اس ہفتے کے دوران، ابلاغِ عامہ کے اکثر اداروں میں، 7 اکتوبر 2023ء کے دن کے بھیانک واقعات کا بڑا چرچا رہا۔ وہ دن جب ارضِ فلسطین پر قابض صیہونی قوتوں پر کمزور و مجبور مگر اس سرزمین کے اصل مالکان نے ایک ایسا حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں ایک ہزار سے زائد افراد لقمہ اجل بن گئے۔ وقت کی واحد سپر پاور کی حفاظت میں رہنے والی اس آبادی کے لیے یقیناً یہ حملہ ناقابلِ فہم اور ناقابلِ یقین تھا۔ صیہونی طاقتوں نے 2007ء سے غزہ کی مکمل ناکہ بندی کر کے، فلسطینیوں کی نسل کشی تو شروع کی ہوئی تھی لیکن سپر پاور کی غیر مشروط حمایت کی وجہ سے اقوامِ عالم کا اجتماعی ضمیر گہری نیند سونے کی اداکاری کر رہا تھا۔ یہ حقیقت ہے کہ کسی حقیقی سونے والے کو جگانا تو آسان ہوتا ہے لیکن اگر کوئی جاگتا ہوا شخص سونے کی اداکاری کر رہا ہو تو اس کو جگانا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔ شاید اسی لیے، اپنے سولہ سال کے جان لیوا محاصرے کی جانب توجہ دلانے کے لیے، غزہ کے کچھ باشندوں کو 7 اکتوبر 2023ء جیسا دھماکہ کرنے کی ضرورت پیش آگئی۔ علامہ اقبال نے بھی فلسطین کے بارے میں کچھ ایسا ہی کہا تھا۔
جلتا ہے مگر شام و فلسطیں پہ مِرا دل
تدبیر سے کھلتا نہیں یہ عقدہ دشوار
گزشتہ تین سالوں کے دوران، ناپاک صیہونی ہاتھوں میں موجود امریکی ہتھیار، غزہ کے 74ہزار سے زائد افراد کو قتل اور ان کے گھروں، ہسپتالوں، اسکولوں اور دیگر اداروں کو تباہ و برباد کر چکے ہیں۔ آج کل نام نہاد جنگ بندی کے باوجود، مجبور و محکوم فلسطینیوں کا قتلِ عام جاری ہے۔ غزہ کی چھوٹی سی پٹی کو مزید چھوٹا کر دیا گیا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ کھلے آسمانوں کے تلے، رات دن اور گرمی و سردی گزارنے والے غزہ کے رہائشی پھر بھی قلبی اطمینان کی وہ زندگی گزار رہے ہیں، جس کا ان پر ظلم و جبر کرنے والے سوچ بھی نہیں سکتے۔ خوش آئند حقیقت یہ ہے کہ اس وقت دنیا بھر کی رائے عامہ غزہ کے مظلومین کے حق میں آواز بلند کر رہی ہے۔ سپر پاور کی افواج، ناکامی و نامرادی کی ایسی پستیوں میں گری ہوئی ہیں کہ ذلت و رسوائی ان کا مقدر بن چکی ہے۔ سپر پاور اور دیگر صیہونی قوتوں کی شدید مخالفت کے باوجود، سال 2026ء کا امن نوبل انعام، جنوبی افریقہ کی خاتون جج ناوی پلے نے فلسطینیوں کی حمایت میں شاندار کردار ادا کرنے کی وجہ سے جیت لیا ہے۔ محترمہ ناوی پلے کا یہ بیان تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا کہ جب امریکی کانگریس نے صیہونی جنگی جرائم کے تفتیشی کمیشن پر یہ اعتراض کیا کہ اس کمیشن کے ختم ہونے کی کوئی حتمی تاریخ طے نہیں ہے تو محترمہ ناوی پلے کا تاریخی جواب یہ تھا کہ اگر آپ مجھے فلسطین پر صیہونی قبضے کی اختتامی تاریخ بتا دیں تو ہم اس کمیشن کے خاتمے کی تاریخ طے کر لیں گے۔ علامہ اقبال نے بھی اس حقیقت کی نشاندہی کچھ یوں کی تھی۔
