سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان بڑھتی کشیدگی!!!

0
12

اکتوبر میں سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان کشیدگی میں اضافے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں اور باب المندب آبنائے سے متعلق سکیورٹی اور سیاسی تنازعات اس بحران کے اہم پہلوؤں میں شامل ہیں۔ یہ خطہ سعودی عرب اور یمن کے لیے اہم ہونے کے ساتھ ساتھ عالمی تجارت، توانائی کی ترسیل اور بین الاقوامی بحری آمدورفت کے لیے بھی اہم سمجھا جاتا ہے۔ حالیہ واقعات کے بعد یہ خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ اگر فریقین نے تحمل کا مظاہرہ نہ کیا تو کشیدگی مزید پھیل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق سعودی عرب حوثیوں کی عسکری سرگرمیوں کا جواب دینے اور اپنی سرحدی و شہری تنصیبات کے تحفظ کے لیے مختلف فوجی اختیارات پر غور کر رہا ہے۔ دوسری جانب حوثیوں کی جانب سے سعودی تنصیبات کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کے دعوے اور اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق ریاض کے ہوائی اڈے پر حملوں کے بعد فضائی سفر بھی متاثر ہوا ہے۔ تاہم ان واقعات کی تفصیلات اور ذمہ داری سے متعلق فریقین کے بیانات میں اختلاف پایا جاتا ہے۔
ان واقعات کے اثرات فوجی تنصیبات تک محدود رہنے کے بجائے شہری زندگی، معیشت اور بنیادی سہولتوں تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔ ہوائی اڈوں کی سرگرمیوں میں خلل، پروازوں کی منسوخی اور مسافروں کو پیش آنیوالی مشکلات اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ کشیدگی روزمرہ زندگی کو متاثر کر رہی ہے۔ اگر حملوں اور جوابی کارروائیوں کا سلسلہ جاری رہا تو سعودی شہری علاقوں میں سکیورٹی خدشات بڑھ سکتے ہیں، جبکہ یمن میں پہلے سے موجود انسانی بحران مزید سنگین ہونے کا امکان ہے۔
سعودی عرب کے مطابق حوثیوں کی جانب سے مبینہ میزائل اور ڈرون حملے قومی سلامتی کے لیے ایک اہم خطرہ ہیں۔ سودی حکام کا کہنا ہے کہ سعودی عرب اپنی سرحدوں، شہری مراکز، تیل کی تنصیبات اور مواصلاتی ڈھانچے کے تحفظ کے لیے اقدامات کا حق رکھتا ہے۔ سعودی حکام کے مطابق ایسے حملوں سے شہریوں کی سلامتی اور اقتصادی سرگرمیاں متاثر ہو سکتی ہیں۔ تاہم کسی بڑے فوجی آپریشن کے ممکنہ نتائج پر بھی تشویش پائی جاتی ہے، کیونکہ ماضی کے تجربات کے مطابق یمن میں فوجی کارروائی سے تنازع مزید پیچیدہ ہو سکتا ہے۔جبکہ حوثیوں کی جانب سے یہ مؤقف پیش کیا جاتا ہے کہ ان کی کارروائیاں اپنے زیرِ اثر علاقوں اور سیاسی مفادات کے دفاع کے لیے ہیں۔ ان کے مطابق سعودی عرب کی فوجی مداخلت یمن کی خودمختاری کو متاثر کرتی ہے، جبکہ سعودی عرب اور اس کے اتحادی ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اپنی کارروائیوں کو سکیورٹی اور دفاعی ضرورت قرار دیتے ہیں۔ میزائل اور ڈرون حملوں کے نتیجے میں شہری آبادی، ہوائی اڈوں اور اقتصادی مراکز کو لاحق خطرات کے بارے میں بھی مختلف دعوے سامنے آتے رہے ہیں۔ آزادانہ طور پر تمام واقعات کی تصدیق مشکل ہونے کے باوجود یہ واضح ہے کہ عام شہری دونوں جانب سکیورٹی خدشات اور انسانی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
