ٹرمپ کا FBIپر انتخابی نتائج تبدیل کرنیکا شدید دباؤ

0
7

واشنگٹن (پاکستان نیوز)امریکی محکمہ انصاف اور فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن کے اندر اس وقت شدید بے چینی اور کھلبلی مچی ہوئی ہے کیونکہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے حکام پر 2020 کے صدارتی انتخابات دھاندلی سے جیتنے کے بے بنیاد دعووں کے سلسلے میں گرفتاریوں اور فرد جرم عائد کرنے کے لیے شدید سیاسی دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ موصولہ رپورٹس کے مطابق 40 سے زائد موجودہ و سابق اہلکاروں اور کانگریس کے عملے کے بیانات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایف بی آئی ڈائریکٹر کش پٹیل صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وائٹ ہاؤس کے دیگر سینئر حکام کو خوش کرنے کے لیے ہر حال میں گرفتاریوں کے عمل کو یقینی بنانا چاہتے ہیں۔ اس سلسلے میں ایک سینئر اہلکار کو انتخابی غیر جانبداری کے اصولوں پر عمل کی استدعا پر یہاں تک کہہ دیا گیا کہ قوانین کو چھوڑیے اور صرف ریپبلکنز کی فتح یقینی بنائیے۔ اس شدید سیاسی دباؤ کی وجہ سے محکمے میں خوف اور تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے جس کے نتیجے میں گرینڈ کنسپائریسی تحقیقات کے نگراں جو ڈی جینووا، قانونی ماہر کرٹ اولسن اور ایف بی آئی کے شریک ڈپٹی ڈائریکٹر اینڈریو بیلی سمیت متعدد سینئر قانونی ماہرین اور پراسیکیوٹرز نے اپنے عہدوں سے استعفے دے دیے ہیں۔ دوسری جانب عام ایجنٹس انتخابی امور سے متعلق سخت احکامات پر شدید تشویش کا شکار ہیں اور انہوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ممکنہ خلاف ورزیوں پر بیرونی قانونی مشاورتی خدمات حاصل کرنا شروع کر دی ہیں۔ اگرچہ انتظامیہ کے ترجمان نے ان تمام الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے انتخابی شفافیت کے کیسز میں 500 فیصد اضافے کا دعویٰ کیا ہے، تاہم جارجیا کی فولٹن کاؤنٹی کے بیلٹ ڈیٹا کی وسیع پیمانے پر جانچ پڑتال کے باوجود اب تک کوئی ٹھوس ثبوت حاصل نہیں ہو سکا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here