اللہ کی دنیا!!!
اللہ تعالی کی بنائی ہوئی یہ دنیا کس قدر خوبصورت ہے، اگر انسان گھر کی چار دیواری سے باہر نکل کر دیکھے تو دل کی اداسی خوشی اور پرمسرت احساس میں بدل جاتی ہے۔ مگر موسم اچھا ہو یا خراب، چمکتی دھوپ ہو یا بارش، یا پھر سفید برف سے ڈھکی ہوئی زمین اور درختوں کی ڈالیاں، لوگ ان تمام دلکش مناظر سے نظریں چرا کر کمروں میں بند رہتے ہیں اور ٹی وی ڈرامے دیکھنے میں مگن رہتے ہیں۔ لوگ یوٹیوب پر یہ لیکچرز سنتے ہیں کہ ڈپریشن کیسے دور کیا جائے، واٹس ایپ پر ہر طرح کی نصیحت آموز تحریریں پڑھتے رہتے ہیں اور فیس بک پر دوسروں کی تصاویر دیکھ کر تبصرے کرتے ہیں کہ بہت خوبصورت جگہ کی سیر ہو رہی ہے یا آپ تو مصر کے اہرام میں کھوئے ہوئے ہیں۔
لیکن افسوس کہ لوگ اپنے اردگرد نظر نہیں دوڑاتے، حالانکہ اگر ذرا سا گھر سے باہر نکل کر کسی قریب واقع پارک میں جا کر بیٹھ جائیں تو منظر ہی بدل جاتا ہے۔ مثال کے طور پر امریکہ میں جگہ جگہ خوبصورت پارک بنائے گئے ہیں جہاں بیٹھ کر انسان گرمیوں میں یا آج کل کے موسم میں آسمان پر تیرتے سفید بادل دیکھ سکتا ہے۔ زمین پر سبزے کا قالین بچھا ہے اور ہرے بھرے درخت دور تک نظر آتے ہیں، یوں لگتا ہے جیسے وہ زمین کی خوبصورتی میں اضافے کے لیے ایک ترتیب سے کھڑے ہوں۔ آسمان پر پرندے پرواز کرتے ہیں اور پارکوں میں کھیلتے ہوئے بچوں کی کلکاریاں گونجتی ہیں، مگر مسئلہ یہ ہے کہ گھر سے کون نکلے اور قدرت کے ان نظاروں کو کون دیکھے۔
بے شمار مصروفیات انسان کے قدم روکے رکھتی ہیں۔ تاہم اگر دفتر اور گھر کے کام اس دنیا کی خوبصورتی دیکھنے کا موقع نہیں دیتے، تب بھی انسان کو اپنے لیے وقت نکال کر قدرت کے ان حسین نظاروں کا مشاہدہ ضرور کرنا چاہیے، ورنہ شام ڈھلے تک اداسی ذہن پر مسلط ہو جائے گی۔ اکثر لوگ مصروفیت کے بعد اپنے لیے وقت تو نکالتے ہیں مگر یہ وقت بھی سکرین کی نذر ہو جاتا ہے۔ خواتین نت نئے کھانے پکانے میں دل بہلا لیتی ہیں لیکن قدرتی نظاروں کے لیے گھر سے باہر نہیں نکلتیں، کیونکہ اسے وقت کا ضیاع سمجھا جاتا ہے، حالانکہ اپنے آپ کو پرسکون رکھنے کی یہ ایک بہترین تھراپی ہے۔
عموماً ہم صرف چھٹیوں کے منتظر رہتے ہیں کہ چھٹیاں ملیں تو کہیں دور کسی خوبصورت شہر یا ملک جائیں، وہاں کے نظاروں سے لطف اندوز ہوں، وہاں جا کر ریلیکس کریں اور تروتازہ ہو کر واپس آئیں۔ لیکن جب ہم ایسا کرنے میں ناکام رہتے ہیں اور اتنی مہنگی چھٹی کے لیے وسائل میسر نہیں ہوتے تو ہم اداس اور محرومی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ پھر فیس بک دیکھ کر سوچتے ہیں کہ یہ کتنے خوش قسمت لوگ ہیں جو اتنی خوبصورت چھٹیاں منا رہے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ اللہ کی بنائی ہوئی یہ دنیا ہر جگہ سے بہت خوبصورت ہے۔ اگر آپ ملک ملک گھومیں اور وقت نکالیں تو بھی اللہ کی اس دنیا سے خوشی حاصل کر سکتے ہیں، اور اگر وقت یا پیسہ مناسب مقدار میں نہ ہو تو کم از کم قریب کے سمندر پر چلے جائیں جہاں پانی کی لہریں آپ کو پرسکون کر دیں گی۔ کسی مقامی پارک میں چلے جائیں، وہاں کا سبزہ آپ کی آنکھوں کو ٹھنڈک اور سکون پہنچائے گا۔ آسمان کو دیکھیں جسے شاید آپ نے ایک طویل عرصے سے غور سے نہ دیکھا ہو، یا ستاروں کے نظارے کے لیے شہر سے ذرا دور گاڑی لے کر نکل جائیں جہاں چمکتے ستارے آپ کو حیرت زدہ کر دیں گے۔ غرض یہ سورج، چاند، ستارے، زمین اور آسمان سب ہم جیسے انسانوں کے لیے ہی تخلیق کیے گئے ہیں، اس لیے اس دنیا کی قدرتی نعمتوں سے فیضیاب ہوں اور کبھی کبھی اس مصنوعی دنیا سے باہر نکل کر بھی دیکھیں۔










