دعا کی اہمیت!!!
قارئین! آج کا موضوع دعا کی اہمیت اور اس کی شرعی و روحانی حقیقت ہے۔ دعا عبادت کا مغز ہے۔ دعا کے لغوی معنی پکارنے، بلانے اور مانگنے کے ہیں۔ دعا کی حقیقت دو بنیادی عناصر سے مرکب ہے: اللہ تعالیٰ کے حضور بندگی، عاجزی اور اپنی قلت و ذلت کا اظہار، اور اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کی رحمت، عظمت اور قدرتِ کاملہ کا اعتراف۔ انہی دو باتوں سے دعا کی اصل روح وجود میں آتی ہے۔ بندہ اپنے خالق و مالک کو کبھی دل ہی دل میں پکارتا ہے اور اکثر اس کی زبان بھی اس کے دل کا ساتھ دیتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کو مغزِ عبادت اسی لیے قرار دیا ہے کہ انسان تمام مخلوقات سے امیدیں منقطع کر کے صرف اللہ رب العزت کو پکارتا ہے، اور یہی توحید اور اخلاص کی اصل حقیقت ہے۔ توحید و اخلاص سے بلند تر کوئی عبادت نہیں۔
ہم دعا کی اہمیت اور اس کی قبولیت پر کامل یقین رکھتے ہیں۔ انسان کے دل میں ہزاروں خواہشات اور آرزوئیں ہوتی ہیں اور وہ چاہتا ہے کہ اس کی یہ مرادیں پوری ہوں۔ کبھی انسان کسی سخت مشکل میں پھنس جاتا ہے اور دل چاہتا ہے کہ اس مصیبت سے نجات مل جائے، کبھی کاموں میں رکاوٹ سے پریشانی ہوتی ہے اور کبھی بہت ہی عام سی پریشانی کا سامنا ہوتا ہے، مثلاً گاڑی اسٹارٹ نہیں ہو رہی یا راستہ بھول گئے ہیں۔ الغرض مسئلہ بڑا ہو یا چھوٹا، دعا ایک ایسا روحانی ہتھیار ہے کہ انسان بے اختیار دل ہی دل میں بلا اور مصیبت کو دور کرنے کے لیے اللہ کے سامنے گڑگڑانے لگتا ہے۔ بندے کو احساس بھی نہیں ہوتا اور دعا زبان سے جاری ہو جاتی ہے۔ اسی طرح کوئی نعمت یا کامیابی حاصل کرنے کے لیے اچانک دعا زبان پر آ جاتی ہے، جیسے امتحان میں کامیابی ہو یا کوئی اچھی ملازمت حاصل کرنی ہو، دل بے اختیار دعا گو ہو جاتا ہے۔ انسان کا دل جتنا زیادہ بے چین ہوتا ہے یا کسی چیز کی جتنی شدید خواہش ہوتی ہے، اتنا ہی وہ دعا کا طالب ہوتا ہے۔
دعا درحقیقت عبادت کا مغز ہے۔ جس طرح انسانی دماغ پورے جسم کو متحرک رکھتا ہے اور اگر دماغ معطل ہو جائے تو جسم بھی مفلوج ہو جاتا ہے، اسی طرح اگر عبادت کے بعد دعا نہ کی جائے تو عبادت اپنے روح اور مقصد سے محروم معلوم ہوتی ہے۔ چونکہ انسان کو ہر چیز اللہ ہی سے مانگنی ہے، چاہے بڑی بڑی دنیوی خواہشات نہ بھی ہوں، مگر دنیا میں رہتے ہوئے دنیوی ضرورتیں بھی پیش آتی ہیں اور آخرت کی فلاح کے لیے بھی مانگا جاتا ہے۔ اگر انسان عبادت کے بعد اللہ کے حضور گڑگڑا کر مانگے گا تب ہی اس کا اللہ کی ذات پر کامل یقین ثابت ہوگا۔
آج کل کی مصروف زندگی میں لوگوں کو دعا مانگنے کی بھی فرصت نہیں ملتی۔ ہمیں اللہ پر یقین بھی ہے اور دعا کی اہمیت کا علم بھی ہے، مگر نماز کے بعد بے شمار دنیوی کام یاد آنے لگتے ہیں جس کی وجہ سے دعا میں دل نہیں لگ پاتا۔ حالانکہ دعا تو نام ہی اللہ تعالیٰ سے مانگنے کا ہے، تو کیوں نہ انسان وقت میں برکت کی دعا کرے تاکہ تمام ذمہ داریاں اور کام سہولت کے ساتھ انجام پا سکیں۔ بدقسمتی سے ہم دعا کو وہ اہمیت نہیں دیتے جو اس کا حق ہے۔ نماز مشکلات کو دور کرتی ہے، دلوں کو سکون بخشتی ہے اور رحمت و برکت کا ذریعہ ہے، لیکن اگر سلام پھیرنے کے بعد تھوڑی دیر بیٹھ کر دل لگا کر دعا بھی کر لی جائے تو یہ ایک مکمل اور جامع عبادت بن جاتی ہے۔ ہم دعا اپنے لیے کرتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ اس بات سے خوش ہوتا ہے کہ اس کے بندے نے اسے پکارا۔ تاہم یہ پکارنا دکھاوے اور ریا کاری کے لیے نہیں ہونا چاہیے بلکہ پور خلوص اور ہم آہنگی کے ساتھ دل سے اللہ سے دعا کی جائے۔ دعا میں حد سے تجاوز نہ کیا جائے اور نہ ہی دعا کو بالکل چھوڑ دیا جائے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو خشوع و خضوع کے ساتھ دعا کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہماری تمام جائز دعاؤں کو قبول فرمائے۔آمین ثمہ آمین۔











