فیضان محدّث اعظم پاکستان رضی اللہ عنہ
محترم قارئین! جی ایم سی فائونڈیشن کا تحت نکلنے والا فیضان محدّث اعظم پاکستان رضی اللہ عنہ آرٹیکل جو ہفتہ وار ہے اور فکر اعلیٰ حضرت امام احمد رضا، فکر محدّث اعظم پاکستان اور فکر شمس المشائخ صاحبزادہ قاضی محمد فضل رسول حیدر رضوی رضی اللہ عنھم کا آئینہ دار ہے۔ تلاوت قرآن مجید بہت بڑی سعادت ہے بلکہ قرآن پاک صحیح معنوں میں پڑھنا ہر مسلمان مردوزن عاقل وبالغ پر فرض ہے کیونکہ قرآن پاک سے ایمان والوں کی عزت ہے، شان ہے اور احترام ہے۔ لہذا قرآن پاک کی تلاوت ذوق وشوق اور پیار اور محبت سے کرنی چاہئے اور یہ یقین رکھنا چاہئے کہ قرآن مجید سے شفف حقیقت میں اللہ تعالیٰ سے شفف ہے۔ نبی پاکۖ نے فرمایا کہ میری امت کے لئے سب سے بہتر عبادت قرآن پاک کی تلاوت ہے۔ اکثر وبیشتر وقت تلاوت کلام مجید میں مشغول رہنا چاہئے۔ تلاوت سے اکتانا نہیں چاہئے۔ نبی پاکۖ نے فرمایا ہے کہ جو بندہ قرآن پاک کی تلاوت اس قدر مشغول ہو کر کرتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا مانگنے کا موقع نہیں پاتا تو اللہ تعالیٰ اسے بغیر مانگے ہی مانگنے والوں سے زیادہ عطا فرماتا ہے یہ حدیث، حدیث قدسی ہے۔
نبی پاکۖ نے تلاوت قرآن مجید کی ترغیب دیتے ہوئے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ جس شخص نے قرآن پاک پڑھا اور وہ اس کی تلاوت بھی روزانہ کرتا ہے اس کی مثال ایسی ہے جیسے مُشک سے بھری ہوئی زنبیل کہ اس کی خوشبو چار سو مہک رہی تھی اور جس شخص نے قرآن پاک پڑھا لیکن وہ اس کی تلاوت نہیں کرتا تو اس کی مثال ایسی ہے جسے مُشک سے بھری ہوئی بوتل کہ اس کو ڈاٹ لگا کر بند کر دیا گیا ہے۔ قرآن پاک کی تلاوت ہدایت طلب کرنے کے لئے کرنی چاہئے۔ کیونکہ جسے ہدایت مل گئی اسے سب کچھ مل گیا۔ ازق، مال، اولاد اور خوشیاں ہی خوشیاں باقی لوگوں کو اپنا گرویدہ بنانے، اپنی خوش الحانی کا سکہ جمانے اور اپنی دینداری کی دھاک بٹھانے کی بری نیتّوں سے ہمیشہ پرہیز کرنا چاہئے۔ یہ انتہائی گھٹیا اور برے مقاصد ہیں۔ اور پھر ان اغراض سے قرآن مجید کی تلاوت کرنے والا ہدایت سے محروم رہتا ہے تلاوت قرآن مجید سے پہلے طھارت ونظامت کا پورا پورا اہتمام کرنا چاہئے۔ بغیر وضو قرآن پاک کو چھونا منع ہے پھر جہاں پر بیٹھ کر تلاوت کیجائے وہ جگہ بھی پاک ہونی چاہئے۔ تلاوت کے وقت قبلہ رخ دوزانو ہو کر بیٹھنا چاہئے۔ گردن جھکا کر، انتہائی توجہ، یکسوئی، دل کی آمادگی اور سلیقے سے تلاوت کرنی چاہئے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ترجمہ: کتاب جو ہم نے آپ کی طرف بھیجی ہے۔ وہ برکت والی ہے۔ تاکہ وہ اس میں غوروفکر کریں اور عقل والے اس سے نصیحت حاصل کریں۔
تجوید وترتیل کا بھی خیال رکھنا چاہئے۔ حروف ٹھیک ٹھیک ادا کرنے چاہیئں۔ اور خوب ٹھہر ٹھہر کر تلاوت کرنی چاہئے۔ نبی پاکۖ کا ارشاد ہے کہ اپنی آواز اور اپنے لہجے سے قرآن پاک کو آراستہ کرو۔ نبی پاکۖ ایک ایک حرف واضح کرکے اور ایک ایک آیت کو الگ الگ کرکے پڑھا کرتے تھے۔ آپۖ کا ارشاد ہے قرآن پاک پڑھنے والے سے قیامت کے روز کہا جائے گا جس ٹھہرائو اور خوش الحانی کے ساتھ تم دنیا میں سنوار کر قرآن پاک پڑھا کرتے تھے اسی طرح قرآن پڑھو اور ہر آیت کے صلے میں ایک درجہ بلند ہوتے جائو۔ تمہارا ٹھکانہ تمہاری تلاوت کی آخری آیت کے قریب ہے۔ یوں تو جب بھی موقع ملے تلاوت کلام مجید بہت بڑی سعادت اور برکت ہی برکت ہے۔لیکن سحر کے وقت تہجد کی نماز میں بھی قرآن پاک پڑھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ یہ تلاوت قرآن مجید کی فضلیت کا سب سے اونچا درجہ ہے۔ اور مئومن کی یہ تمنا ہونی چاہئے کہ وہ تلاوت کا اونچے سے اونچا مرتبہ حاصل کرے۔ قرآن پاک کی عظمت کا ہمیشہ خیال رکھنا چاہئے۔ اور جس طرح ظاہری طھارت اور پاکی کا لحاظ کیا جائے اسی طرح دل کو بھی گندے خیالات برے جذبات اور ناپاک مقاصد سے پاک رکھنا چاہئے کیونکہ جو دل گندے اور نجس خیالات اور جذبات سے آلودہ ہے اس میں نہ قرآن پاک کی عظمت و وقعت بیٹھ سکتی ہے اور نہ وہ قرآن پاک کے معارف و حقائق کو ہی سمجھ سکتا ہے۔
حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ جب قرآن پاک کھولتے تو اکثر بے ہوش ہو جاتے اور فرماتے یہ میرے عظمت و جلال والے پروردگار کا کلام ہے یہ سمجھ کر تلاوت کرنی چاہئے کہ روئے زمین پر اگر انسان کو ہدایت مل سکتی ہے تو صرف اسی کتاب ہے اور اسی تصور کے ساتھ اس میں تفکر اور یدبّر کرنا چاہئے۔ اور اس کے حقائق اور حکمتوں کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ اللہ والوں کو جو درجے حاصل ہوتے ہیں اور ولایت کا مقام حاصل ہوتا ہے اس میں تلاوت قرآن مجید کاواضح اثر ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی صحیح طریقہ سے آداب کو محلوظ رکھ کر تلاوت قرآن مجید کی توفیق عطا فرمائے(آمین)۔
٭٭٭٭٭













