بے حس معاشرہ!!!

0
11
سید کاظم رضوی
سید کاظم رضوی

سید کاظم رضا نقوی کا سلام و احترام قبول ہو۔ دنیا بھر میں خواتین کے تحفظ اور حقوق کے لیے قوانین بنائے جا رہے ہیں اور عدالتیں ان پر عمل درآمد کی پوری کوشش کر رہی ہیں، لیکن حوا کی بیٹی پر جو ظلم ترقی پذیر اور پسماندہ ممالک میں آج بھی ہو رہا ہے، اس پر لب کشائی کرتے ہوئے بھی شرم محسوس ہوتی ہے۔ پاکستان میں ایسے ہی مظالم کے خلاف آواز اٹھانے والی ایک بہادر خاتون تہمینہ شیخ کے کام سے میں کافی متاثر ہوں۔ تہمینہ کو جہاں بھی کوئی مظلوم نظر آئے وہ فوراً وہاں پہنچ جاتی ہیں، اور ان کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ وہ مردوں کے جائز حقوق کا بھی بھرپور دفاع کرتی ہیں۔ وہ ایک ذمہ دار اور انسانیت کے جذبے سے سرشار خاتون ہیں جن کا اعتماد اور کام خود بولتا ہے۔
اسی سلسلہ میں گاؤں کی ایک لڑکی نے فون پر اپنے درد ناک حالات بیان کرتے ہوئے تہمینہ شیخ سے گزارش کی کہ ایک پروگرام اس کے حالات پر بھی کیا جائے۔ مظلوم کی پکار سن کر تہمینہ شیخ اس کے گھر پہنچ گئیں۔ یہ ظلم سہنے اور پھر اس کیخلاف آواز بلند کرنے کی ایک سچی کہانی ہے۔ امام بی بی کی شادی21سال کی عمر میں وٹہ سٹہ کی رسم کے تحت ہوئی اور اس کا شوہر ہم عمر تھا۔ پہلے چند سال تو بالکل ٹھیک گزرے، لیکن بعد میں شوہر نے برے دوستوں کی صحبت اختیار کر لی اور نشے کا عادی ہو گیا۔ ابتدا میں سگریٹ، پھر چرس اور بعد میں دیگر مہلک نشہ آور اشیاء کا استعمال شروع کر دیا۔ بوڑھے والد نے اپنے بیٹے کو غلط راہ پر جاتے دیکھا تو منع کیا، لیکن حماد بدتمیزی پر اتر آتا۔ جوں جوں نشے کی مقدار بڑھتی گئی، حماد کے مزاج میں تلخی اور تشدد بڑھتا گیا۔ شوہر کا مار پیٹ کرنا روزانہ کا معمول بن گیا اور اس 9 سالہ دور کے دوران امام بی بی 4 بیٹوں کو جنم دے چکی تھی۔ کئی بار ایسا ہوا کہ جب امام بی بی پر تشدد ہو رہا ہوتا تو رشتہ دار اور محلے دار اس کی جان بچاتے سائے کی طرح ڈھال بن جاتے تھے۔ امام بی بی کئی بار بچوں کو ساتھ لے کر اپنے والدین کے گھر گئی، لیکن ہر بار رشتہ داروں کی مداخلت سے صلح ہو جاتی اور وہ دوبارہ شوہر کے گھر واپس آ جاتی۔ تاہم آخری بار جب شوہر نے اسے کھیتوں میں بری طرح مارا پیٹا، اس کا ایک پاؤں ڈنڈا مار کر توڑ دیا اور جسم کو زخموں سے چور چور کر دیا، تو جن لوگوں نے اس کی جان بچائی انہوں نے ہی اس کے کہنے پر اسے شوہر کے گھر چھوڑنے کے بجائے والدین کے گھر منتقل کیا۔
امام بی بی نے فوری طور پر اپنے والدین کو ساتھ لیا اور عدالت میں خلع کی درخواست دائر کر دی۔ شوہر کے مظالم کی داستان اور فراہم کردہ ثبوتوں کی بنا پر عدالت نے خلع کا فیصلہ سنا دیا۔ اب امام بی بی اپنے والدین کے گھر مقیم ہے، لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ اس کی زندگی برباد کرنے والا شوہر آزاد گھوم رہا ہے اور اس کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں ہوئی ہے۔ امام بی بی کا موقف ہے کہ وہ خود محنت مزدوری کر کے عزت کی زندگی گزار لے گی، لیکن اللہ کا شکر ادا کرتی ہے کہ نکاح اور شوہر کی آڑ میں چھپے ایک درندے سے اس کی جان چھوٹ گئی۔ اس نے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ اس کے قیمتی سال برباد کرنے والے شوہر کو سخت سزا دی جائے تاکہ وہ کسی اور سے شادی کر کے اس کی زندگی برباد نہ کر سکے۔