زمانہ اب بھی نہیں جس کے سوز سے فارغ
میں جانتا ہوں وہ آتش تِرے وجود میں ہے
تِری دوا نہ جنیوا میں ہے نہ لندن میں
فرنگ کی رگِ جاں پنجۂ یہود میں ہے
سنا ہے میں نے غلامی سے امتوں کی نجات
خودی کی پرورش و لذتِ نمود میں ہے
اسرائیل کے جنگی جرائم کے بارے میں قائم اس تحقیقاتی کمیشن نے ستمبر 2025ء میں فیصلہ سنایا کہ اسرائیل نے جنگی جرائم کا ارتکاب کرتے ہوئے، غزہ میں فلسطینیوں کی بے دریغ نسل کشی کی ہے۔ کمیشن کی سفارشات میں غزہ کی نسل کشی میں ہتھیار فراہم کرنیوالے ممالک کے لیے تنبیہ بھی شامل ہے۔ محترمہ ناوی پلے کی زیرِ صدارت قائم اس کمیشن کو یہ جرأت یقیناً غزہ کے معصوم بچوں کی قربانیوں سے ملی اور ایک انہونی، ہونی ہو گئی۔ فلسطین کی آزادی کی جنگ میں حتمی کامیابی یقیناً ابھی خاصی دور ہے لیکن گزشتہ تین سالوں کے حالات و واقعات نے منزل کو کافی قریب ضرور کر دیا ہے۔ شاید اسی وجہ سے، فیض احمد فیض نے تو بہت پہلے ہی فلسطین کا ترانہ لکھ دیا تھا۔
قد جاء الحق و زھق الباطل
فرمودة ربِّ اکبر ہے
جنت اپنے پاؤں تلے
اور سایہ رحمت سر پر ہے
پھر کیا ڈر ہے،ہم جیتیں گے
حقا! ہم اک دن جیتیں گے
بالآخر اک دن جیتیں گے
عالمِ اقوام کو درپیش جس مسئلے نے مغربی دنیا کے دہرے معیاروں کو سب سے زیادہ اجاگر کیا ہے وہ فلسطین پر ناجائز صیہونی قبضے کا قضیہ ہے۔ تقریباً ایک صدی پر محیط اس تنازعے کو موجودہ ورلڈ آرڈر نے ہمیشہ انتہائی بھونڈے اور ظالمانہ انداز سے آگے بڑھایا ہے۔ ذرائع ابلاغ پر کنٹرول کرتے ہوئے عوام الناس تک اس مسئلے کی اصل حقیقت کو کبھی پہنچنے ہی نہیں دیا گیا۔ اب سوشل میڈیا کے اس جدید دور میں جب ساری حقیقتیں اظہر من الشمس ہو گئی ہیں تو عالمی رائے عامہ نے بھی ایک مثبت انگڑائی لی ہے۔ آج دنیا بھر کے طاقت کے ایوانوں میں بھی غزہ کے مظلوموں کی آہیں پہنچ رہی ہیں۔ صیہونی لابی اپنے سارے مالی وسائل خرچ کرنے کے باوجود بھی مسلسل ناکامیوں کا سامنا کر رہی ہے۔ صیہونی حکمران دنیا کے ہر اہم فورم پر جنگی جرائم کے مطعون قرار دے دیئے جاتے ہیں۔ یقیناً یہ سب غزہ کے ان معصوموں کی آہوں کا نتیجہ ہے کہ ورلڈ آرڈر کی بنیادیں تک ہل کر رہ گئی ہیں۔ لگتا ہے فرعون کے محل میں موسیٰ کی پرورش کا انتظام کرنے والا ہمارا رب، ہماری کچھ آزمائشیں ختم کرنے والا ہے۔ قرآنِ مجید کی سورة آلِ عمران میں بھی تو یہی درج ہے کہ عزت و ذلت کا مالک تو وہی ہمارا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔
ترجمہ:آپ کہیے: اے اللہ! اے اقتدار (اور سلطنت) کے مالک! تو جسے چاہے حکومت عطا فرماتا ہے اور جس سے چاہے حکومت چھین لیتا ہے، اور جسے چاہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہے ذلیل و خوار کر دیتا ہے۔ تمام تر بھلائی تیرے ہی ہاتھ میں ہے، بے شک تو ہر چیز پر کامل قدرت رکھنے والا ہے۔









