معاشی اور سیاسی بحرانوں میں گھرا پاکستان!!!

0
12
جاوید رانا

شکاگو کی پرسکون فضا میں بیٹھے ہوئے جب دیس کی خبریں کانوں میں پڑتی ہیں تو دل خون کے آنسو روتا ہے اور روح پر ایک عجیب سی اداس افسردگی چھا جاتی ہے۔ جب انسان سمندر پار بیٹھا ہو تو فاصلے جسمانی ہوتے ہیں لیکن دل اور روح کی ڈوریاں ہمیشہ مادرِ وطن کیساتھ بندھی رہتی ہیں۔ آج جب ہم اپنے پیارے وطن کے حالات پر نظر ڈالتے ہیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کسی گہری اور تاریک سرنگ میں روشنی کی کوئی کرن باقی نہیں رہی ہے۔ دنیا کے تمام بڑے بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور معاشی رپورٹوں نے یہ تلخ حقیقت عیاں کر دی ہے کہ پاکستان معاشی بدحالی اور انتہائی درجے کی غربت کے لحاظ سے پہلے نمبر پر آ چکا ہے۔ جو قومیں کبھی خود کفالت اور خودداری کی علامت ہوا کرتی تھیں آج ان کے باسی دو وقت کی روٹی کے لیے ترس رہے ہیں اور معاشی پہیہ اس طرح جام ہو چکا ہے کہ غریب کی زندگی عذاب بن گئی ہے۔ معاشی تباہی کے ساتھ ساتھ بدامنی اور دہشت گردی کے طوفان نے بھی ملک کو اس طرح اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے کہ ہر طرف لاشیں اور سسکیاں ہی سنائی دیتی ہیں، اور اس گھمبیر صورتحال نے پاکستان کو دہشت گردی کے عالمی اعشاریوں میں بھی سرفہرست لا کھڑا کیا ہے۔
ان اندوہناک حالات کے درمیان خیبر پختونخواہ کی سرزمین پر جو خونیں ڈرامہ رچایا گیا ہے اور جمہوریت کے نام پر جو سنگین گھناؤنے کھیل کھیلے گئے ہیں انھوں نے اس ملک کی بقاء کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔ خیبر پختونخواہ میں ایمرجنسی کا نفاذ اور سخت ترین پابندیوں کا مسلط کیا جانا دراصل اس ملک کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی ایک سوچی سمجھی اور خطرناک سازش کا حصہ ہے۔ صوبائی سطح پر دھونس اور طاقت کے بل بوتے پر فیصلے مسلط کرنے کی جو روش اختیار کی گئی ہے اس نے پختون قوم کو دیوار سے لگا دیا ہے۔ سیاسی اسٹیبلشمنٹ کے وہ پرانے کردار جو ماضی میں بھی اقتدار کے ایوانوں پر قابض رہے ہیں آج پھر اسی پرانی فرودہ روش پر گامزن ہیں، جنھوں نے کبھی بھٹو کے دور میں بھی جمہوریت کا گلا گھونٹا تھا اور آج بھی وہی چہرے جمہوریت کے نام نہاد چمپئن بن کر عوام کے حقوق کا سودا کر رہے ہیں۔ اقتدار کی ہوس میں اندھے ہو جانے والے ان عناصر نے کبھی بے نظیر کو تختہ مشق بنایا اور کبھی آئین و قانون کو پاؤں تلے روندا، آج وہی عناصر ملک کے سب سے حساس صوبے کو آگ اور خون کے دریا میں دھکیل رہے ہیں۔ طاقت کے نشے میں چور حکمرانوں نے آج زرداری اور نون لیگ کی قیادت میں وہ سیاہ کارنامے انجام دئیے ہیں جو تاریخ کے کسی بھی دور میں معاف نہیں کیے جا سکتے ہیں، اور اپنے ہی عوام کیخلاف طاقت کا استعمال دراصل اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ حکمراں طبقہ اس ملک کے وجود کا دشمن بن چکا ہے۔
