یمن میں جاری طویل خانہ جنگی ایک بار پھر ایک بڑے فوجی موڑ میں داخل ہو گئی ہے۔ یمنی حکومت نے حوثی تحریک کے خلاف ”آپریشن فجرِالیمن” شروع کردیاہے، جس کے بعد ملک کے اہم متنازعہ محاذوں پر جاری خانہ جنگی میں تیزی آ گئی ہے۔ کارروائی میں یمنی حکومتی فورسز کو سعودی قیادت میں قائم اتحاد کی فضائی معاونت حاصل ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق آپریشن کا ایک اہم مقصد بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں اور باب المندب جیسے مقامات پر حکومتی کنٹرول مضبوط کرنا ہے۔یمن میں جنگ تقریباً ایک دہائی سے جاری ہے اور اس دوران ملک سیاسی، معاشی اور انسانی بحرانوں کی لپیٹ میں رہا ہے۔ حوثیوں نے 2014 میں دارالحکومت صنعا پر قبضہ کر کے ملک کے بڑے حصے پر اپنا اثر و رسوخ قائم کرلیاتھا ، جس کے بعد سعودی عرب کی قیادت میں اتحادی افواج نے 2015 میں یمنی حکومت کی حمایت میں فوجی مداخلت کی۔ کئی برس کی فضائی کارروائیوں اور زمینی لڑائی کے باوجود کوئی فریق فیصلہ کن کامیابی حاصل نہیں کر سکا تھا، تاہم آپریشن فجرِ الیمن کی تازہ کارروائی میں مغربی ساحلی علاقے خصوصی اہمیت رکھتے ہیں۔ باب المندب دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے بحیرہ? احمر کے ذریعے ایشیا، مشرق وسطیٰ اور یورپ کے درمیان تجارتی سامان اور توانائی کی ترسیل ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یمن میں اس علاقے پر کنٹرول محض ایک مقامی فوجی کامیابی نہیں بلکہ اس کے اثرات پورے خطے اور عالمی تجارت تک پہنچ سکتے ہیں۔
یمنی حکومت کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس کی فورسز نے بعض اہم علاقوں میں پیش قدمی کی ہے اور حوثیوں کی دفاعی پوزیشنوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ دوسری جانب حوثی تحریک ان دعوؤں کو مسترد کرتی ہے اور اس کا مؤقف ہے کہ حکومتی فورسز اور ان کے اتحادیوں کو مختلف محاذوں پر مزاحمت کا سامنا ہے۔اس کارروائی میں سعودی عرب کا کردار بھی خاص اہمیت رکھتا ہے۔ سعودی قیادت کئی برس سے یمن میں حوثی تحریک کو اپنے لیے ایک سکیورٹی چیلنج سمجھتی رہی ہے۔ سعودی عرب کے نزدیک حوثیوں کے پاس موجود میزائل اور ڈرون سعودی سرزمین اور بحیرہ? احمر کے اہم مقامات کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ سعودی عرب کی فضائی معاونت یمنی حکومت کو زمینی کارروائی میں مدد فراہم کر سکتی ہے، تاہم ماضی کا تجربہ یہ بتاتا ہے کہ صرف فضائی طاقت سے یمن کے پیچیدہ سیاسی اور عسکری بحران کا فیصلہ ممکن نہیں۔
اس تنازعے کا ایک اور اہم پہلو ایران اور حوثیوں کے تعلقات ہیں۔ سعودی عرب اور دیگر علاقائی قوتیں حوثیوں کو ایران کے قریب سمجھتی ہیں اور ان کے عسکری ڈھانچے میں ایرانی مدد کے حوالے سے متعدد الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں لیکن ایران حوثیوں کو براہِ راست کنٹرول کرنے کے الزامات کو مسترد کرتا ہے، تاہم دونوں کے درمیان سیاسی اور عسکری روابط کے بارے میں بین الاقوامی سطح پر طویل عرصے سے بحث جاری ہے۔
آپریشن فجرِ الیمن کے نتیجے میں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا یمنی حکومت واقعی صنعا کی طرف فیصلہ کن پیش قدمی کر سکے گی۔ صنعا حوثیوں کا سیاسی اور انتظامی مرکز ہے اور اسے واپس حاصل کرنا کسی بھی حکومتی فوجی منصوبے کا سب سے مشکل مرحلہ ہوگا۔ دارالحکومت کی طرف پیش قدمی کا مطلب ایک ایسے علاقے میں داخل ہونا ہوگا جہاں حوثی برسوں سے مضبوط دفاعی اور انتظامی ڈھانچہ قائم کیے ہوئے ہیں۔
دوسری جانب جنگ کے دوبارہ وسیع ہونے سے انسانی بحران بھی سنگین ہونے کا خدشہ ہے۔ یمن پہلے ہی خوراک، صحت، روزگار اور بنیادی سہولتوں کے شدید مسائل سے دوچار ہے۔ نئی فوجی کارروائی اگر بڑے شہروں اور آبادی والے علاقوں تک پھیلتی ہے تو عام شہری سب سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔ اقوام متحدہ اور امدادی اداروں کے لیے بھی جنگ زدہ علاقوں تک امداد پہنچانا مزید مشکل ہو سکتا ہے۔
عالمی سطح پر بھی اس کارروائی پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ اگر باب المندب میں سکیورٹی کی صورتحال خراب ہوتی ہے تو بحیرہ احمر سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں جہاز رانی کے اخراجات اور عالمی سپلائی چین پر دباؤ پیدا ہونے کا امکان ہے۔ ماضی میں بحیرہ احمر میں حملوں کے باعث متعدد عالمی شپنگ کمپنیوں نے متبادل راستے اختیار کیے تھے، جس سے سفر کا وقت اور اخراجات دونوں بڑھے تھے۔
تاہم آپریشن فجرِ الیمن کا اصل امتحان میدانِ جنگ سے زیادہ سیاسی میدان میں ہوگا۔ یمن کا بحران صرف حوثیوں اور حکومت کے درمیان طاقت کی جنگ نہیں بلکہ اس میں علاقائی طاقتیں، جنوبی یمن کے مختلف گروہ، قبائلی قوتیں اور متعدد مسلح تنظیمیں بھی شامل ہیں۔ کسی ایک فریق کی فوجی پیش قدمی اس وقت تک مستقل سیاسی حل میں تبدیل نہیں ہو سکتی جب تک یمن کے مختلف فریقوں کے درمیان اقتدار، وسائل اور ملک کے مستقبل کے حوالے سے کوئی قابلِ عمل سمجھوتا نہ ہو۔
آپریشن فجرِ الیمن نے یمن کی جنگ کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا ہے، لیکن اس کا حتمی نتیجہ ابھی واضح نہیں۔ اگر حکومتی فورسز ساحلی علاقوں میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کے بعد اندرونِ ملک بھی پیش قدمی کرتی ہیں تو یمن میں طاقت کا توازن تبدیل ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر حوثی مضبوط مزاحمت کرتے ہیں تو جنگ ایک مرتبہ پھر طویل محاذ آرائی میں تبدیل ہوجائیگی۔
فی الحال سب کی نظریں باب المندب، مغربی ساحل اور صنعا کی سمت ہونے والی پیش رفت پر ہیں۔ آنیوالے دن یہ طے کرنے میں اہم ہوں گے کہ آپریشن فجرِ الیمن ایک محدود فوجی کارروائی ثابت ہوتی ہے یا یمن کی تقریباً بارہ سالہ جنگ میں ایک نئے اور زیادہ فیصلہ کن باب کا آغاز کرتی ہے۔










