۔ آخر دشمنی کی یہ آگ کیسے بجھے گی؟ ۔
ہم نے ابتداء میں عرض کیا تھا کہ حالات میں بہتری کا واحد راستہ باہم مذاکرات اور ایک دوسرے کو تسلیم کرنے میں ہے۔ افسوس یہ ہے کہ سیاسی اشرافیہ اور مقتدرین ایک دوسرے کو تسلیم کرنا نہیں چاہتے ہیں اور کسی نہ کسی مدعے پر محض اپنی سبقت کیلئے کوئی بھی اڑچن سامنے آجاتی ہے۔ وطن کی بہتری کیلئے حکومتی ہوں یا اپوزیشن یا دیگر سیاسی جماعتیں اور اسٹیبلشمنٹ سب کا فریضہ ہے کہ باہمی عمل اور یکجہتی سے ان امور کا حل یقینی بنائیں جو وطن کی بہتری کیلئے حکومتی ہوں یا اپوزیشن یا دیگر سیاسی جماعتیں اور اسٹیبلشمنٹ سب کا فریضہ ہے کہ باہمی عمل اور یکجہتی سے ان امور کا حل یقینی بنائیں جو وطن کی بہتری کو یقینی بنائیں اور بے چینی، مشکلات و کشیدگی سے نجات ہو، واحد ذریعہ مذاکرات ہی ہیں۔ اس وقت ملک دہشتگردی کے جس ناسور سے لہو لہو ہے ، روزانہ شہادتوں اور مضروبیات و دہشتگردی کا سلسلہ ہے جو تھمنے میں نہیں آرہا۔ دشمن ہر وہ حربہ آزما رہے ہیں جو ہمیں بربادی سے دوچار کرے، ایسے میں آپس میں لڑنا، دست و گریبان ہونا کسی مخصوص جماعت، طبقے، گروہ یا ادارے نہیں بلکہ وطن کا نقصان ہے۔ گزشتہ مذاکرات میں اگر نیشنل ایکشن پلان کے ایشو پر تعطل آیا بھی ہے تو اس کیلئے حکومت، پی ٹی آئی سمیت تمام سیاسی جماعتوں اور سلامتی کے اداروں پر کمیٹی بنا کر وطن دشمن کارروائیوں کے خلاف فیصلے کئے جائیں اور متحدہ اقدامات سے اس ناسور کا قلع قمع کیا جائے جو گزشتہ کئی دہائیوں سے وطن، عوام اور وطن کی وحدت کو دشمنوں کی کامیابی ہو یا نہ ہو ہمارے لئے کمزوری ضرور ہو سکتی ہے، خدا نہ کرے کہ ایسا ہو، پاکستان ہے تو ہمارا وجود ہے کہ ہماری شناخت یہ وطن ہی تو ہے۔
٭٭٭٭٭٭












