محترم قارئین کرام، آپ کی خدمت میں سید کاظم رضا نقوی کا سلام پہنچے۔ اس دنیا میں کوئی شہر یا آبادی ایسا ملک نہیں جو جرم سے پاک ہو۔ کسی ملک یا شہر میں زیادہ اور کہیں کم جرائم ہوتے ہیں۔ کچھ عادی اور پیشہ ور مجرم اس کو بطور روزگار چن لیتے ہیں۔ اس سے آسان کیا ہوگا، ایک بندوق پکڑی، تھوڑی دیر اپنی جان خطرے میں ڈالی اور دونوں ہاتھوں میں دولت ہی دولت، چند منٹ کی کارروائی اور ٹھیک ٹھاک حرام مال جمع ہوگیا۔ اب کام کون کرے، پورا مہینہ انتظار اور تنخواہ ملنے میں دیر سویر، جبکہ ان حرکتوں سے متاثر ہوکر کچھ مجبور لوگ انتہائی قدم اٹھا لیتے ہیں۔ وہ مجرم بننا نہیں چاہتے، ان کی مجبوری ان سے یہ کام کرا دیتی ہے۔ ایسے لوگ اگر عوام کے ہاتھ لگ جائیں تو ان کی اچھی خاصی دھلائی الگ ہوتی ہے اور اگر زیادہ غصے والا مجمع ان کے حصے آئے تو کبھی سافٹ ویئر بھی ڈیلیٹ کر دیتا ہے۔ میرا تعلق شہر کراچی سے ہے جہاں جرائم ہر گلی محلے اور شخص کے ساتھ یا کم از کم ان کے رشتہ داروں کے ساتھ پیش آئے ہیں، ایسے بہت سے واقعات ہوئے ہیں جن کا اثر ان کے دماغوں پر رہتا ہے اور مشکل سے جاتا ہے۔ مندرجہ ذیل واردات سیالکوٹ میں ہوئی جس نے دل کو متاثر کیا۔ ایسا وقت آچکا ہے کہ چور ڈاکوؤں کی بھی تعریف کرنا پڑ رہی ہے، خیر زندگی مختصر ہے پیارے، اس کو بھرپور جیو، ایسے منفی طرز عمل میں بھی کچھ مثبت تلاش کر لینا دل کی تسلی کو کافی ہے۔ اب آپ واقعہ پڑھیے:
ایک جرم کا اس سے خوبصورت ڈراپ سین آپ نے کبھی سنا اور دیکھا نہ ہوگا، سیالکوٹ کے دکانداروں نے دو لاکھ کا موبائل چوری کرنے والے نوجوان کو ٹریس کرنے کے بعد اسے مہمان خصوصی اور دلہا بنا کر استقبال کیوں کیا؟ ایک ہفتہ قبل سیالکوٹ میں ایک نوجوان نے دکاندار کو باتوں میں لگا کر دو لاکھ کے قریب مالیت کا موبائل جیب میں ڈالا اور رفو چکر ہو گیا۔ سی سی ٹی وی ویڈیوز کو بنیاد بنا کر دکانداروں نے ایف آئی آر درج کروائی۔ موبائل مارکیٹ والوں نے پورا زور لگایا، پولیس کی معاونت کی تو چور نوجوان گوجرانوالہ سے ٹریس کر لیا گیا۔ جب دکاندار پولیس کو لے کر اس نوجوان کے گھر پہنچے تو اس طالب علم کے والدین نے اپنا بیٹا دکانداروں اور پولیس کے حوالے کر دیا کہ اگر اس نے جرم کیا ہے تو جو سزا ہے آپ اسے دلوائیں۔ اس نوجوان سے فون برآمد ہو گیا، پوچھ گچھ کے دوران معلوم ہوا کہ یہ نوجوان ویڈیو ایڈیٹنگ کا کام جانتا تھا، اس کے پاس موبائل نہیں تھا جس وجہ سے وہ کام نہ کر پاتا تھا۔ مجبور ہو کر اس نے یہ غلطی کی مگر دو راتوں میں اس نے چوری شدہ موبائل کے ذریعے ایڈیٹنگ کا کام کرکے دس ہزار روپے کما لیے تھے۔ دکاندار بھی سلجھے ہوئے لوگ تھے، یہ اس بچے کی مجبوری اور قابلیت سے متاثر ہوئے، نوجوان کے والدین کے تعاون کو دیکھ کر بھی یہ متاثر ہوئے تھے۔
