جب مرتے ہوئے ایک معصوم نے اللہ سے بات کی!!!

0
12

جب مرتے ہوئے ایک معصوم نے اللہ سے بات کی اور میں نے اس کی زندگی سے 25 منٹ ادھار لیے۔ یہ کوئی افسانہ نہیں، بلکہ پاکستان کے معروف نیوروسرجن ڈاکٹر کاشف سلطان کے کیریئر کا وہ سچا اور دل ہلا دینے والا واقعہ ہے، جس نے ان کی زندگی بدل کر رکھ دی۔
رات کا آخری پہر تھا، شہر سو رہا تھا، مگر ہسپتال کی دیواروں کے پیچھے زندگی اور موت کی آخری جنگ جاری تھی۔ ڈاکٹر کاشف سلطان حسبِ معمول وارڈ کے چکر پر تھے کہ اچانک ان کی نظر دماغی تپ دق میں مبتلا ایک ننھے معصوم بچے پر پڑی۔ بچے کی ماں کئی راتوں کی جاگی ہوئی تھی اور تھکن سے چور ہو کر وہیں سرہانے سو چکی تھی۔ اسے اندازہ بھی نہیں تھا کہ اس کے جگر گوشے کی سانسیں بس چند لمحوں کی مہمان ہیں۔
ڈاکٹر کاشف نے جب بچے کا معائنہ کیا اور اسکین دیکھے، تو ان کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ دماغ میں پانی کا دباؤ اس حد تک بڑھ چکا تھا کہ اگر اگلی چند منٹوں میں آپریشن نہ ہوتا، تو بچہ ہمیشہ کے لیے آنکھیں بند کر لیتا۔ صرف 25 منٹ اور زندگی بدل گئی۔ نہ سوچنے کا وقت تھا، نہ عملہ پاس تھا۔ ڈاکٹر کاشف نے ایک سیکنڈ ضائع کیے بغیر خود بچے کا بستر کھینچا اور آپریشن تھیٹر کی طرف دوڑ لگا دی۔
ہسپتال کی سنسان راہداری میں بستر کے پہیوں کی گونج سے ماں ہڑبڑا کر جاگی۔ اپنے بچے کو اس طرح موت کے منہ کی طرف جاتے دیکھ کر وہ روتی، سسکتی ہوئی پیچھے بھاگی۔ اس کی زبان پر صرف ایک ہی چیخ تھی کہ یا اللہ میرے بچے کو بچا لے! ڈاکٹر کاشف کے دل میں بھی ایک ہی دعا تھی کہ یا اللہ آج میرے ہاتھوں کو خطا سے بچانا!
آپریشن تھیٹر پہنچ کر ڈاکٹر کاشف نے ہنگامی طور پر سر کی ہڈی میں سوراخ کیا اور دماغ سے پانی نکالنے کے لیے نالی ڈال دی۔ اسٹریچر کھینچنے سے لے کر نالی ڈالنے تک صرف 25 منٹ گزرے تھے۔ یہ 25 منٹ صدیوں پر بھاری تھے۔ اس رات ایک ڈاکٹر کی برسوں کی تعلیم، مہارت اور حوصلہ سب ایک نقطے پر آزمائے جا رہے تھے، اور اللہ کے فضل سے بچہ بچ گیا۔
اگلی صبح جب ڈاکٹر کاشف وارڈ میں پہنچے، تو رات کا خوفناک منظر بدل چکا تھا۔ ماں پرسکون چہرے کے ساتھ اپنے لخت جگر کو چائے بسکٹ کھلا رہی تھی۔ بچے نے ڈاکٹر کاشف کو دیکھا، پہچانا اور بڑی معصومیت سے پوچھا کہ ڈاکٹر انکل کل رات میری طبیعت بہت خراب تھی، آپ کہاں تھے؟ اس سے پہلے کہ ڈاکٹر کچھ بولتے، معصوم نے ایک ایسا انکشاف کیا جس نے وہاں موجود ہر شخص کو رولا دیا۔ بچہ کہنے لگا کہ پھر مجھے اللہ میاں نے کہا کہ ڈرو مت، میں تمہارے ساتھ ہوں۔ اس کے بعد مجھے لگا کوئی آیا ہے اور مجھے وہاں سے لے جا رہا ہے، پھر میں سو گیا۔ صبح آنکھ کھلی تو اماں چائے بسکٹ لے آئیں۔ڈاکٹر کاشف سلطان دنگ رہ گئے۔ جس بچے کو وہ اپنی مہارت سے بچا رہے تھے، اسے تو یہ بھی نہیں معلوم تھا کہ اس کا آپریشن ہوا ہے۔ اسے بس یہ معلوم تھا کہ جب وہ درد سے تڑپ رہا تھا، تو کائنات کے مالک نے خود آ کر اسے تسلی دی تھی۔
ڈاکٹر کاشف نے نم آنکھوں کے ساتھ بچے کے سر پر ہاتھ رکھا اور کہا کہ ہاں بیٹا کل رات اللہ میاں نے مجھے بھی اکیلا نہیں چھوڑا تھا۔ ڈاکٹر کاشف کہتے ہیں کہ اس رات نے میرا غرور خاک میں ملا دیا۔ ہم معالج صرف ایک وسیلہ ہیں، زندگی اور موت کا مالک صرف وہ رب ہے، بیشک۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here