جیمز کومی کی بیٹی کی برطرفی کیس میں ٹرمپ کا صدارتی استحقاق مسترد

0
7

واشنگٹن (پاکستان نیوز)وفاقی جج نے صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کی اس کوشش کو ناکام بنا دیا ہے جس میں صدارتی استحقاق کا سہارا لے کر سابق ایف بی آئی ڈائریکٹر جیمز کومی کی بیٹی کی برطرفی کی تحقیقات کو روکنے کی استدعا کی گئی تھی۔ امریکی ضلعی جج جیسی فرمان نے مین ہٹن میں ایک تحریری حکم نامے میں حکومت کی اس درخواست کو مسترد کر دیا۔ واضح رہے کہ سابق وفاقی پراسیکیوٹر مورین کومی نے سال 2025 میں اپنی نوکری سے برطرف کیے جانے کیخلاف مقدمہ دائر کیا تھا اور وہ قانون کے ذریعے یہ جاننا چاہتی ہیں کہ انہیں کس نے اور کیوں عہدے سے ہٹایا۔ محکمہ انصاف نے جون کے مہینے میں عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس مقدمے کی کارروائی کو روکا جائے کیونکہ اس قانونی عمل سے صدارتی استحقاق کے سنگین مسائل پیدا ہوں گے اور حکومت کے دو اہم اداروں کے درمیان ٹکراؤ کا خطرہ ہے۔ تاہم مورین کومی کے وکلائ نے اس حکومتی دلیل کو قبل از وقت اور بے بنیاد قرار دیا اور عدالت میں یہ مؤقف اختیار کیا کہ حکومت اس استحقاق کو قانونی کارروائی سے بچنے کے لیے ایک ڈھال کے بجائے تلوار کے طور پر استعمال نہیں کر سکتی۔ جج فرمان نے کومی کے وکلاء کے مؤقف سے مکمل اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ اس مقدمے سے منسلک مطلوبہ معلومات کو عدالت کے روایتی طریقہ کار کے تحت بخوبی سنبھالا جا سکتا ہے۔ مورین کومی کا اپنی شکایت میں الزام ہے کہ انہیں ان کے والد جیمز کومی کی وجہ سے نوکری سے نکالا گیا جو طویل عرصے سے ڈونلڈ ٹرمپ کی شدید تنقید کا نشانہ بنتے رہے ہیں یا پھر اس کی وجہ ان کے سیاسی نظریات ہو سکتے ہیں۔ انہیں 16 جولائی 2025 کو شام 4:57 پر ایک ای میل موصول ہوئی جس میں آئین کے آرٹیکل 2 کا حوالہ دے کر انہیں فوری طور پر عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ حکومت نے بعد میں یہ تسلیم کیا کہ وہ ایک بہترین افسر تھیں اور انہیں کسی خامی یا غفلت کی بنا پر نہیں نکالا گیا۔ کومی کے دعوے کے مطابق اس وقت کے عبوری امریکی اٹارنی جے کلیٹن نے انہیں صرف اتنا بتایا تھا کہ یہ فیصلہ واشنگٹن سے آیا ہے اور وہ مزید کچھ نہیں بتا سکتے۔ اب حکومت کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ سابق اٹارنی جنرل پام بونڈی نے کیا تھا لیکن وکلائ کے مطابق اس حوالے سے کوئی سرکاری ریکارڈ موجود نہیں ہے جس سے ثابت ہو کہ بونڈی نے یہ حکم دیا تھا۔ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ جیمز کومی کو بھی سال 2025 میں پام بونڈی کی تعینات کردہ ایک پراسیکیوٹر لنڈسے ہالیگن نے فرد جرم کا نشانہ بنایا تھا تاہم بعد میں ایک جج نے اس تعیناتی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے وہ تمام چارجز مسترد کر دیے تھے۔ اب محکمہ انصاف اس عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل کر رہا ہے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here