اگر ہم ایسے مظالم پر خاموش رہے تو یہ نہ صرف ملک و قوم کی بدنامی کا باعث ہے بلکہ ہماری مشرقی روایات کا بھی قتل ہے۔ ایسے مظالم پر خاموشی جرم کے فروغ کا سبب بنتی ہے اور اس میں اسلامی قوانین کی بھی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں۔
ایسا ہی ایک شرمناک واقعہ ملتان میں پیش آیا جہاں طلاق کے بعد بھی اپنی سابقہ اہلیہ کو گھر میں رکھ کر بدکاری اور تجاوز کرنے والے ملزم کے کیس میں تازہ ترین پیش رفت سامنے آئی ہے۔ بدکاری کے ملزم کی ضمانت خارج کر دی گئی ہے۔ ایڈیشنل سیشن جج محمد الیاس ریحان کی عدالت میں گزشتہ روز دونوں فریقین کی جرح مکمل ہوئی تو معزز جج نے چار گھنٹے تک اپنے چیمبر میں فائل کا تفصیلی معائنہ کیا اور پھر ملزم کی ضمانت خارج کرنے کا حکم جاری کر دیا۔ وکیل استغاثہ ضیاء الرحمان رندھاوا نے عدالت کے روبرو دلائل دیتے ہوئے بتایا کہ ملزم نے 19 اگست کو ایک حلف نامہ جاری کروایا جس پر طلاق نامہ تحریر تھا، اور یہ دعویٰ کیا کہ اس نے اپنی بیوی کو 10 جنوری 2025 کو طلاق دے دی تھی، نیز اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ اس کی اہلیہ 19 اگست 2026 تک بچوں سمیت اسی کے گھر میں مقیم رہی۔ اس طرح طلاق کے ڈیڑھ سال بعد تک خاتون کو اپنے گھر رکھنے پر ملزم کیخلاف ایک اور مقدمہ بنتا ہے۔ وکیل نے سوال اٹھایا کہ اگر اس نے 10 جنوری 2025 کو اپنی بیوی کو طلاق دے دی تھی تو پھر یہ طلاق نامہ 19 اگست 2026 کو کیوں تحریر کیا گیا۔ عدالت میں ایک اور خاتون کا خلع نامہ بھی پیش کیا گیا جس میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ مذکورہ شخص بدکردار ہے اور اس کے کئی دیگر لڑکیوں کے ساتھ نہ صرف ناجائز تعلقات ہیں بلکہ قابل اعتراض ویڈیوز بھی موجود ہیں جن کے ذریعے وہ غیر اخلاقی افعال پر مجبور کرتا رہا۔ پولیس نے بھی اپنی تفتیشی رپورٹ میں ملزم کو گناہ گار قرار دیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ مقدمے کی مکمل پیروی کے بعد ملزم کو اس کے کیے کی سزا ملتی ہے یا نہیں۔
یہ دونوں واقعات ہمارے معاشرے میں بڑھتی ہوئی ناانصافی اور طاقتور کے کمزور پر تسلط کو ظاہر کرتے ہیں۔ جب تک کسی کو اپنے سے زیادہ طاقتور کا سامنا نہ ہو اور مکافاتِ عمل کا آغاز نہ ہو، وہ خود کو تمام قوانین سے بالاتر تصور کرتا ہے۔ ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں اخلاقی قدریں پامال ہو رہی ہیں۔ اگر آپ اس حوالے سے اپنی رائے سے آگاہ کریں تو آپ کی آواز عوام تک ضرور پہنچائی جائے گی۔ دعا ہے کہ ہم سے کوئی ایسا عمل سرزد نہ ہو جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کا باعث بنے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here