خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا بنتا بگڑتا منظرنامہ

0
8

لاہور (پاکستان نیوز) وفاقی حکومت اور اپوزیشن کے مابین مذاکرات کا بے نتیجہ خاتمہ محض ایک سیاسی ناکامی نہیں بلکہ ملک کو سنگین ترین بحرانی دلدل میں دھکیلنے کی ایک خوفناک شروعات ہے۔ پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان مسلم لیگ ن کے حکمران اتحاد کے درمیان حالیہ دنوں میں پردے کے پیچھے اور کھلے عام ہونے والی تمام گفت و شنید کسی منطقی انجام تک پہنچے بغیر مکمل طور پر دم توڑ چکی ہے۔ اس تمام سیاسی تعطل کی بنیادی اور سب سے بڑی وجہ تحریک انصاف کے اندر ایک ایسی مرکزی اور بااختیار قیادت کا فقدان ہے جو اہم موقعوں پر فیصلے کرنے اور ان پر قائم رہنے کی اہلیت رکھتی ہو۔ تحریک انصاف کے بانی اور مرکزی رہنما اس وقت پابند سلاسل ہیں، جس کی وجہ سے پارٹی کے تمام ثانوی درجے کے رہنما الگ الگ زاویوں سے سیاست کر رہے ہیں اور کسی بھی حتمی سیاسی معاہدے کی سکت نہیں رکھتے۔ جب بھی وفاقی حکومت کے نمائندے کسی اہم نکتے پر مفاہمت کی بنیاد رکھنے کی کوشش کرتے ہیں، تحریک انصاف کی جانب سے متضاد بیانات اور فیصلوں کی عدم موجودگی پورے عمل کو معطل کر دیتی ہے۔ مرکزی قیادت کی اس عدم موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پارٹی کے اندر سخت گیر اور جارحانہ سوچ رکھنے والے عناصر حاوی ہو چکے ہیں، جن کا خیال ہے کہ حکومت کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات کا فائدہ اقتدار پر قابض طبقے کو ملے گا۔ دوسری جانب وفاقی حکومت بھی اس صورتحال سے بخوبی واقف ہے اور وہ بھی سیاسی میدان میں کسی قسم کا بڑا این آر او یا ریلیف دینے کے موڈ میں دکھائی نہیں دیتی، جس کی وجہ سے یہ سیاسی مذاکراتی عمل طویل تعطل اور ناکامی کا شکار ہو چکا ہے۔اسی دوران صوبہ خیبر پختونخوا میں نئی سیاسی لہر نے پورے ملک کی توجہ اپنی جانب مبذول کروا لی ہے۔ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اقتدار سنبھالتے ہی انتہائی جارحانہ اور سخت گیر حکمت عملی اختیار کر لی ہے اور وہ اپنی جماعت کو ایک بار پھر وفاق پر حملے اور احتجاجی سیاست کے راستے پر گامزن کر رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی پارٹی کی صفوں میں اس بیانیے کو انتہائی شدت سے فروغ دے رہے ہیں کہ حکومت کو مذاکرات سے نہیں بلکہ ایک اور بھرپور اور فیصلہ کن لانگ مارچ کے ذریعے ہی مشکل میں ڈالا جا سکتا ہے۔ وہ پارٹی کے نوجوانوں، صوبائی اسمبلی کے ارکان اور تنظیم کو متحرک کر کے وفاقی دارالحکومت کی طرف ایک بڑے احتجاجی کاروان کی تیاریوں میں مصروف ہیں تا کہ مرکزی حکومت پر حد درجہ دباؤ بڑھایا جا سکے۔ سہیل آفریدی کا موقف ہے کہ وفاقی حکومت کمزور بنیادوں پر کھڑی ہے اور اگر خیبر پختونخوا کی سر زمین سے ایک طوفانی لانگ مارچ شروع کیا جائے تو اسلام آباد کے ایوان لرز اٹھیں گے اور وفاق کو ان کے تمام مطالبات تسلیم کرنا پڑیں گے۔ اس جارحانہ رویے نے تحریک انصاف کے اندر موجود اعتدال پسند اور مذاکرات کے حامی رہنماؤں کو بالکل پس پشت ڈال دیا ہے اور پورے صوبے کی مشینری کو وفاق کے خلاف صف آرا کرنے کی تیاریاں عروج پر پہنچ چکی ہیں۔دوسری طرف وزیر اعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں ایک اہم تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اپوزیشن پر شدید تنقید کی اور دھرنوں و احتجاجی سیاست کو ملکی معیشت کے لیے تباہ کن قرار دیا۔ وزیر اعظم شہباز شریف کا اپنے تازہ ترین خطاب میں کہنا تھا کہ گزشتہ ڈھائی سال کی انتھک محنت کے بعد حکومت نے بمشکل معیشت کو پٹری پر ڈالا ہے اور ایسے وقت میں دھرنوں اور لانگ مارچ کی سیاست کا مقصد صرف اور صرف ملک کی معاشی پیش رفت کو معطل کرنا ہے۔ انہوں نے تحریک انصاف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہوش کے ناخن لیں اور اسلام آباد کی طرف اپنی یلغار اور لانگ مارچ کو فوری طور پر ختم کریں۔ شہباز شریف نے واضح الفاظ میں پیشکش کی کہ اگر اپوزیشن اپنا لانگ مارچ منسوخ کر کے احتجاج کی سیاست ترک کرتی ہے تو حکومت ان کے ساتھ بیٹھ کر جملہ مسائل پر بات چیت کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ تاہم انہوں نے تنبیہ بھی کی کہ عوام کے مال و جان کی حفاظت کرنا اور ملک کی ترقی کا دفاع کرنا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے اور کسی بھی گروہ کو قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی جارحانہ پالیسی اور وفاق پر حملے کی دھمکیوں کے جواب میں وفاقی حکومت بھی خاموش تماشائی بننے کے لیے تیار نہیں ہے۔ اسلام آباد کے سیاسی اور آئینی ایوانوں میں خیبر پختونخوا کی اس ممکنہ پیش قدمی کو روکنے کے لیے حتمی منصوبے بندی مکمل کی جا چکی ہے۔ باخبر ذرائع اور سیاسی حلقوں کے مطابق وفاقی حکومت خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنے یا پھر آئین کے تحت گورنر راج لگانے کا انتہائی قدم اٹھانے کے لیے پر تول رہی ہے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی سمیت دیگر حکومتی ارکان کا موقف ہے کہ اگر کسی صوبے کا وزیر اعلیٰ ریاست کے خلاف احتجاجی لشکر کشی کے لیے صوبائی وسائل کا استعمال کرے گا اور وفاقی دارالحکومت کے امن و امان کو خراب کرنے کی کوشش کرے گا تو آئین کے تحت وفاق کو اپنے دفاع کے لیے گورنر راج لگانے کا مکمل حق حاصل ہے۔ وفاقی داخلہ اور قانون کی وزارتیں اس حوالے سے تمام قانونی اور آئینی نقطہ ہائے نظر کا جائزہ لے رہی ہیں اور خیبر پختونخوا کے گورنر کو بھی ممکنہ پیش رفت کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔ اس ممکنہ آئینی اقدام کے باعث صوبائی اور وفاقی حکومت کے درمیان تصادم کا خطرہ خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے اور پورا ملک ایک بار پھر سخت ترین سیاسی بحران اور ممکنہ تصادم کی زد میں آ گیا ہے۔ سیاسی مبصرین اور کالم نگاروں کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف اور حکومت کا یہ باہمی تصادم ملک کو کسی بڑی تباہی کی طرف لے جا سکتا ہے۔ تحریک انصاف کے اندر فیصلوں کا حتمی اختیار رکھنے والی مرکزی قیادت کے نہ ہونے کی وجہ سے جہاں سیاسی مکالمہ ناکام ہوا ہے، وہاں سہیل آفریدی جیسے جذباتی رہنماؤں کو کھل کر کھیلنے کا موقع مل گیا ہے۔ اگر خیبر پختونخوا سے واقعی کسی لانگ مارچ کا آغاز ہوتا ہے اور وفاق اس کے جواب میں گورنر راج یا ایمرجنسی نافذ کرتا ہے، تو اس کا سب سے بڑا نقصان خیبر پختونخوا کے عوام اور ملک کی گرتی ہوئی معیشت کو ہوگا۔ اس قسم کی کشمکش اور تصادم سے صوبائی و وفاقی اداروں کے درمیان خلیج انتہائی گہری ہو جائے گی جو ملک کی سالمیت کے لیے کسی طور مناسب نہیں ہے۔ جب تک دونوں فریقین انا اور جذبات کو بالائے طاق رکھ کر آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے بات چیت کے راستے پر واپس نہیں آتے اور جب تک تحریک انصاف اپنے اندرونی فیصلوں کی صلاحیت کو بحال نہیں کرتی، اس وقت تک اسلام آباد اور پشاور کے درمیان جاری یہ آنکھ مچولی پورے ملک کو غیر یقینی کی آغوش میں دھکیلتی رہے گی۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here