حضور مجاہد ملت ایک تعارف !!!

0
12

سید اولاد رسول قدسی مصباحی۔قسط 4
اسی اثناء میں اچانک ایک صاحب کانپور سے تدریسی غرض سے وارد ہوئے۔ پہلے ہی روز حضرت مجاہد ملت نے آنجناب کی قلعی کھول کر رکھ دی۔ آپ نے ایسے سوالات کیے جن سے جناب کا وہابی ہونا آشکار ہوگیا۔ اور انہیں فوراً مدد سے نکال کر باہر کر دیا گیا۔ پھر حضرت مولانا بادشاہ پوری صاحب کو ایک بار اور درس وتدریس کے لیے بحال کیا گیا۔ مولانا موصوف سے آپ نے دو سال تک مختلف کتابیں پڑھیں۔ بالخصوص ملاّ جلا لین مع بحرالعلوم، ترمذی شریف وغیرہ اسی پر بس نہیں بلکہ سرکار مجاہد ملت اپنے بے بہا ذوق علمی کی سیرابی کے لیے دن رات بے قرار رہتے۔ یہی بے قراری انہیں مدرسہ معینیہ اجمیر شریف لے گئی۔ ان دنوں مذکورہ مدرسے میں فقیہ اعظم ہند، صدر الشریعہ حضرت مولانا امجد علی علیہ الرحمہ مصنف ”بہار شریعت” اپنے علم وفن کا گوہر گرامایہ لٹا رہے تھے۔ حضرت فقیہ اعظم ہند نے اپنی نگاہ ولایت سے جان لیا کہ یہ آنے والا اپنے وقت کا بلند پایہ عالم اور سنیت کا عظیم محافظ بننے والا ہے۔ فوراً آپ کا داخلہ لے لیا گیا۔ حضرت فقیہ اعظم ہند آپ سے بڑی شفقت ومحبت سے پیش آتے۔ میرے والد گرامی حضور مفتی اعظم اڑیسہ حضرت علامہ سید شاہ عبدالقدوس علیہ الرحمتہ فرماتے تھے کہ حضرت مجاہد ملت رات کے طویل حصے تک کتابوں کے مطالعے میں منہمک رہتے۔ اور پھر نماز فجر کے بعد بھی مطالعہ بدستور قائم رہتا جس کی وجہ سے صبح بلا ناشتہ کیے درسگاہ میں حاضر ہو جاتے۔ حضرت فقیہ اعظم ہند بڑے پیار بھرے انداز میں فرماتے حبیب الرحمن درسگاہ میں بھوکانہ آیا کرو اگر ناشتہ کرنے میں وقت پیش آتی ہے تو پھر رات میں چنے بھگو دیا کرو اور صبح اسے کھا لیا کرو! آپ نے حضرت فقیہ اعظم ہندسے حمد اللہ، میر زاہد، قاضی مبارک، امور عامہ، توضیح وتلویح جیسی معرکتہ الآرہ کتابوں کا سیر حاصل درس لیا۔ اس طرح آپ نے بارگاہ فقیہ اعظم ہند سے خوب اکتساب فیض کیا۔ اور اپنے علمی ذوق نمو کو تسکین کا سامان فراہم کرتے رہے۔ اس کے علاوہ آپ نے مدرسہ معینیہ میں مولانا سید حسین سے عربی ادب اور معقولات کی چند کتابیں مولانا عبدالحی صاحب سے بھی پڑھیں۔ حضرت فقیہ اعظم ہند اپنے دیگر شاگردوں کے بالمقابل حضرت مجاہد ملت کو مختلف امور میں بے پناہ فوقیت دیتے اور اپنے تلمیذارشد پر بسا اوقات ناز کرتے اور فرماتے کہ میرے شاگردوں میں حبیب الرحمن کی ذات ایسی ہے کہ جس سے سنیت کو فروغ حاصل ہوگا۔ اور باطل کو ہر گام پر شکست وریخت کا سامنا کرنا ہوگا۔ حضرت فقیہ اعظم ہند کی یہ پیش گوئی آگے چل کر حرف بہ حرف صحیح ثابت ہوئی۔ یہی وجہ ہے کہ حضور مجاہد ملت کے نام سے باطل کو پسینہ آجاتا اور یہ گستاخ میدان سے بھاگ کھڑے ہوتے۔
٭٭٭٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here