گورنر راج!!!

0
11
عامر بیگ

تیسری بار ملک پاکستان کے مختلف صوبوں میں گورنر راج لگایا گیا ہے اور تینوں دفعہ آصف زرداری کے قلم کے ذریعے لگا جو جمہوریت کو بہترین انتقام کہتے ہیں۔ بہرحال یہ طے کرنا ابھی باقی ہے کہ آیا یہ انتقام جمہور یعنی عوام سے ہے یا کسی اور سے۔ صدر مملکت آصف علی زرداری نے وزیراعظم شہباز شریف کے مشورے اور وفاقی کابینہ کی سفارش پر آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت اس کی منظوری دی جس کے نتیجے میں پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کے اختیارات ختم کرکے انتظامی معاملات گورنر اور ایک مشاورتی کونسل کے سپرد کر دئیے گئے۔ وفاقی حکومت نے اس اقدام کی بنیاد دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرات اور صوبائی حکومت کی جانب سے انسداد دہشت گردی میں مبینہ عدم تعاون کو قرار دیا ہے جبکہ پی ٹی آئی نے اسے اپنے انتخابی مینڈیٹ اور صوبائی خودمختاری پر حملہ قرار دیا ہے۔ حکومت کے مطابق صوبائی انتظامیہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر کردار ادا نہیں کر رہی تھی اور وفاق و صوبے کے درمیان تعاون میں سنگین مسائل پیدا ہو چکے تھے۔ اس کے برعکس پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے مسئلے کو سیاسی اختلافات کے ساتھ جوڑ کر منتخب حکومت کو ہٹانا صوبائی عوام کے مینڈیٹ کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہے۔
یہاں دو بنیادی پہلوؤں کو الگ الگ دیکھنا ضروری ہے۔ پہلا، خیبر پختونخوا میں دہشت گردی اور شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ایک حقیقی، دیرینہ اور سنگین مسئلہ ہے جس کے حل کے لیے مؤثر حکمت عملی درکار ہے۔ دوسرا، کسی منتخب صوبائی حکومت کے اختیارات ختم کرنا آئینی، سیاسی اور جمہوری اعتبار سے غیر معمولی قدم ہے جس کے لیے شفاف جواز اور مؤثر قانونی نگرانی ضروری ہے۔ آئین کا آرٹیکل 232 مخصوص حالات میں ہنگامی حالت کے نفاذ سے متعلق ہے جبکہ آرٹیکل 234 اس صورت حال کا احاطہ کرتا ہے جب کسی صوبے میں آئینی نظام کے مطابق حکومت چلانا ممکن نہ رہے۔ ان اختیارات کا استعمال آئینی شرائط اور متعلقہ منظوریوں کے تابع ہے۔ خصوصاً اندرونی بدامنی کی بنیاد پر ایمرجنسی کے معاملے میں صوبائی اسمبلی کی قرارداد سے متعلق آئینی شرط بھی اہم ہے۔
گورنر راج کے اعلان کو محض سیاسی فیصلہ سمجھ کر اس کے قانونی تقاضوں کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، لہٰذا اس اقدام کی قانونی حیثیت، اس کے جواز، مدت اور پارلیمانی نگرانی کا جائزہ ضروری ہے۔ قومی سلامتی کے تقاضے اپنی جگہ، مگر آئینی اختیار کا استعمال بھی آئین ہی کی حدود کے اندر ہونا چاہیے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں منتخب حکومتوں اور غیر منتخب انتظامی بندوبست کے درمیان کشمکش کوئی نئی بات نہیں، تاہم ہر نئے بحران کے ساتھ یہ سوال مزید اہم ہو جاتا ہے کہ سیاسی اختلافات کا فیصلہ انتخابی عمل، پارلیمانی مکالمے اور عدالتی طریقہ کار سے ہوگا یا انتظامی اختیارات کے ذریعے؟ اب اگر کوئی اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کرے تو وہاں آئینی عدالت بھی ان کی جیب میں تصور کی جاتی ہے۔ خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے بعد ایک بڑا خدشہ یہ ہے کہ سیاسی جماعتیں اپنے مخالفین کے خلاف غیر معمولی آئینی اقدامات کو معمول کا سیاسی ہتھیار سمجھنے لگیں۔ اگر ایک جماعت کے نزدیک ایسا اقدام قومی سلامتی کا تقاضا ہو اور دوسری کے نزدیک سیاسی انتقام، تو اس اختلاف کو شواہد، پارلیمانی بحث اور عدالتی جانچ کے ذریعے حل کرنا ضروری ہے۔ اس فیصلے سے وفاق اور صوبوں کے تعلقات پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔ صوبائی خودمختاری کا تصور صرف آئینی کتابوں میں درج اختیارات کا نام نہیں بلکہ اس اعتماد کا بھی نام ہے کہ صوبوں کے عوام اپنے ووٹ کے ذریعے اپنی حکومت منتخب کر سکتے ہیں اور اس حکومت کو آئینی مدت کے دوران کام کرنے کا مناسب موقع ملے گا۔ اگر عوام کے ایک بڑے حصے میں یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ انتخابی مینڈیٹ کو انتظامی فیصلوں کے ذریعے ختم کیا جا سکتا ہے تو جمہوری اداروں پر اعتماد متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ دوسری طرف اگر کوئی صوبائی حکومت واقعی شہریوں کے تحفظ میں ناکام ہو تو وفاق سے جواب طلبی بھی جائز اور ضروری ہے۔ اصل چیلنج یہ ہے کہ احتساب اور صوبائی خودمختاری کے درمیان آئینی توازن کیسے قائم رکھا جائے۔۔۔جاری ہے!

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here