اس تنازعے کا نمایاں انسانی پہلو عام شہریوں کی مشکلات ہیں۔ یمن پہلے ہی برسوں کی جنگ، معاشی تباہی، بے روزگاری، مہنگائی اور خوراک کی قلت سے متاثر ہے۔ لاکھوں افراد بنیادی صحت کی سہولتوں، صاف پانی اور مناسب رہائش تک محدود رسائی رکھتے ہیں۔ مزید لڑائی کی صورت میں خاندانوں کے بے گھر ہونے، اسکولوں اور اسپتالوں کے متاثر ہونے اور امدادی سامان کی ترسیل میں رکاوٹ کا خدشہ ہے،اقوام متحدہ اور امدادی اداروں کے مطابق ایسے حالات میں ضرورت مند افراد تک رسائی مشکل ہو سکتی ہے۔ جنگی علاقوں میں سڑکیں غیر محفوظ ہونے، بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں کی سرگرمیاں محدود ہونے اور امدادی کارکنوں کو خطرات لاحق ہونے کے باعث امدادی کارروائیاں متاثر ہو سکتی ہیں۔ اگر بحیرہہ احمر کے راستے غیر محفوظ یا محدود ہوئے تو خوراک،تیل اور طبی سامان کی ترسیل مزید مہنگی اور مشکل ہونے کا امکان ہے، جس کا اثر کم آمدنی والے خاندانوں پر پڑ سکتا ہے۔
بحیرہ? احمر اور باب المندب کی اہمیت عالمی سطح پر بھی نمایاں ہے۔ یہ راستہ ایشیا، افریقہ اور یورپ کے درمیان تجارت کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اگر یہاں سکیورٹی کی صورتِ حال خراب ہوئی تو بحری جہازوں کو متبادل اور طویل راستے اختیار کرنا پڑ سکتے ہیں، جس سے نقل و حمل کے اخراجات بڑھ سکتے ہیں۔ تیل، گیس اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر بھی اثر پڑنے کا امکان ظاہر کیا جاتا ہے۔ اس طرح یمن کا بحران مقامی اور علاقائی اثرات کے علاوہ عالمی معیشت کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس بحران کا مستقل حل صرف فوجی اقدامات سے حاصل کرنا مشکل ہوگا۔ سعودی عرب اپنی سرحدوں اور شہری تنصیبات کے تحفظ کو بنیادی ترجیح قرار دیتا ہے، جبکہ حوثی اپنے سیاسی اور علاقائی مطالبات کے تحفظ پر زور دیتے ہیں۔ طویل مدتی امن کے لیے ان دونوں مؤقف کے ساتھ ساتھ یمن کے دیگر سیاسی فریقوں کو بھی مذاکراتی عمل میں شامل کرنا ضروری سمجھا جاتا ہے۔ کسی بھی سیاسی حل میں یمنی عوام کی ضروریات، نمائندگی اور مستقبل کے بارے میں ان کی رائے کو اہمیت دینا ہوگی۔
ایران اور سعودی عرب کے درمیان سفارتی رابطے بھی کشیدگی کم کرنے میں معاون ہو سکتے ہیں۔ اگر دونوں ممالک براہِ راست یا بالواسطہ مذاکرات کے ذریعے تناؤ کم کرنے پر آمادہ ہوں تو یمن میں جنگ بندی کے امکانات بہتر ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح اقوام متحدہ کی نگرانی میں قیدیوں کے تبادلے، انسانی امداد کی فراہمی، بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں کے تحفظ اور مستقل جنگ بندی کے لیے عملی اقدامات پر غور کیا جا سکتا ہے۔
اگر جنگ کا دائرہ وسیع ہوا تو اس کے اثرات سعودی اور یمنی شہریوں کے ساتھ ساتھ علاقائی سلامتی اور عالمی تجارتی راستوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ موجودہ حالات میں ایک ایسے سیاسی سمجھوتے کی ضرورت ہے جو تمام فریقوں کے سکیورٹی خدشات کو تسلیم کرتے ہوئے انسانی جانوں کا تحفظ کرے، عالمی تجارتی راستوں کو محفوظ بنائے اور یمن کو طویل بحران سے نکلنے کا موقع فراہم کرے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here