پھر انہوں نے ایک فیصلہ کیا، تھانے سے ضروری کارروائی کے بعد یہ اپنے ملزم کو مارکیٹ لے آئے جہاں ڈھول کی تھاپ پر اس کا استقبال کیا، اسے ہار پہنائے گئے اور بہترین کھانا کھلا کر اسے اپنی گاڑی میں گوجرانوالہ اس کے والدین کے حوالے کر آئے۔ نوجوان کو نصیحت بھی کی کہ اپنی قابلیت اور صلاحیتیں مثبت طور پر استعمال کرو اور اپنے والدین کو کچھ بن کر دکھا دو۔ دکاندار کا موقف ہے کہ یہ نوجوان لڑکا تھا، اس کے سامنے پوری زندگی پڑی تھی، اگر ہم کارروائی کرتے اسے سزا دلواتے تو اس کا مستقبل خراب ہو سکتا تھا، ہم دکانداروں نے آپس میں مشورہ کیا اور اس نوجوان کو معاف کرنے کا فیصلہ کیا، اگر یہ نوجوان سمجھ جائے تو اس میں اس کے لیے بڑا سبق ہے۔ اللہ تعالیٰ انسان کے ہزاروں گناہ معاف کر دیتا ہے اور ہماری کیا اوقات کہ ہم اس کی ایک غلطی بھی معاف نہ کرتے۔ دعا ہے اللہ کریم اس نوجوان کو اچھی راہ پر چلنے کی توفیق عطا کرے اور معافی دینے والے دکانداروں کو بھی اس نیکی کا اجر دے۔
اس سے قبل ایک اور ملتا جلتا واقعہ جو کراچی میں ہوا جب ڈاکو لوٹ کر فون اور تھوڑے پیسے ایک غریب انسان سے لے جانے لگے، وہ ہاتھ جوڑ کر اپنی بچی کو اس ڈاکو کی موٹر سائیکل پر بٹھا دیا۔ ساتھ رپورٹ تھی، کہا پڑھ لو، یہ بچی کینسر کی مریضہ ہے، اس کے دن کم رہ گئے ہیں، ٹیسٹ کے بعد دوائی لینے جا رہا ہوں، اس بچی کو ساتھ لے جاؤ، مجھے اور اس دونوں کو مار دو۔ ڈاکو کو رحم آ گیا، اس شخص کو گلے لگایا اور موبائل و لوٹی ہوئی رقم واپس کر دی۔ یہ واقعہ ریل پر کئی دفعہ دیکھا اور اندازہ ہوا کہ ڈاکو بھی دل رکھتے ہیں، جہاں وہ سفاک، بے رحم اور شاطر ہوتے ہیں وہیں کسی مجبور و لاچار کی مجبوری نظر آئے تو رحم بھی کرتے ہیں۔ یہی دراصل مجبوری میں جرم کا ارتکاب کرنے والے ہوتے ہیں، ان کی تربیت اچھی رہی ہے، یہی وجہ ہے انہوں نے خیال کیا اور زیادتی نہیں کی۔ کراچی کے شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ڈاکو گولی نہ چلائیں، کئی قیمتی جانیں ان وارداتوں میں جا چکی ہیں بشمول پولیس جوانوں کے جو کراچی میں محفوظ نہیں۔ گزشتہ ہفتے اٹھائیس ہزار روپے اور وردی سے ڈاکوؤں نے پولیس جوان کو محروم کر دیا۔
اب ایک پولیس افسر کی حرکت دیکھیں۔ تم نے کیسے میرے گھر کے سامنے گاڑی کھڑی کی؟ ایک ڈی ایس پی صاحب جیسے محلے میں داخل ہوئے تو گھر کے سامنے گاڑی کھڑی کرنے پر ایک لڑکے کو تھپڑ مارے۔ جب لڑکے کے والد نے دیکھا کہ بیٹے کو مارا ہے تو اس نے موبائل نکال کر اعلیٰ افسران کو کہنے لگا کہ پورا محلہ اس انسان سے تنگ ہے، اور ایسا ہی تھا، پورا محلہ ڈی ایس پی صاحب سے تنگ تھا کیونکہ آتے جاتے وہ ہر کسی سے کسی نہ کسی بات پر لڑ پڑتے تھے۔ جب ڈی ایس پی نے دیکھا کہ ویڈیو بن رہی ہے تو انہوں نے اپنا سروس پسٹل نکال کر اندھا دھند چلا دیا جس سے چار لوگ زخمی ہو گئے۔ اس کے بعد ان کے سیکورٹی پر معمور کانسٹیبل اہلکار ان کو موقع سے لے گئے۔
یہ اکثر ہوتا ہے جب انسان ترقی کر جاتا ہے تو اس کو اپنے اردگرد والے کیڑے مکوڑے لگنے لگ جاتے۔ یہ دو انسانوں کا فرق ہے، ایک مجرم اور ایک سرکاری عہدے پر براجمان انسان بھی عجیب ہے، اس کو غصہ و تکبر کہیں کا نہیں چھوڑتا، وہ گرنے پر آئے تو جانوروں سے بدتر اور اٹھنے پر آئے تو لوگ عش عش کر اٹھتے ہیں۔ دعا ہے اللہ پاک ہماری ہدایت فرمائے اور ایسے امتحان سے محفوظ فرمائے جہاں شرمندگی اٹھانی پڑے۔