جب وطن عزیز کی اس افسوسناک حالت پر نظر ڈالی جاتی ہے تو تارکین وطن کے سینوں میں ایک کسک سی اٹھتی ہے۔ ہم شکاگو یا دنیا کے دوسرے کونوں میں بیٹھ کر اپنے بزرگوں کی سرزمین کو یوں تڑپتا ہوا دیکھتے ہیں تو بے اختیاری کا احساس دل کو چیر دیتا ہے۔ ہمارے دلوں میں ہر پل یہ خوف دامن گیر رہتا ہے کہ خدانخواستہ یہ ملک مزید کسی بڑے حادثے کا شکار نہ ہو جائے، کیونکہ جس بے دردی کے ساتھ اس خطے کو توڑا اور نوچا جا رہا ہے اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اسے مشرق وسطی کی طرح چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں تقسیم کرنے کے ناپاک عزائم پر عمل جاری ہے۔ کسی بھی مہذب معاشرے اور جمہوری نظام کی بنیادی روح بات چیت اور باہمی مکالمے پر استوار ہوتی ہے، لیکن المیہ یہ ہے کہ آج پاکستان میں بات چیت کے دروازے ہمیشہ کے لیے بند کر دئیے گئے ہیں اور اس کے بدلے بندوق کی زبان کو اختیار کیا گیا ہے۔ گورنر کے محلات اور اقتدار کے مراکز میں افواج کو تعینات کر کے اپنے ہی شہریوں کو دشمن بنا لیا گیا ہے۔
پٹھان بھائیوں پر جو مظالم ڈھائے جا رہے ہیں اور ان پر جو طاقت کے بھرپور وار کیے جا رہے ہیں وہ انسانی تاریخ کا ایک سیاہ باب ہیں۔ ان کے گھروں کو اجاڑا جا رہا ہے، خواتین اور بچوں کو سڑکوں پر گھسیٹا جا رہا ہے، ان پر سیدھی گولیاں برسائی جا رہی ہیں اور آنسو گیس کے وہ طوفان چھوڑے جا رہے ہیں جن سے فضا زہریلی ہو چکی ہے۔ ان بدقسمت علاقوں میں انٹرنیٹ مواصلات اور فون کی تمام سہولتیں معطل کر کے لوگوں کو بیرونی دنیا سے مکمل طور پر کاٹ دیا گیا ہے۔ انٹرنیٹ سروس بند کر دی گئی ہے اور زندگی کی بنیادی سہولتیں تک چھین لی گئی ہیں۔ یہ سوچنے کا مقام ہے کہ کیا ہم کسی مہذب انسانوں کی بستی میں رہ رہے ہیں یا کسی ایسے جنگل میں جہاں طاقتور کا قانون چلتا ہے اور کمزور کی کوئی داد و فریاد سننے والا نہیں ہے۔
آج یہ سوال ہر ذی شعور پاکستانی کے دل میں انگاروں کی طرح سلگ رہا ہے کہ کیا اس ملک کے کرتا دھرتا اور حکمراں اپنی تمام زندگیاں اسی طرح اقتدار کے مزے لوٹتے ہوئے گزاریں گے؟ انھیں اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ عام انسان کس کرب سے گزر رہا ہے کیونکہ ان کے اپنے کاروبار، جائیدادیں اور اولادیں سمندر پار محفوظ محلات میں عیش و عشرت کی زندگی بسر کر رہی ہیں۔ ان کی اپنی تمام تر سرمایہ کاری اور مفادات باہر کے ملکوں میں محفوظ ہیں جبکہ یہاں کے غریب عوام کو غربت اور تباہی کی بھٹی میں جھونک دیا گیا ہے۔ ان لوگوں نے اپنے اقتدار کی خاطر اس ملک کے باسیوں کو اس نہج پر لا کھڑا کیا ہے جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ دکھائی نہیں دیتا۔
ہمیں اس بات کا شدید خوف ہے کہ وہ دن اب زیادہ دور نہیں ہے جب ان ظالمانہ اور جابرانہ ہتھکنڈوں کے نتیجے میں اس ملک کا شیرازہ ہمیشہ کے لیے بکھر جائے گا۔ مگر اس کے باوجود ہماری یہ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس ارضِ پاک کو اپنی حفظ و امان میں رکھے اور ان تمام عناصر کے شر سے بچائے جو اس کی بقا کے دشمن بنے بیٹھے ہیں۔ تارکین وطن کی حیثیت سے ہم صرف یہ کر سکتے ہیں کہ دور بیٹھے اپنے وطن کے لیے دعائیں کریں اور ان ناانصافیوں کے خلاف اپنی آواز بلند کریں، تا کہ تاریخ کے اس نازک موڑ پر کوئی تو ہو جو مظلوموں کی آواز بن سکے۔
٭٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here