لانگ مارچ ، مذاکرات ناکام اور نئے صوبوں کی پیچیدہ حقیقت

0
13
شمیم سیّد
شمیم سیّد

پاکستان اس وقت اپنی تاریخ کے ایک ایسے تاریک اور ہنگامہ خیز دور سے گزر رہا ہے جہاں سیاسی عدم استحکام اور اقتدار کی کھینچ تان نے ریاست کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ گزشتہ کچھ عرصے سے جاری سیاسی کشمکش اور احتجاجی سیاست نے نہ صرف حکومتی ایوانوں کو مفلوج کر رکھا ہے بلکہ عوام کی زندگی کو بھی اجیرن بنا دیا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف اور موجودہ اتحادی حکومت کے مابین جاری زہر آلود فضا نے ملک میں پائیدار جمہوریت کے قیام کی تمام امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے۔ پشاور سے اسلام آباد کی طرف بار بار کے احتجاجی مارچ، اہم شاہراہوں کی بندش، کنٹینروں کی سیاست اور ریاست کی طرف سے طاقت کا بے دردی سے استعمال اس بات کی گواہی دے رہا ہے کہ فریقین کے نزدیک ملکی مفاد سے زیادہ اپنے سیاسی بیانیے اور ضد کی بقا اہم ہو چکی ہے۔ اس تمام تر بدامنی اور خوف کے ماحول نے عام شہری کو عدم تحفظ کا شکار کر دیا ہے، جبکہ وفاق کی اکائیوں کے درمیان اعتماد کا رشتہ دن بدن نحیف ہوتا جا رہا ہے۔حکومت اور تحریک انصاف کے مابین پیدا شدہ طویل تعطل کو توڑنے کے لیے اگرچہ ماضی میں اور حال ہی میں مذاکرات کے کچھ ڈرامائی ڈول ڈالے گئے، لیکن یہ تمام تر کوششیں بے سود اور بے نتیجہ ثابت ہوئیں۔
حکومت کی جانب سے پارلیمانی مکالمے کی دہرائی جانے والی گردان محض ایک سیاسی حکمت عملی معلوم ہوتی ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ فریقین اپنے اپنے موقف سے ایک انچ پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔ تحریک انصاف کا واضح مطالبہ اپنے تمام گرفتار رہنماؤں اور بالخصوص بانی چیئرمین عمران خان کی رہائی، انتقامی مقدمات کے خاتمے اور اپنے مبینہ چھینے گئے انتخابی مینڈیٹ کی واپسی ہے۔ دوسری جانب حکمران اتحاد ان مطالباتی شرطوں کو ماننے کے بجائے تمام معاملے کو عدالتوں کے مرہون منت قرار دے کر اپنا دامن بچانے کی کوشش کر رہا ہے۔ جب تک سیاسی قیادت اپوزیشن کے سب سے بڑے رہنما کی براہ راست شمولیت اور عملی لچک کے بغیر بند کمروں کے اجلاس منعقد کرتی رہے گی، اس وقت تک کسی پائیدار مفاہمت کا امکان معدوم ہی رہے گا۔ مذاکرات کے اس بار بار ٹوٹتے سلسلے نے ثابت کر دیا ہے کہ دونوں گروپس کے پاس مفاہمت کا کوئی واضح راستہ موجود نہیں ہے اور محض وقت گزارنے کے لیے ایک دوسرے پر الزامات کی بوچھاڑ کی جا رہی ہے۔اس مسلسل سیاسی طوفان اور بدامنی کے براہ راست اثرات پاکستان کی معیشت پر زہر قاتل کی طرح اثر انداز ہو رہے ہیں۔ کسی بھی ملک کی معاشی نمو اور تجارتی استحکام کے لیے سیاسی ثبات ایک بنیادی شرط ہوا کرتا ہے، مگر پاکستان میں جاری غیر یقینی کی صورتحال نے عالمی سرمایہ کاروں اور اندرونی صنعتی برادری کے اعتماد کو خاک میں ملا دیا ہے۔ اگرچہ عالمی مالیاتی ادارے اور دوست ممالک سے وقتًا فوقتًا امدادی اقساط اور قرضوں کی تجدید کے ذریعے وقتی سانس مل جاتی ہے، مگر پیداواری شعبے کی تباہی، ریکارڈ برائے کساد بازاری اور روز بروز بڑھتی ہوئی بے روزگاری نے عوام کی کمر توڑ دی ہے۔ بار بار کے احتجاجی مظاہروں اور مواصلاتی رابطوں کی معطلی سے اندرونی سپلائی چین مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے، جس کے نتیجے میں غیر ملکی سرمایہ کار اپنے پاؤں پیچھے ہٹانے پر مجبور ہیں۔
روزمرہ کی تجارت اور کاروباری مراکز کی بندش سے قومی خزانے کو جو عربوں روپے کا نقصان پہنچ رہا ہے، اس کا اثر بالواسطہ اور بلاواسطہ طور پر عام شہری کی جلی ہوئی روٹی اور آسمان سے باتیں کرتی مہنگائی کی صورت میں نکلتا ہے۔اسی سیاسی اور معاشی بحران کی دھند کے درمیان ن نئے صوبوں کی قیام کی بحث نے ایک بار پھر سر اٹھا لیا ہے، لیکن یہ موضوع بھی خلوص نیت کے بجائے محض سیاسی جوڑ توڑ اور مفادات کا آلہ کار نظر آتا ہے۔ پنجاب کو تقسیم کر کے سرائیکی صوبہ بنانے کی گونج طویل عرصے سے سنائی دے رہی ہے، مگر مسلم لیگ ن اس اقدام پر سخت ہچکچاہٹ کا شکار ہے کیونکہ اسے ڈر ہے کہ اپنے مرکزی ووٹ بینک کا کٹاؤ اس کی سیاسی اہمیت کو ختم کر دے گا۔ دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب کی حد تک نیا صوبہ بنانے کی زبردست حامی بن کر سامنے آتی ہے تا کہ اپنے حریف کو کمزور کیا جا سکے، لیکن جب بات سندھ کی جغرافیائی تقسیم یا کراچی کو الگ انتظامی اکائی بنانے کی آتی ہے تو اس کا ردعمل انتہائی سخت اور ناقابل قبول ہوتا ہے۔ تحریک انصاف اپنے منشور کی حد تک تو نئے صوبے کی حمایت کرتی ہے، مگر موجودہ حالات میں وہ اس تمام مشق کو حکمران اتحاد کا اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کا ایک سیاسی ڈرامہ قرار دیتی ہے۔
دستور کی شق 239 کے تحت کسی بھی نئے صوبے کی تشکیل کے لیے قومی اسمبلی اور متعلقہ صوبائی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت کی درکار حمایت موجودہ سیاسی تقسیم کے ماحول میں ناممکن دکھائی دیتی ہے۔ تمام سیاسی جماعتیں نئے صوبوں کو عوامی بہبود اور بہتر انتظامی امور کے حل کے لیے استعمال کرنے کے بجائے صرف ایک دوسرے کو سیاسی زچ کرنے کی شطرنج پر مہرے کے طور پر استعمال کر رہی ہیں۔ اس بے حسی، عدم برداشت اور آئینی کھلواڑ کا نتیجہ ملک کو مزید کساد بازاری اور افراتفری کی طرف دھکیل رہا ہے۔ اگر اب بھی تمام سیاسی شراکت داروں، عسکری قیادت اور عدلیہ نے اپنے ذاتی اور جماعتی مفادات سے بالاتر ہو کر ملک کی اقتصادی بقا اور آئین کی برتری کو ترجیح نہ دی، تو تاریخ کا فیصلہ انتہائی تلخ ہوگا اور اس کا خمیازہ آنے والی نسلوں کو بھگتنا پڑے گا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ انتقامی سیاست کا باب ہمیشہ کے لیے بند کر کے ایک میثاق معیشت اور میثاق جمہوریت پر فوری پیش رفت کی جائے تا کہ اس ڈوبتے ہوئے سفینے کو ساحل مراد تک پہنچایا جا سکے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here